سوشل انارکی
Al-Risala, January 2011, pp. 31–32
By Maulana Wahiduddin Khan
سوشل انارکی کیا ہے۔ وہ انسانی آزادی کا غلط استعمال ہے۔ انسان اپنی آزادی کو اگر محدود طور پر استعمال کرے تو اس سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی، لیکن اگر وہ اپنی آزادی کو لامحدود طور پر استعمال کرنے لگے تو اس کے بعد لازماً وہی چیز پیدا ہوگی جس کو سوشل انارکی کہا جاتا ہے۔ ایک کتاب چھپی ہے۔ اس کے مصنف پروفیسر بی ایف اسکنر (B F Skinner) ہیں۔ کتاب کا ٹائٹل یہ ہے: (Freedom and Dignity)۔ اس کتاب میں مصنف نے لامحدود آزادی کے نظریے پر تنقید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ـــ ہم لامحدود آزادی کا تحمّل نہیں کر سکتے: We can't afford unlimited freedom. ایک واقعہ اس معاملے کو بخوبی طور پر واضح کرتا ہے۔ ڈیڑھ سو سال پہلے جب امریکا کو
آزادی ملی تو ایک امریکی شخص بہت خوش ہوا۔ وہ اپنے گھر سے نکل کر قریب کی ایک سڑک پر چل رہا خوشی میں وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو بہت زیادہ ہلا رہا تھا۔ اس دوران وہاں سے ایک اور امریکی شخص اُس وقت یہ ہوا کہ پہلے شخص کا ہاتھ دوسرے شخص کی ناک پر لگ گیا۔ دوسرے شخص نے کہا۔ یہ تم نے کیا کیا، تم نے کیوں میری ناک پر مارا۔ پہلے شخص نے جواب دیا کہ امریکہ آج آزاد ہے، میں آزاد ہوں کہ جو چاہوں کروں۔ دوسرے شخص نے کہا کہ ـــ تمھاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے: