Al-Risala · July 2011

Hypothesis, Observation, Verification

Al-Risala, July 2011, pp. 26–28

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ایک سوچنے والے دماغ میں ایک تصوراتی مفروضہ آتا ہے۔ کے بعد وہ متعلق شواہد کی تحقیق کرتا ہے۔ اگر یہ شواہد اس کے مفروضہ کی تصدیق کریں تو اس کے بعد اس کا مفروضہ ایک مسلمہ حقیقت بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ وجدان کے ذریعے دریافت ہونے والی حقیقت کا یہاں بھی یہی ہوتا ہے کہ پہلے ایک سچے متلاشی (true seeker) کے دماغ میں ایک تصور آتا اس کے بعد وہ متعلقہ حوالوں (relevant reference) کی روشنی میں اس کی مزید تحقیق کرتا ہے، یہاں تک کہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس کا مفروضہ درست تھا۔

راقم الحروف کو اپنی تلاش کے دوران بار بار ایسے تجربات پیش آئے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ صوفیا کے حلقے میں ایک قول کا حدیث قدسی کی حیثیت سے بہت چرچا ہے۔ وہ قول یہ ہے: كُنتُ كنزاً مخفيا، فأحببتُ أن أُعرف، فخلقتُ خلقاً، فبي عرفوني (كشف الخفاء، 2/1011) یعنی میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، پھر میں نے چاہا کہ میں جانا جاؤں، پھر میں نے ایک مخلوق (انسان) کو پیدا کیا، پھر انسان نے مجھ کو پہچانا۔

میرا بے آمیز وجدان کہتا تھا کہ یہ قول بالکل درست ہے۔ یہ معرفت کے معاملے کی بالکل صحیح تعبیر ہے۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس روایت کی کوئی قابلِ اعتماد سند موجود نہیں۔ اس لیے علما عام طور پر اس کو مستند نہیں تاہم میں اس کی تحقیق کرتا رہا۔ چناں چہ میں اس دریافت تک پہنچا کہ خود قرآن میں اس تصور کی اصل موجود ہے۔ قرآن کی سورہ الذاریات میں یہ آیت آئی ہے: وما خلقت الجن والإنس إلا لیعبدون (51:56)- مشہور صحابی رسول عبد اللہ بن عباس نے اس آیت میں ’’عبادت‘‘ سے مراد معرفت لیا انھوں نے اس آیت کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: وما خلقت الجن والإنس إلا لیعرفون۔ اس مثال میں، میرے وجدان نے مجھ کو ایک علم تک پہنچایا، وہ یہ کہ اس کی اصل خود قرآن میں اس کے بعد میں نے مزید غور کیا تو میں اس دریافت تک پہنچا کہ مذکورہ قول دراصل ایک تفسیری قول ہے جس کو قائل نے آیتِ قرآنی کی رعایت سے، حدیثِ قدسی کی زبان میں بیان کر دیا۔ اس قول کے الفاظ اگر بدل دئے جائیں اور اس کو ایک تفسیری قول کی شکل دے دی جائے تو وہ اس طرح ہوگا: کان الله كنزاً مخفيا، فأحب أن يُعرف، فخلق الخلق۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک سچے متلاشی کا وجدان، عقلی بنیاد سے بھی زیادہ مضبوط بنیاد ہے۔ بنیاد آدمی کو صرف فنی سطح کے ظاہری علم تک پہنچاتی ہے، لیکن ایک سچے متلاشی کا وجدان مزید اضافے کے ساتھ حقیقت شناسی (realization of truth) کی سطح پر قائم ہوتا ہے۔ یہی وہ سطح ہے جب کہ ایک ترقی یافتہ ذہن ادراکِ حقیقت کی ایک ایسی سطح پر کھڑا ہو جاتا ہے جہاں سے وہ حقیقت کو براہِ راست دیکھ سکے، وہ اس درجے تک پہنچ جائے کہ وہ حقیقت کو کسی دلیل کے بغیر پہچاننے لگے۔ اس معاملے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ وجدان کی سطح پر جو یقین حاصل ہوتا ہے، وہ ہمیشہ بڑھتا اور یہ ایک واقعہ ہے کہ کوئی غیر حقیقی چیز کبھی اضافہ پذیر نہیں ہوتی۔ واہمہ اور حقیقی وجدان میں یہ فرق ہے کہ واہمہ ہمیشہ بے ثبات ہوتا ہے۔ وہ صرف وقتی طور پر آدمی کو متاثر کرتا ہے اور پھر دھیرے دھیرے وہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر کسی شخص کی رسائی حقیقی وجدان تک ہو جائے تو اُس پر کبھی زوال نہیں آتا۔ حقیقی وجدان ہمیشہ ترقی کرتا رہتا ہے، اس کے یقین کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

