Al-Risala · August 2011

اجتماعی انقلاب کا دور

Al-Risala, August 2011, pp. 12–20

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم کے ذریعے عرب کے صحرا میں ایک نئی نسل تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ تقریباً ڈھائی ہزار سال کے عرصے میں یہ نسل بن کر تیار ہوئی۔ نسل کو تاریخ میں بنواسماعیل (Ishmaelites) کہا جاتا ہے۔ اسی نسل میں پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب پیدا ہوئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی کوششوں کے ذریعہ وہ گروہ بن کر تیار ہوا جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ اصحاب رسول کی غیر معمولی کوششوں کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ دعوتِ نبوت، اعلان سے آگے بڑھ کر اجتماعی انقلاب تک پہنچ گئی۔ یہاں اس سلسلے کی چند مثالیں دی جاتی ہیں۔ ان مثالوں کے ذریعے یہ واضح ہو سکے گا کہ دعوت نبوت کا اعلان سے بڑھ کر اجتماعی انقلاب تک پہنچ جانے کا مطلب کیا ہے۔

1- قرآن کی سورہ الانفال میں یہ آیت آئی ہے: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة، ويكون الدين كله لله (8: 39)۔ یہ آیت مدنی دور میں اتری۔ قرآن کی اس آیت میں ایک آنے والے مستقبل کی خبر دی گئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اصحاب رسول کی جدوجہد سے دنیا میں ایک نیا تاریخی عمل (historical process) جاری ہوگا۔ اس پر اس کی تکمیل یہ ہوگی کہ دین سب کا سب اللہ کے لئے ہو جائے۔ اس سے مراد دین کی سیاسی حکومت (political rule) نہیں ہے، بلکہ دین کا نظریاتی (ideological) غلبہ ہے، یعنی دینِ خداوندی کے سوا ہر دین کا غیر مدلل ہو جانا، دینِ خداوندی کے سوا ہر دین کا نظریاتی جواز (ideological justification) سے محروم ہو جانا۔ یہ واقعہ موجودہ زمانے میں مکمل طور پر پیش آ چکا ہے۔ موجودہ دنیا دار الامتحان ہے، اس لیے یہاں قیامت سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوگوں سے ان کی آزادی چھین لی جائے۔

غلط استعمال کا موقع آدمی کے لیے پہلے بھی تھا اور وہ آج بھی باقی ہے۔ لیکن جہاں تک نظریاتی جواز (ideological justification) کی بات ہے، وہ دینِ خداوندی کے سوا کسی اور دین کے لیے باقی نہیں رہے گا۔ اس انقلابی عمل کا آغاز ساتویں صدی عیسوی میں اصحاب رسول کے ذریعے ہوا اور بیسویں صدی کے آخر میں یہ عمل اپنے اختتام تک پہنچ گیا۔ اب ہم اکیسویں صدی میں ہیں۔ اکیسویں صدی میں جو کام کرنا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ پیدا شدہ مواقع کو بھر پور طور پر دعوت حق کے لیے استعمال کیا جائے۔ 2- قرآن کی سورہ البقرہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب (companions) کی طرف سے یہ دعا منقول ہوئی ہے: ربنا، ولا تحمل علينا إصراً كما حملته على الذين من قبلنا (286: 2) یعنی اے ہمارے رب، تو ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ اس دعا میں ’’ہم‘‘ سے مراد صرف اصحاب محمد نہیں ہیں، تو وسیعی معنوں میں یہ دعا پوری امتِ محمد کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس دعا میں اللہ تعالیٰ سے جو چیز مانگی گئی ہے، وہ یقیناً پوری ہوئی، لیکن یہ اُسی وقت ساتویں صدی میں پوری نہیں ہوئی، بلکہ وہ ایک پراسس (process) کے طور پر انسانی تاریخ میں جاری ہوئی اور وہ بیسویں صدی کے آخر میں پہنچ کر مکمل ہوئی۔

