مغربی تہذیب کا دور
Al-Risala, August 2011, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
مغربی تہذیب (western civilization) کو عام طور پر قدیم یونانی تہذیب کی نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کہا جاتا ہے، مگر یہ انتساب درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید مغربی تہذیب دراصل قدیم مسلم تہذیب کی نشاۃ ثانیہ ہے۔ مغربی تہذیب نے اُس سائنسی علوم کو تکمیل تک پہنچایا، جس کا آغاز مسلم تہذیب کے زمانے میں ہوا تھا۔ مغربی تہذیب نے فطرت (nature) میں چھپے ہوئے قوانین (laws of nature) کی دریافت کر کے یہ کیا کہ اسلام کی صداقت اور اسلام کی دعوت کے تمام امکانات اعلیٰ ترین سطح پر کھول دئے۔ غالباً یہی تاریخی واقعہ ہے جس کی پیشین گوئی حدیث رسول میں
ان الفاظ میں کی گئی تھی: إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر ۔
اس حدیث رسول میں جس تائید دین کا ذکر ہے، اُس سے مراد تہذیب (civilization) کے ذریعے وجود میں آنے والی تائید ہے، یعنی فکر و عمل کی سطح پر دین حق کے لیے تمام مواقع کا کھل جانا۔ تائید دین کے اس واقعے کا ابتدائی نصف حصہ مسلم تہذیب کے زمانے پیش آیا، اور تائید دین کے اس واقعے کا بقیہ نصف حصہ مغربی تہذیب کے ذریعے انجام پایا۔ مذکورہ حدیث رسول میں، فاجر انسان سے مراد اصل سیکولر انسان ہے۔