واہمہ ایک مجہول چیز ہے، اس کی کوئی شعوری بنیاد نہیں۔ اس کے برعکس، وجدان پوری طرح شعور پر مبنی ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وجدان خود شعور کا ایک اعلیٰ درجہ ہے۔ وہ شعور کی تکمیل ہے۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ سوچے تو اس کا داخلی احساس خود بتادے گا کہ کون سی بات صرف واہمہ ہے اور کون سی بات وجدانی علم سے تعلق رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عقل اور وجدان دونوں تلاش کی منزلیں ہیں۔ آدمی کی عقل اُس کو وجدان تک پہنچاتی ہے اور وجدان اس کو حقیقت کے اعلیٰ مرتبے تک پہنچادیتا ہے۔ جو آدمی اس اعلیٰ مرتبے تک پہنچتا ہے، اس کے لیے عقل اور وجدان کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ اس کی مکمل طور پر وجدان ہوتی ہے، اور اس کا وجدان مکمل طور پر عقل ۔ یہی وہ مقام ہے جس کو معرفتِ حق کا اعلیٰ درجہ کہا جاتا ہے۔ تاہم عقلی دریافت اور وجدانی دریافت میں یہ فرق ہے کہ عقلی دریافت ایک موضوعی دریافت (objective discovery) ہے۔ اس کے مقابلے میں، وجدانی دریافت کی حیثیت ایک داخلی دریافت (subjective discovery) کی ہے۔ اس بنا پر دونوں دریافتوں کے درمیان بظاہر یہ فرق باقی رہتا ہے کہ عقلی دریافت ایک قابل مظاہرہ (demonstrable) دریافت ہے۔ اس کے مقابلے میں، وجدانی دریافت خارجی طور پر قابل مظاہرہ نہیں۔ مگر یہ فرق کوئی حتمی فرق نہیں۔ جہاں تک صاحب وجدان کا معاملہ ہے، اس کے اپنے لیے دونوں قسم کی دریافتیں یکساں طور پر قابل یقین ہوتی ہیں، صرف اس فرق کے ساتھ کہ ایک چیز کو وہ پیشانی کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور دوسری چیز کا مشاہدہ وہ دماغ کی آنکھ سے کرتا ہے۔ تاہم یہ فرق آخری فرق نہیں۔ ایک شخص جس کو حقیقی معنوں میں وجدانی دریافت ہو، وہ اس کے نتیجے میں عام انسان سے واضح طور پر مختلف (different) بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ، اس کا بولنا، اس کا سلوک، اس کے اخلاق، اس کے آداب و اطوار، ہر چیز دوسرے انسانوں سے اتنا زیادہ مختلف ہو جاتے ہیں کہ وہ حقیقی معنوں میں ایک مختلف انسان (man with a difference) بن جاتا ہے۔ اس کی شخصیت کا یہ فرق اہل نظر کے لیے وہی درجہ رکھتا ہے جس کو عقل اور منطق کی زبان میں دلیل کہا جاتا ہے۔

Printed page