تاریخ دعوت—ایک جائزہ
Al-Risala, August 2011, pp. 51–4
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن، خالق کائنات کی کتاب ہے۔ قرآن کا موضوع ہے انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے آگاہ کرنا۔ اس سلسلے میں قرآن کی سورہ آل عمران کی ایک آیت یہ ہے: أفغير دين الله يبغون، وله أسلم من في السماوات والأرض طوعاً وكرهاً (3:83) یعنی کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں، حالاں کہ اللہ ہی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے۔
انسان کی کامیابی اس میں ہے کہ وہ اس دین اللہ کو اختیار کرے۔ اس معاملے میں، انسان کے لیے دوسرا کوئی چوائس (choice) نہیں۔ اس دین اللہ کے دو پہلو ہیں— توحید، اور امن۔ توحید (oneness of God) اس دین کائنات کی نظریاتی بنیاد (ideological base) ہے۔ کے تمام فکری اور عملی تقاضے اسی توحید کے نظریے سے پیدا ہوتے ہیں۔ توحید کا آغاز دریافت (discovery) سے ہوتا ہے، یعنی خالق کائنات کی دریافت۔ یہ دریافت جب کسی حقیقی طور پر حاصل ہو جائے تو اس کے بعد اس کی پوری زندگی اس میں ڈھلتی چلی جاتی ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے آنے والے تمام انبیاء اسی توحید کا پیغام لے کر آئے۔
امن (peace) کا لفظ دین اللہ کے اجتماعی تقاضے کو بتاتا ہے۔ امن کا مطلب یہ ہے کہ انسانی سماج میں نارمل فطری حالت کو برقرار رکھا جائے۔ اسی فطری حالت کی برقراری پر زندگی کی تمام تعمیری سرگرمیوں کا انحصار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی اعتبار سے، امن کی حیثیت خیر اعلیٰ (summum bonum) کی ہے۔ امن دراصل سماج کی صحت مند حالت کا دوسرا نام ہے۔ بغیر کوئی بھی انسانی سرگرمی درست طور پر جاری نہیں رکھی جاسکتی، نہ دینی سرگرمی اور نہ دنیوی سرگرمی۔ انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان جب آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے تو سماج میں معتدل ماحول بنتا ہے۔ ہر قسم کی صحت مند سرگرمیاں کسی رکاوٹ کے بغیر جاری
ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس ، انسان جب اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے تو سماج میں وہ ماحول بن جاتا ہے جس کو قرآن میں فساد (85:7) کہا گیا ہے۔ ایسی حالت میں کسی بھی کام کو خوش گوار طور پر انجام دینا ناممکن ہو جاتا ہے۔
قرآن کی سورہ النساء میں کہا گیا ہے: الصلح خیر (128: 4) یعنی صلح بہتر ہے۔ مراد امن اور مسالمت (conciliation) ہے، یعنی نزاع (controversy) کے وقت ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کرنا، اس کے بجائے وہ طریقہ اختیار کرنا جس میں ٹکراؤ (conflict) کے بغیر نزاع ختم ہو جائے اور دوبارہ معتدل فضا میں کام ہونے لگے۔
زندگی میں نزاع کیوں پیدا ہوتی ہے۔ اس کا اصل سبب یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص آپ کا دشمن بن گیا ہے، وہ آپ کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ اس صورت حال کا اصل سبب خدا کا قائم کردہ تخلیقی نظام انسان کے پیدا کرنے والے نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے۔ ہر انسان آزاد ہے کہ وہ جس طرح چاہے، اپنی آزادی کو استعمال کرے۔ اس صورت حال سے، مسابقت (competition) اور چیلنج کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اس چیلنج کو اگر منفی معنی میں لیں تو وہ نزاع ہے اور اگر اُس کو مثبت معنی میں لیں تو وہ ترقی کے لیے محرک (incentive) بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کو وہ انسانی معاشرہ پسند ہے جس میں امن کا ماحول پایا جاتا ہو۔ امن خدا کے نقشۂ حیات کے مطابق ہے اور تشدد خدا کے نقشۂ حیات کے خلاف ۔ قرآن کی سورہ یونس میں ارشاد ہوا ہے: والله يدعو إلى دار السلام (25: 10) یعنی اللہ سلامتی کے گھر کی طرف پکارتا ہے: And God calls to the home of peace. قرآن کی اس آیت میں ”دار السلام“ سے مراد اصلاً آخرت کی جنت ہے۔ معنوں میں امن کا مقام ہے۔ یہی پر امن زندگی موجودہ دنیا میں بھی انسان سے مطلوب ہے۔ یہ ہے کہ جو لوگ موجودہ دنیا میں پر امن زندگی کا ثبوت دیں، وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں کامل امن کی جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے۔
امن کا برعکس، تشدد (violence) اور جنگ ہے۔ اہل علم، امن کی تعریف (definition) اس طرح کرتے ہیں کہ امن ناجنگ حالت (absence of war) کا نام ہے۔ لیکن یہ امن کی ایک منفی تعریف (negative definition) ہے۔ امن کی مثبت تعریف یہ ہے کہ امن مواقع کی موجودگی (presence of opportunity) کا نام ہے۔ امن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مواقع کا دروازہ کھولتی ہے۔ امن کے ماحول میں ہر قسم کے مواقع قابل حصول ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے خالق کا منشا یہ ہے کہ امن کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے۔ امن کو لازمی طور پر قائم رکھا جائے، خواہ اس کی کوئی بھی قیمت (price) دینی پڑے۔