اب اکیسویں صدی میں حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ آج کے داعیان حق کو دعوت الی اللہ کے راستے میں نہ وہ مسائل (problems) پیش آئیں گے جو صحابہ سے پہلے کے داعیوں کو پیش آئے تھے اور نہ اُن کو اُن مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جو اصحاب رسول کے زمانے میں پائے جاتے تھے۔ اب ضرورت ہے کہ آج کے داعی، تاریخ کی اس تبدیلی کو سمجھیں اور اس کو دعوت کے لیے استعمال کریں۔ موجودہ زمانے میں دعوت حق کے لیے تمام رکاوٹیں کلی طور پر ختم ہو چکی اب اگر کسی داعی کے لیے رکاوٹ پیدا ہو تو وہ یقینی طور پر اس کی اپنی کسی غلط پالیسی کا نتیجہ ہوگی، وہ ہرگز حالات کے تحت پیش آنے والی رکاوٹ نہیں ہوسکتی۔

3- قرآن کی سورہ حم السجدہ میں مستقبل کے اعتبار سے، ایک پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے: سنريهم آياتنا في الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (53: 41) یعنی عن

قریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی، یہاں تک کہ اُن پر یہ امر پوری طرح ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔

قرآن کی اس آیت میں دراصل اُس عمل کا ذکر ہے جو صلیبی جنگوں (crusades) کے بعد صلیبی جنگوں کے بعد یورپ میں وہ علمی واقعہ پیش آیا جس کو تاریخ میں اسپرچول کروسیڈس (spiritual crusades) کہا جاتا ہے۔ اس اسپرچول کروسیڈ کے بعد یورپ کے تمام بڑے بڑے دماغ سائنسی تحقیق میں مصروف ہو گئے۔ انھوں نے فطرت کے پوشیدہ رازوں کو دریافت کیا۔ صدی میں یہ عمل اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اب آفاق وانفس کے وہ تمام چھپے ہوئے حقائق علمی طور پر ایک معلوم واقعہ بن چکے ہیں جو قرآن کے الفاظ میں تبیینِ حق کے لیے ضروری تھے۔ کے داعیوں کا کام یہ ہے کہ وہ ان سائنسی حقائق کو جانیں اور اُن کو دعوتِ حق کے لیے استعمال یہ سائنسی حقائق دعوت کو مسلمہ علمی سطح پر مدلّل کرنے والے ہیں۔ 4- قرآن کی سورہ الحج میں بتایا گیا ہے کہ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم نے کعبہ کی تعمیر اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک اعلان عام کیا۔ اس کا ذکر قرآن کے ان الفاظ میں آیا ہے: وأذّن فى الناس بالحج يأتوك رجالاً وعلى كل ضامر يأتين من كل فجّ عميق (22:27) یعنی تم لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ لوگ تمھارے پاس آئیں گے پیدل بھی اور لاغر اونٹنیوں پر بھی، جو پہنچیں گی دور دراز گہرے پہاڑی راستوں سے۔ قرآن کی اس آیت کا براہِ راست تعلق حج کے سفر سے ہے۔ لیکن تو سیعی طور پر اُس میں یہ مفہوم شامل ہے کہ تدریجی عمل کے تحت ایک وقت آئے گا جب کہ لوگ دور دور سے سفر کر کے مکہ پہنچیں، یہاں تک کہ مکہ عالمی سفر کا مرکز بن جائے۔

قرآن کی اس آیت میں اشاراتی طور پر یہ بات موجود ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ سفر بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ موجودہ زمانے میں جدید مواصلات (modern communication) کی ایجاد نے اس پیشین گوئی کو واقعہ بنا دیا ہے۔ عالمی آمدورفت اتنی بڑھی ہے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ ساری دنیا

ایک گلوبل ولیج (global village) بن گئی ہے۔ موجودہ زمانے میں سیاحت (tourism) نے اتنی ترقی کی ہے کہ اب ایک مستقل ٹورسٹ انڈسٹری (tourist industry) وجود میں آ گئی ہے۔ اور تجارت، وغیرہ کے تحت روزانہ لوگ کروڑوں کی تعداد میں ادھر سے اُدھر جاتے ہیں۔ اس واقعہ نے موجودہ زمانے میں دعوت کا ایک نیا موقع کھول دیا ہے۔ اب دعوتی موقع روزمرہ کی زندگی میں شامل ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہو رہا ہے کہ ہر روز کثیر تعداد میں داعی، مدعو کے علاقے میں جاتا ہے اور مدعو، داعی کے علاقے میں آتا ہے۔ اِس صورتِ حال نے دعوت کے نئے عالمی مواقع کھول دئے ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ اہل ایمان ان نئے مواقع کو دریافت کریں اور اُن کو دعوت کے حق میں استعمال کریں۔

5- پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا دعوتی مشن شروع کیا۔ زمانہ مذہبی جبر (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں کچھ لوگ جو آپ کے اوپر ایمان لائے، اُن کو وہاں مشرکین ستانے لگے۔ وہ ان کو جسمانی اذیت پہنچاتے۔ اِس وقت کچھ اہل ایمان نے پیغمبرِ اسلام سے اِس صورتِ حال کی شکایت کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ان حالات کو ہمارے لیے ختم کر دے۔ اُس وقت رسول اللہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ یہ سن کر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے یہ حال تھا کہ ایک مومن کے جسم پر لوہے کی کنگھی کی جاتی تھی، اور اس کے سر پر آرا چلایا جاتا تھا، مگر اس قسم کی اذیت کے باوجود وہ اپنے دین پر قائم رہتا تھا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: واللہ لیتمنّ هذا الأمر حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضرت موت، ولا يخاف إلا الله (صحیح البخاري، كتاب الأنبياء، باب من اختار الضرب والقتل، رقم الحدیث: 6943) یعنی خدا کی قسم، یہ امر (اسلام) ضرور اپنی تکمیل تک پہنچے گا، یہاں تک کہ یہ حال ہوگا کہ ایک شخص سوار ہو کر صنعاء سے حضرت موت تک جائے گا اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور چیز کا ڈر نہ ہوگا۔

اس حدیث میں صرف ایک زمانی واقعے کو نہیں بتایا گیا ہے، بلکہ وہ مستقبل کے بارے میں

ایک پیشین گوئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد جو انقلاب آیا، اُس سے انسانی تاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع ہو گا جو آخرکار یہاں تک پہنچے گا کہ دنیا میں مذہبی جبر کا دور ختم ہو جائے گا اور دنیا میں مذہبی آزادی کا دور شروع ہو جائے گا۔ اکیسویں صدی میں یہ پیغمبرانہ پیشین گوئی آخری حد تک واقعہ بن چکی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ آج کے داعی اس زمانی حقیقت کو دریافت کریں اور پھر جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے وہ اس کے مطابق، دعوتِ حق کے کام کی منصوبہ بندی کریں۔

6- ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ بعد کے زمانے میں توحید کا پیغام دنیا کے ہر گھر میں پہنچ روایت کے الفاظ یہ ہیں: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، رقم الحدیث (23814) یعنی زمین کی سطح پر کوئی خیمہ یا گھر نہیں بچے گا، مگر اللہ اس خیمہ یا گھر کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ دراصل مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ انسانی تاریخ میں ایسی تبدیلیاں واقع ہوں گی، جب کہ یہ ممکن ہو جائے گا کہ اسلام کی دعوت ہر انسان تک پہنچ جائے، ہر چھوٹے یا بڑے گھر میں اسلام کا پیغام داخل ہو جائے۔ اس قسم کا عالمی ادخال کلمہ پر اسرار طور پر نہیں ہوگا، بلکہ وہ معلوم اسباب کے تحت واقع ہوگا۔ موجودہ زمانے میں یہ تمام اسباب مکمل طور پر واقعہ بن چکے ہیں۔ آج وہ تمام مواقع (opportunities) کھل چکے ہیں، جب کہ پیغمبر اسلام کی پیشین گوئی کے مطابق، دعوتِ حق کے کام کو عالمی سطح (global level) پر ممکن بنایا جاسکے۔

