اخوانِ رسول
Al-Risala, August 2011, pp. 23–24
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق، دورِ آخر میں اہلِ ایمان کے درمیان ایک دعوتی گروہ ظاہر ہوگا۔ حدیث میں اس گروہ کو اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: وددتُ أنا قد رأينا إخواننا۔ قالوا: أو لسنا إخوانك يا رسول الله ، قال : بل أنتم أصحابي، وإخواننا الذين لم يأتوا بعد (صحیح مسلم، كتاب الطهارة) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے اخوان (بھائیوں) کو دیکھوں۔ صحابہ نے کہا کہ
اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے اخوان (بھائی) نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ تم میرے ہمارے اخوان وہ ہوں گے جو ابھی ظاہر نہیں ہوئے۔
حقیقت یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دینِ توحید کی جو تاریخ شروع ہوئی، اُس میں دو گروہ ایسے ہیں جن کے لیے مقدر تھا کہ وہ دینِ توحید کے دعوتی اظہار میں نمایاں رول ادا کریں۔ ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ اصحابِ رسول نے ساتویں صدی کے نصف اول میں اپنا خصوصی رول ادا کیا۔ موجودہ زمانے میں دعوت واظہارِ دین کا یہی رول وہ دوسرا گروہ انجام دے گا جس کو اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔
دونوں گروہوں میں سے کسی گروہ کا رول پر اسرار کرامت کے طور پر نہیں ہوگا، بلکہ وہ معلوم اسباب کے تحت ہوگا۔ دونوں زمانوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے حالات پیدا کئے جائیں گے جن کو استعمال کرتے ہوئے دونوں گروہ اپنا مطلوب رول انجام دیں گے۔ دونوں گروہ دراصل دو الگ الگ تاریخی عمل کے نقطۂ انتہا (culmination) ہوں گے۔