نظرثانی کی ضرورت
Al-Risala, July 2011, pp. 22–24
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلم دنیا کے ایک مشہور عرب عالم کو ہندوستان بلایا گیا۔ یہاں تین دن کے اندر اُن کے مختلف پروگرام ہوئے، دہلی میں بھی اور دہلی سے باہر بھی۔ ان پروگراموں میں دہلی کے مسلمانوں کے علاوہ، اطراف کے مسلمان بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
مذکورہ عرب عالم کا خصوصی پروگرام 27 مارچ 2011 کو، دہلی کی شاہی جامع مسجد میں ہوا۔ انھوں نے ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کے مجمع میں عربی زبان میں ایک تقریر کی۔ اُن کی اس تقریر کی رپورٹ دہلی کے اردو اخبار راشٹریہ سہارا (28 مارچ 2011) میں چھپی ہے۔ اس تقریر کا عنوان یہ ہے: ”قرآن اور تعلیماتِ رسول میں مسلمانوں کے مسائل کا حل‘ یہ عنوان مذکورہ تقریر کا خلاصہ ہے۔ مگر اس تقریر میں مسلمانوں کے لیے کسی متعین راہِ عمل کی نشان دہی موجود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان پچھلے دو سو سال سے قرآن اور تعلیماتِ رسول کے نام پر بے شمار سرگرمیاں جاری کئے ہوئے ہیں۔ ہر مسجد، ہر مدرسہ، ہر مسلم ادارہ، ہر مسلم اسٹیج پر اسی کا چرچا ہے۔ ایسی حالت میں، اصل سوال یہ نہیں ہے کہ قرآن اور تعلیماتِ رسول میں مسلمانوں کے مسائل کا حل موجود ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ قرآن اور تعلیماتِ رسول کے نام پر زبردست سرگرمیوں کے باوجود کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے مسائل حل نہیں ہوئے۔
دو سو سال پہلے جس طرح مسلم رہنما ساری دنیا میں سازش اور ظلم کی بات کرتے تھے، آج بھی تمام مسلم رہنما ظلم اور سازش کی شکایت کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں اصل کام ماضی کی مسلم سرگرمیوں کا تنقیدی جائزہ ہے، اور جب ان سرگرمیوں کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان مسلم رہنماؤں نے قرآن اور سنت کے نام پر پُر جوش تقریریں کیں، لیکن وہ صحیح راہِ عمل کی نشان دہی نہ کر سکے۔ صحیح راہِ عمل ہے— مسائل (problems) کا چرچا کرنے کے بجائے مواقع (opportunities) کو دریافت کرنا اور دانش مندی کے ساتھ ان مواقع کو اپنے حق میں استعمال کرنا۔
خدا کی طرف Road to God کہا جاتا ہے کہ حجری دور (stone age) میں ایک بار ایسا ہوا کہ دو آدمی کسی بات پر غصہ وہ ایک دوسری کے طرف پتھر پھینکنے لگے۔ اتفاق سے ایک شخص کا پتھر دوسرے شخص کے پتھر سے ٹکرا گیا۔ اُس وقت دو پتھر کے ٹکرانے سے اسپارکنگ (sparking) ہوئی۔ پتھر سے ایک چنگاری اس چنگاری کو دیکھ کر دونوں آدمی اپنا غصہ بھول گئے۔ دونوں آدمی اپنے اپنے پتھر کو لے کر اس کو دیکھنے لگے، تاکہ وہ چنگاری کا راز دریافت کریں۔
کہا جاتا ہے کہ یہی وہ واقعہ ہے جہاں سے سچائی کی تلاش کا آغاز ہوا۔ لوگ اس سوال پر غور کرنے لگے کہ کیا یہاں انسان اور مادہ (matter) کے سوا کوئی اور طاقت موجود ہے۔ یہ سوال دھیرے دھیرے خدا کے تصور تک پہنچا۔ یہ سیکولر مفکرین کا نظریہ ہے۔ مگر اسلام کا تصور یہ ہے کہ پہلے انسان (آدم) ہی سے خالق کے وجود کا تصور انسان کے علم میں آچکا تھا۔ پتھر کے ٹکرانے کا واقعہ اگر درست ہو تو یہ فطرت کے قانون کو تلاش کرنے کا آغاز تھا، نہ کہ خدا کو تلاش کرنے کا آغاز۔ ہر پیغمبر نے یہی بتایا کہ اس عالمِ موجودات کا ایک خدا ہے اور انسان کو چاہیے کہ وہ اُسی خدا کو اپنا معبود بنائے اور اُسی کی عبادت کرے۔ قرآن اس پیغمبرانہ الہام کا ایک محفوظ و مستند مجموعہ ہے۔ قرآن کی سورہ الذاریات میں انسان کے مقصد تخلیق کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وما خلقت الجن والانس إلا ليعبدون (56 : 51) یعنی میں نے جن کو اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن عباس کا قول ہے کہ اس آیت میں لیعبدون سے مراد ليعرفون ہے، یعنی اس آیت میں ، اللہ کی عبادت سے مراد اللہ کی معرفت حاصل کرنا ہے۔ خدا کی معرفت کیا ہے ۔ خدا اس کائنات کا خالق ہے۔ اُس کی معرفت یہ ہے کہ تخلیق میں خالق کو دریافت (discover) کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تخلیق اپنے آپ میں خالق کا مکمل تعارف ہے۔
ہمیشہ انسان تخلیق میں خالق کو دیکھتا رہا ہے۔ موجودہ زمانے میں نیچر کے بارے میں سائنس کی دریافتوں نے تعارف کے اس دائرے کو ہزاروں گنا زیادہ حد تک بڑھادیا ہے۔ یہاں اس سلسلے میں ایک بنیادی پہلو کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس بنیادی پہلو کو سامنے رکھنا بہت ضروری ہے، ورنہ اندیشہ ہے کہ خدا کے بارے میں انسان کا مطالعہ اس کو یقین کے بجائے کنفیوژن تک پہنچادے، وہ خدا کی طرف سفر کرتے ہوئے کسی غیر خدا کی منزل تک پہنچ جائے۔ موجودہ زمانے میں سائنس کے حوالے سے خدا کے وجود (existence of God) کو ثابت کرنے کے لیے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔
Nature and Science Speaks about God The Evidence of God in an Expanding Universe الله يتجلى في عصر العلم (انگریزی سے ترجمہ)
مگر سائنس کے بارے میں یہ بات متفق علیہ ہے کہ سائنس کامل علم کا نام نہیں۔ دریافتوں کے باوجود جہاں تک پہنچی ہے یا پہنچ سکتی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ وہ کسی بھی موضوع پر صرف جزئی علم دے سکے۔ اس حقیقت کو جے این سلیون (JN Sullivan) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: Science gives us but a partial knowledge of reality. حقیقت یہ ہے کہ خدا کی دریافت کا سفر بنیادی طور پر دومرحلوں میں طے ہوتا ہے۔ وہ ہے جو عقلی غور وفکر اور سائنسی معلومات کے ذریعے طے ہوتا ہے۔ یہ ذریعہ بلاشبہ نہایت اعلیٰ ذریعہ لیکن وہ اپنے آخری درجے میں بھی ایک مسافر حق کو جہاں پہنچاتا ہے، وہ صرف احتمال (probability) ہے، یعنی— امکانی طور پر یہاں ایک خدا کا وجود ہے: