Al-Risala · August 2011

نیا منصوبہ

Al-Risala, August 2011, pp. 7–8

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کا خلاصہ یہ تھا کہ نظریاتی طور پر انسان کے لیے توحید اور امن ہی واحد آپشن (option) کے طور پر باقی رہے۔ توحید اور امن کے سوا دوسرے آپشن کے لیے کوئی نظریاتی جواز (ideological justification) باقی نہ رہے۔ امتحان کی دنیا میں انسان کی آزادی کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا تھا، البتہ یہ ممکن تھا کہ ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ انسان کے لیے اس معاملے میں نظریاتی جواز باقی نہ رہے۔

یہ منصوبہ معجزاتی طور پر اچانک ظہور میں نہیں آسکتا تھا، اس عالم امتحان میں یہی ممکن تھا کہ اس منصوبے کو اسباب کے ماحول کے تحت ظہور میں لایا جائے۔ چناں چہ ایسا ہی کیا گیا۔ اس منصوبے کے آخری مرحلے کا ذکر

قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله (8:39) یعنی اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ قرآن کی اس آیت میں جس واقعے کا ذکر کیا گیا ہے، وہ کوئی سیاسی واقعہ نہیں ہے، وہ تمام تر ایک نظریاتی واقعہ ہے۔ اس میں اُس خدائی منصوبے کا ذکر ہے جس کا آغاز ہاجرہ اور اسماعیل سے ہوا اور اصحاب رسول پراسس ایک مرحلہ مکمل ہوا۔ اس منصوبے کے نتیجے میں تاریخ میں یہ انقلابی واقعہ پیش آیا کہ انسان کے لیے نظریاتی اعتبار سے، شرک کا آپشن ختم ہوگیا۔ اسی طرح نظریاتی اعتبار سے، انسان کے لیے جنگ کا کوئی جواز نہیں رہا۔

چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم عراق کے قدیم شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ نے اپنی معاصر قوم کے درمیان اپنا دعوتی مشن جاری کیا۔ لیکن آپ کی قوم کی کنڈیشننگ اتنی زیادہ پختہ ہوچکی تھی کہ وہ آپ کے پیغام کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ایک نیا منصوبہ شروع کیا۔ اس منصوبے کا آغاز اس طرح ہوا کہ آپ اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے چھوٹے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں لے گئے اور وہاں اُنھیں اس غیر آباد ماحول میں بسادیا۔ اس خصوصی منصوبے کے ذریعے عرب میں ایک نئی نسل پیدا ہوئی۔ اسی نسل میں 570 عیسوی میں پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ اسی نسل میں سے وہ لوگ پیدا ہوئے جن کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کی خصوصی جدوجہد کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں ایک انقلاب برپا ہوا۔ اس انقلاب کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا پراسس کا جاری ہوا جو بیسویں صدی عیسوی میں اپنی آخری تکمیل کو پہنچا۔

اسی تاریخی پر اس (historical process) کے وہ نتائج ہیں جن کو ہم موجودہ زمانے میں مثلاً انسانی مساوات، مذہبی جبر کا خاتمہ، جمہوریت اور سائنسی انقلاب جس کے نتیجے میں پرنٹنگ پریس اور جدید کمیونیکیشن کا دور دنیا میں آیا۔ اس کے علاوہ، فطرت (nature) کے نئے حقائق دریافت ہوئے جو دینِ توحید کے لیے تصدیق کی حیثیت رکھتے تھے۔

Printed page