ایگو کا مثبت اور منفی پہلو
Al-Risala, August 2011, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کو پیدائشی طور پر ایگو (ego) کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ ایگو کیا ہے، ایگو اپنے وجود کا احساس یہ انسانی دماغ کی وہ صلاحیت ہے جو آدمی کے اندر سیلف (self) کا احساس پیدا کرتی ہے: Ego: The part of the mind that is responsible for your sense of who you are. ایگو کا مثبت پہلو بھی ہے اور منفی پہلو بھی۔ ایگو کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اُس سے اپنے آپ پر اعتماد (confidence) پیدا ہوتا ہے۔ ایگو کے ذریعے آدمی عزم (determination) کے ساتھ کسی کام کو کرنے کے قابل بنتا ہے۔ ایگو آدمی کو یقین عطا کرتا ہے، ایگو آدمی کے اندر استحکام پیدا کرتا ہے، ایگو آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ زندگی کے چیلنج کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا سفر آگے کی طرف جاری رکھے۔ اپنے مثبت معنی کے اعتبار سے، قوت حیات ہے۔ ایگو سے وہ تمام اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں جن کو مردِنگی (manliness) کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل ایگو ہے جو کسی آدمی کو مردا آهن (iron-man) بناتا ہے۔ اسی کے ساتھ ایگو کا ایک منفی پہلو ہے۔ یہ منفی پہلو کبر (arrogance) ہے۔ ایگو جب منفی صورت اختیار کرلے تو اُس سے شدید ترین برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً غصہ، نفرت، تشدد، سرکشی، ناانصافی، انتقام، حتیٰ کہ ناحق قتل، وغیرہ۔ اس کی ایک انتہائی مثال قرآن میں آدم کے بیٹوں، ہابیل اور قابیل کی صورت میں بیان کی گئی ہے۔ ہابیل اور قابیل دونوں سگے بھائی تھے۔ قابیل کسی بات پر
اپنے بھائی ہابیل سے غصہ ہو گیا اور بے رحمی کے ساتھ اس کو مار ڈالا۔
ابتدائی دور کے اس واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ایک قانون مقرر فرمایا۔ قانون کا ذکر قرآن کی سورہ المائدہ میں ان الفاظ میں آیا ہے: مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ، كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا، وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعاً۔ ولقد جائتهم رسلنا بالبينات ثم إن كثيراً منهم بعد ذلك في الأرض لمسرفون (5:32) یعنی اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا اُس نے زمین میں فساد برپا کیا ہو، تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا، اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ اور ہمارے پیغمبران کے پاس کھلے ہوئے احکام لے کر آئے، اس کے باوجود اُن میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیاد تیاں کرتے ہیں۔
آدم اور حوا سے انسان کی نسل شروع ہوئی۔ توالد و تناسل کے نتیجے میں انسان کی آبادی بڑھتی دھیرے دھیرے انسان زمین کے مختلف علاقوں میں آباد ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے شروع ہی سے انبیاء کے ذریعے ہدایت کا سلسلہ شروع کیا۔ ہر مقام پر اور ہر گروہ میں مسلسل انبیاء آتے رہے۔ انھوں نے پرامن جدوجہد کے ذریعے لوگوں کو خدا کا پیغام پہنچایا۔