تاریخِ کائنات کا پہلا دور
Al-Risala, August 2011, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات کو اس کے خالق نے ایک بامقصد کائنات کے طور پر پیدا کیا ہے۔ اس مقصد کی تکمیل ایک تدریجی اصول پر قائم ہے۔ اس لحاظ سے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ کائنات کی ابتدائی تاریخ 6 بڑے ادوار (periods) پر مبنی ہے۔ یہ 6 ادوار حسب ذیل ہیں:
بگ بینگ (Big Bang) 2۔ لٹل بینگ (Little Bang)
واٹر بینگ (Water Bang) 4۔ پلانٹ بینگ (Plant Bang)
اینمل بینگ (Animal Bang) 6۔ ہیومن بینگ (Human Bang)
سائنسی مطالعے کے مطابق، تقریباً 15 بلین سال پہلے خلا (space) میں ایک عظیم دھماکا ہوا جس کو بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ اُس وقت کائنات کے تمام اجزا (particles) ایک سپراٹیم کے اندر جمع اس سپراٹیم (super atom) میں دھماکا ہوا، اس کے بعد اس کے مادی اجزا وسیع خلا میں پھیل پھر یہ مادی اجزا مختلف اجسام کی صورت میں جمع ہوئے اور وہ مادی دنیا وجود میں آئی جس کو ستارے (stars) اور سیارے (planet) کہا جاتا ہے۔
غالباً ایک بلین سال پہلے ایک ستارہ (star) میں لٹل بینگ (Little Bang) کا واقعہ اُس کے بعد اس ستارے کے مختلف ٹکڑے ہو گئے۔ اس کے بعد خلا (space) میں وہ مجموعہ بنا جس کو شمسی نظام (Solar System) کہا جاتا ہے۔ یہ شمسی نظام ہماری قریبی کہکشاں
(Milky Way) کے کنارے واقع ہے۔
اس کے بعد واٹر بینگ (Water Bang) ہوا، یعنی فضا میں موجود گیس (ہائیڈروجن اور آکسیجن) کے ملنے سے پانی وجود میں آیا۔ یہ پانی لمبے عرصے تک بارش کی صورت میں زمین پر برستا رہا۔ پھر وہ گہرے سمندروں میں ذخیرہ (reservoir) کی صورت میں جمع ہوگیا۔ اس کے بعد پلانٹ بینگ (Plant Bang) ہوا، یعنی زمین کی سطح پر سبزہ اور درخت وجود میں آئے۔ سمندروں کے سوا زمین کی پوری سطح جو زمین کے تقریبا چوتھائی حصے پر مشتمل ہے، وہ سبزہ سے ڈھک گئی۔ اس کے بعد انیمل بینگ (Animal Bang) ہوا اور مختلف قسم کے حیوانات وجود میں آئے۔ سمندر میں مچھلیاں اور خشکی پر چرند و پرند بڑی تعداد میں پیدا ہوگئے۔ اس کے بعد ہیومن بینگ (Human Bang) ہوا۔ انسان کو پیدا کر کے اُس کو زمین پر آباد کیا۔ یہاں سے سیارہ زمین کی ایک نئی تاریخ شروع ہوئی ۔ تاریخ کو دوسرے الفاظ میں، تہذیب کی تاریخ (history of civilization) کہا جاتا ہے۔ انسان کے سوا جو کائنات ہے، وہ سب کی سب قانون فطرت (law of nature) کے تحت کام کرتی ہے۔ ہر چیز کی سرگرمیوں کے لیے خالق نے ایک نظام مقرر کر دیا ہے۔ اس نظام کے تحت تمام چیزیں اپنا کردار (role) ادا کرتی ہیں۔ مگر انسان کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ ہے۔ انسان کو اُس کے خالق نے کامل آزادی (complete freedom) عطا کی ہے۔ انسان کو اختیار ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا غلط استعمال ۔ آزادی کے اسی صحیح یا غلط استعمال کی بنیاد پر انسان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