ضرورت ہے کہ آج کے اہلِ ایمان ان امکانات کو دریافت کریں۔ موجودہ زمانے کے اہلِ ایمان کی نسل گویا کہ ان تبدیلیوں کی وارث ہے۔ اُس فرض کے درجے میں یہ ضروری ہے کہ وہ شعوری طور پر ان تبدیلیوں کو جانیں اور اُن کو استعمال کرتے ہوئے مذکورہ حدیث کی پیشین گوئی کو واقعہ بنائیں۔ 7- دجال کے ظہور کے ذیل میں ایک روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ دجال جب ظاہر ہوگا تو اُس وقت اہلِ ایمان کی جماعت میں سے ایک شخص اٗس کے مقابلے کے لیے نکلے گا۔ اِس رجل مومن کے پاس تلوار یا اور کوئی اسلحہ نہیں ہوگا، لیکن اللہ کی توفیق سے وہ اس مقابلے میں حجت اور برہان کے ذریعے دجال پر غالب آجائے گا۔ اس کے بعد حدیث کے الفاظ یہ ہیں: هذا أعظم الناس شہادة عند رب العالمین (صحیح مسلم، کتاب الفتن) یعنی یہ اللہ رب العالمین کے نزدیک تاریخ کی سب سے بڑی گواہی ہوگی۔

یہ کوئی سادہ واقعہ نہیں، اور نہ وہ کوئی پراسرار واقعہ ہے۔ یہ دراصل اٗس لمبے تاریخی عمل (historical process) کے نقطۂ انتہا (culmination) کو بتاتا ہے، جس کے نتیجے میں کسی رجل مومن کو یہ موقع ملے گا کہ وہ ہتھیار استعمال کئۓ بغیر صرف دلیل کی طاقت سے دجالی فتنہ (عظیم ترین شیطانی فتنہ) کا خاتمہ کر دے۔ اِس قسم کا دعوتی موقع چوں کہ پہلی بار وجود میں آئے گا، اِس لیے اٗس کو حدیث میں عظیم ترین شہادت (greatest witness) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ عظیم دعوتی موقع اکیسویں صدی عیسوی میں پوری طرح ظہور میں آچکا ہے۔ آج کے اہل ایمان پر فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ اِن جدید امکانات کو دریافت کریں اور پرامن منصوبہ کے ذریعے اٗس کو استعمال کرتے ہوئے وہ عظیم دعوتی رول انجام دیں جس کا آج کی تاریخ کو انتظار ہے۔ 8- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے: إذا هـلـــك قيصر فلا قيصر بعده، وإذا هلك كسرى فلا كسرى بعده (صحیح مسلم، کتاب الفتن، رقم الحدیث: 7511) یعنی جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا۔ اور جب کسرىٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسرىٰ نہ ہوگا۔

اس حدیث رسول میں جو بات کہی گئی ہے، اٗس کا تعلق ایک بادشاہ کے خاتمے سے نہیں ہے، بلکہ اٗس کا تعلق ایک دور کے خاتمہ سے ہے۔ اِس حدیث میں دراصل یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد دنیا کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوگا جو آخر کار یہاں تک پہنچے گا کہ دنیا میں شخصی حکمرانی (dynasty) کا دور ختم ہو جائے گا اور عوامی حکمرانی (democracy) کا دور آجائے گا۔

