توحید اور امن
Al-Risala, August 2011, pp. 5–7
By Maulana Wahiduddin Khan
اس پیغام نبوت کے دو خاص اجز اتھے توحید، اور امن۔ خدا کی نسبت سے، انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ ایک اللہ کو اپنا الٰہ (معبود) بنائے اور اُس کی عبادت کرے، وہ اللہ کے حکموں کے مطابق، دنیا میں زندگی گزارے۔ یہ بات پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہے، خاص طور پر سورہ الاعراف (7:59-85) اور سورہ الشعراء (180-105: 26) میں اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔
خدا کی طرف سے آنے والی پیغمبرانہ ہدایت کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انسان اس دنیا میں دوسروں کے درمیان امن کے ساتھ زندگی گزارے۔ خدا کے نزدیک، امن کا تصور کیا ہے،
وہ یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں فطرت کے نقشے کے مطابق رہے۔ خالق نے فطرت کا جو نظام بنایا ہے، وہ اس میں کوئی بگاڑ پیدا نہ کرے۔ یہ حکم قرآن میں ان الفاظ میں دیا گیا ہے: قد جائتکم بينة من ربكم، فأوفوا الكيل والميزان، ولا تبخسوا الناس أشياء هم، ولا تفسدوا فى الأرض بعد إصلاحها (85:7) یعنی تمھارے پاس تمھارے رب کے پاس سے کھلی ہوئی دلیل آ چکی ہے، تو تم ناپ اور تول پوری کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر مت دو اور زمین میں فساد نہ ڈالو، اس کی اصلاح کے بعد۔
امن (peace) ہر قسم کی تعمیری سرگرمیوں کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ امن کیا ہے، امن دراصل کوئی قائم کرنے کی چیز نہیں۔ فطرت کا نظام تمام تر امن ہی پر مبنی ہے۔ خالق نے جو دنیا بنائی ہے، اس میں خود تخلیقی نظام کے تحت، امن کی حالت قائم ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ امن کی اس فطری حالت کو برقرار رکھے۔ انسان اگر فطرت کے اس نظام کو برقرار رکھے تو اس کا نام اصلاح ہے، اور انسان اگر فطرت کے اس نظام میں خلل ڈالے تو اس کا نام فساد ہے۔
قرآن میں وارننگ کے طور پر بتایا گیا ہے کہ انسان اگر فطرت کے نظام میں خلل ڈالے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا کا ہر حصہ آلودگی (pollution) سے بھر جائے گا۔ ہوائی آلودگی (air pollution) اور آبی آلودگی (water pollution) جیسی چیزوں کے ذریعے دنیا انسان کے لیے رہنے کے قابل نہیں انسانی عمل کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے اس فساد کے خلاف یہ انتباہ (warning) قرآن کی حسب ذیل آیت میں موجود ہے: ظهر الفساد فى البر والبحر بما كسبت أيدى الناس، ليذيقهم بعض الذي عملوا، لعلهم يرجعون (30:41) یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تا کہ اللہ مزا چکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا، شاید وہ باز آئیں۔ پچھلی تاریخ میں آنے والے تمام پیغمبروں نے انسانی نسلوں کو ان دونوں حقیقتوں (توحید اور امن) کی طرف متوجہ کیا، مگر عجیب بات ہے کہ انسان پیغمبروں کو اپنا رہنمانہ بنا سکا۔ اس نے پیغمبروں کو حقیر سمجھ کر اُن کو نظر انداز کر دیا۔ اس تاریخی واقعے کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ اس نوعیت کی ایک قرآنی آیت
یہ ہے: یا حسرۃً علی العباد، ما یأتیہم من رسول إلا کانوا بہ یستہزؤن (36:30) یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا، وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ توحید اور امن سے انحراف توحید کے معاملے میں انسان نے یہ انحراف کیا کہ اُس نے خالق کے بجائے مخلوق کی پرستش مخلوقات میں جو چیز بھی نمایاں نظر آئی، مثلاً سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، سمندر، وغیرہ ہر چیز انسان کے لیے پرستش کا موضوع بن گئے۔ اس معاملے کو مذاہب کی تاریخ میں فطرت کی پرستش (nature worship) کہا جاتا ہے۔ مظاہر فطرت میں چوں کہ تعدد (diversity) تھا، اس لیے لوگوں کے معبود بھی متعدد ہوگئے۔ اِسی تعددِ الہہ کے تصور کو قرآن میں شرک کہا گیا ہے۔ اسی قسم کا انحراف امن کے معاملے میں پیش آیا۔ انسان اپنے مقصد کو پر امن جدوجہد کے بجائے، پر تشدد جدوجہد کے ذریعے حاصل کرنے لگا۔ اس طرح پوری تاریخ جنگ اور ٹکراؤ کی تاریخ بن گئی— قبائلی سرداروں کے درمیان جنگ، راجاؤں کے درمیان جنگ، بادشاہوں کے درمیان فطرت کے نظام میں یہ انحراف حضرت نوح کے زمانے میں شروع ہوا۔ وہ مسلسل جاری رہا، یہاں تک کہ حضرت ابراہیم کا زمانہ آگیا۔