اسی طرح ایک اور حدیثِ رسول میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ اہل ایمان پیش قدمی کرتے ہوئے ایک شہر تک پہنچیں گے۔ وہ نہ کسی ہتھیار سے جنگ کریں گے اور نہ وہ تیر چلائیں گے۔ وہ صرف لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر کہیں گے اور شہر کی دیواریں گر جائیں گی، یہاں تک کہ وہ اس کے اندر داخل ہو جائیں گے (صحیح مسلم، کتاب الفتن)

ان روایات میں مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ انسانی میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوگا۔ اس عمل کا نقطہ انتہا یہ ہوگا کہ دنیا سے مطلق العنان بادشاہت (dictatorship) کا دور ختم ہو جائے گا، یعنی وہ دور ختم ہو جائے گا جب کہ سیاسی طاقت ہی اصل طاقت ہوا کرتی تھی۔ اس کے بعد وہ حالات پیدا ہوں گے جب کہ نظریہ (ideology) کو طاقت کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔ پرامن فکری جدوجہد کے ذریعے اُن مقاصد کو حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا جن کو پہلے صرف سیاسی طاقت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا تھا۔ یہ انقلابی دور اب دنیا میں پوری طرح آ چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں ایک طرف طاقت کا ڈی سنٹرلائزیشن (de-centralization of power) پوری طرح واقعہ بن چکا ہے۔ آج وہ دور ختم ہو چکا ہے جب کہ طاقت صرف ایک سیاسی حاكم کے پاس ہوا کرتی تھی۔ اب ہر انسان کو یہ موقع ہے کہ وہ سیاسی عہدہ (political seat) پر قابض نہ ہوتے ہوئے بھی جس مقصد کے لیے چاہے کام کرے۔ وہ ہتھیار کا استعمال کیے بغیر صرف امن کی طاقت سے اپنے مطلوب کو حاصل کر سکے۔ اسی طرح یہ پیشین گوئی بھی موجودہ زمانے میں پوری طرح ایک واقعہ بن چکی ہے کہ لا إله إلا الله والله أكبر کا مشن لے کر اٹھنے والے لوگ کسی قسم کا مسلح ٹکراؤ کئے بغیر شہروں میں نُفوذ کریں اور لوگوں کے دلوں میں داخل ہو جائیں۔ حدیثِ رسول کی اس پیشین گوئی کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے دور شمشیر کا خاتمہ، دور دعوت کا آغاز۔ اکیسویں صدی میں اب اہل ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ اس تاریخی تبدیلی کو دریافت کریں، وہ ان جدید امکانات کو استعمال کر کے دعوت الی اللہ کے کام کو عالمی سطح پر انجام دیں۔ موجودہ زمانے میں

ایک عظیم دعوتی امکان پیدا ہوا ہے، مگر اس عظیم دعوتی امکان کو صرف وہی لوگ استعمال کر سکیں گے جو اپنے شعور کے اعتبار سے اُس کے فکری وارث بن سکیں۔

قرآن کی سورہ النساءِ میں داعیانِ اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: أُولَئِكَ الذين يعلم ما في قلوبهم، فأعرض عنهم وعظهم، وقل لهم في أنفسهم قولا بليغا (63: 4) یعنی اُن کے دلوں میں جو کچھ ہے، اللہ اُس سے خوب واقف ہے۔ پس تم اُن سے اعراض کرو اور اُن کو نصیحت کرو اور اُن سے ایسی بات کہو جو اُن کے دلوں میں اتر جائے: Speak to them in such terms as will address their minds. قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت الی اللہ کا حق ادا کرنے کے لیے داعی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ایسے اسلوب میں کلام کرے جو مدعو کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ قدیم زمانہ روایتی اسلوب کا زمانہ تھا۔ قدیم زمانے میں روایتی اسلوب بھی مدعو کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا بن سکتا تھا، مگر آج کا دور تعقل کا دور (age of reason) ہے۔ آج کے انسان کا مائنڈ صرف اُس وقت ایڈریس ہوتا ہے جب کہ اس کے سامنے کسی بات کو عقلی اسلوب میں بیان کیا جائے۔ یہ اللہ تعالی کی رحمت کا ایک پہلو ہے کہ جب وہ ایک چیز کا حکم دیتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ اُس کے اسباب بھی فراہم کر دیتا ہے۔ اسلامی دعوت، اہل ایمان کی ابدی ذمے داری ہے۔ میں بھی اہل ایمان کو اُسی طرح اپنا دعوتی فریضہ انجام دینا ہے جس طرح دورِ قدیم کے اہل ایمان نے اس فریضے کو انجام دیا تھا۔ اللہ تعالی نے داعیانِ حق کی اس ضرورت کو سمجھا اور موجودہ زمانے میں عالمی سطح پر وہ فکری تبدیلی پیدا کردی جس کو استعمال کر کے اسلامی دعوت کو عقلی اسلوب میں پیش کیا جا سکے۔ اسلام کے بعد کے زمانے میں ایک فکری عمل شروع ہوا۔ اکیسویں صدی میں یہ فکری عمل اپنے نقطۂ اختتام تک پہنچ چکا ہے۔ اب یہ پوری طرح ممکن ہو گیا ہے کہ اسلام کی دعوت کو اُس اعلیٰ عقلی اسلوب پر پیش کیا جاسکے جو دورِ جدید کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ ضرورت ہے کہ آج کے داعیانِ حق اِس حقیقت کو جانیں اور اس کو جدید دور میں دعوتِ حق کے لیے استعمال کریں۔

10- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشین گوئی حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: إن الله ليؤيّد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحيح البخاري، كتاب الجهاد) یعنی اللہ تعالیٰ ضرور اس دین کی تائید فاجر آدمی کے ذریعے کرے گا۔

اس حدیث رسول میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے، اس کا تعلق ایک پوری تاریخ سے ہے۔ اور اصحاب رسول کے ذریعے عرب میں جو انقلاب آیا، اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل (process) اس عمل کا نشانہ یہ تھا کہ تاریخ میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوں جس کے بعد اسلامی دعوت کو اس کی اعلیٰ ترین سطح پر انجام دینا ممکن ہو جائے۔ حقائق ربانی کے عالمی اظہار کے تمام ممکن ذرائع وجود میں آجائیں، تاکہ دور آخر کے اہل ایمان اتمام حجت کی سطح پر دعوت حق کا کام انجام دے سکیں۔ یہ منصوبہ کوئی معمولی منصوبہ نہ تھا۔ یہ تاریخ کے رخ (cause of history) کو انقلابی طور پر بدل دینے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہزاروں سال سے جاری روایتی دور ختم ہو جائے اور ایک نیا دور شروع ہو۔ یہ وہی دور ہے جس کو عام طور پر سائنسی دور کہا جاتا ہے۔ اس دور کو وجود میں لانا کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ اتنا بڑا کام تھا جس کو تنہا اہل ایمان انجام نہیں دے سکتے تھے۔ ضرورت تھی کہ اس میں پوری انسانیت شامل ہو، حتیٰ کہ ایسے محرکات پیدا ہوں کہ فاجر (secular) طبقہ بھی اس عمل میں یکساں طور پر شریک ہو جائے— مذکورہ حدیث رسول میں اسی عمومی انسانی عمل کا ذکر کیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ پیشین گوئی آخری حد تک مکمل ہو چکی ہے۔ لمبے تاریخی عمل کے نتیجے میں وہ تمام اسباب واقعہ بن چکے ہیں جو دعوتِ حق کے لیے تائید کی حیثیت رکھتے تھے۔ ضرورت ہے کہ اہل ایمان زمانے کی اس تبدیلی کو سمجھیں اور اُس کو دعوت حق کے لیے استعمال کر کے دور جدید میں اتمام حجت کا وہ مطلوب کام انجام دیں جس کا خدائی منصوبے کے مطابق، قیامت سے پہلے ظہور میں آنا ضروری ہے۔

Printed page