Al-Risala · August 2011

اخوانِ رسول کی صفات

Al-Risala, August 2011, pp. 24–29

By Maulana Wahiduddin Khan

اخوانِ رسول کی دو خاص صفتیں ہوں گی— ایک صفت کا تعلق معرفتِ دین سے ہے، اور دوسری صفت کا تعلق دعوتِ دین سے۔ یہ دونوں صفات یکساں طور پر ضروری ہیں۔ ان میں سے کسی ایک صفت کا فقدان بھی کسی گروہ کو اخوانِ رسول کا رول ادا کرنے کے لیے نااہل بنا دیتا ہے۔ پہلی صفت کو سمجھنے کے لیے اس حدیثِ رسول کا مطالعہ کیجئے: بدأ الإسلام غريباً وسيعود كما بدأ، فطوبى للغرباء (صحیح مسلم، کتاب الإيمان) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی اسی طرح دوبارہ اسلام اجنبی ہو جائے۔ پس مبارک باد ہو اجنبیوں کے لیے۔ اس حدیثِ رسول میں بتایا گیا ہے کہ عام قانونِ فطرت کے مطابق، مسلمانوں کی اگلی نسلوں کے اندر زوال (de-generation) پیدا ہوگا۔ وہ بدستور اسلام کا نام لیں گے، لیکن وہ حقیقی اسلام سے نا آشنا ہو چکے ہوں گے۔ وہ لوگ قابلِ مبارک باد ہیں جو بعد کے زمانے میں اصلِ اسلام کو دریافت

کریں اور از سر نو اس پر قائم ہو جائیں۔

بعد کے مسلمانوں میں اس قسم کا زوال کیوں پیش آئے گا۔ اس کا سبب رسول کے زمانے سے اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلمانوں کے لیے اسلام کو سمجھنے کا قریبی ماخذ رسول نہیں ہوتا، بلکہ بعد کے زمانے کے اکابر اُن کے لیے اُن کے دین کا قریب ماخذ بن جاتے ہیں، جن کو قرآن میں احبار و رُہبان (10:30) کہا گیا ہے۔

صحابہ کے لیے ان کے دین کا قریبی ماخذ رسول تھا۔ تابعین کے لیے اُن کے دین کا قریبی ماخذ صحابہ اس کے بعد تبع تابعین کے لیے اُن کے دین کا قریبی ماخذ تابعین بن گئے۔ اسی طرح ہر نسل لیے اس کے دین کا قریبی ماخذ بدلتا رہا۔ یہ تبدیلی ہمیشہ تدریجی طور پر ہوتی ہے۔ اس بنا پر وہ غیر محسوس طور پر جاری اس کا اندازہ لوگوں کو صرف اُس وقت ہوتا ہے جب کہ بڑھتے بڑھتے وہ بڑی تبدیلی تک پہنچ جائے۔ مثلاً رسول سے جو دین صحابہ کو ملا، اُس میں سارا زوراسپِرٹ (spirit) پڑتا۔ اس کے بعد ہر نسل میں اس کے اندر تبدیلی آتی رہی، یہاں تک کہ عباسی دور میں جب فقہاء کا زمانہ آیا تو اب سارا راز ور مسائل، بالفاظ دیگر فارم (form) پر دیا جانے لگا۔ رسول کے زمانے میں، دین مبنی بر روح (spirit-based) تھا، فقہاء کے زمانے میں، دین مبنی بر مسائل (form-based) بن گیا ہے۔

اسی طرح رسول کے زمانے میں اسلام کا خارجی نشانہ صرف دعوت تھا۔ اُس زمانے میں اسلام ایک دعوتی مذہب کی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر بعد کی نسلوں میں دھیرے دھیرے دعوتی ذہن کم ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ جب آٹھویں صدی میں مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر قائم ہو گیا تو مسلمانوں کے اندر دعوتی نشانہ سرے سے ختم ہو گیا۔ اب صرف ایک چیز اُن کا نشانہ بن گئی اور وہ تھا سیاسی اقتدار۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام کا کوئی کلچر نہیں تھا۔ میں رسول اور اصحاب رسول اسلام کو ایک مشن کے طور پر اختیار کئے ہوئے تھے۔ پھر جب اسلام مختلف ملکوں میں پھیلا اور دوسری قوم کے لوگوں سے مسلمان کے تعلقات قائم ہوئے۔ اس کے بعد مسلسل انٹرایکشن (interaction) کے ذریعہ مسلمانوں کے درمیان ایک کلچر بننے لگا۔ یہ عمل جاری رہا، یہاں

تک کہ ورہ چیز وجود میں آگئی جس کو مسلم کلچر کہا جاتا ہے۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان یہ تبدیلیاں پوری طرح واقع ہو چکی ہیں، یہاں تک کہ رسول والا اصل اسلام مسلمانوں کے لیے اب اجنبی (غریب) بن چکا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اسلام پر ہیں، حالاں کہ باعتبار حقیقت وہ ایک بدلے ہوئے اسلام پر ہیں، نہ کہ اصل اسلام پر۔ اب اگر چہ اخوانِ رسول کا رول ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے، لیکن اخوان رسول کا رول ادا کرنے کی توفیق صرف اُن لوگوں کو ملے گی جو رسول اور اصحاب رسول والے اسلام کو دوبارہ دریافت (rediscover) کریں، موجودہ مسلمانوں کا زمانہ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے درمیان جو دوری (distance) واقع ہو چکی ہے، اس کو عبور کر کے وہ دوبارہ عہدِ صحابہ میں پہنچیں۔ اخوانِ رسول کا رول ادا کرنے والے اگر چہ اکیسویں صدی میں ہوں گے، لیکن اپنی فکر اور اپنی سیرت اور اپنے مشن کے اعتبار سے وہ اپنے آپ کو اصحابِ رسول کے ہم زمانہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول کا رول اگر چہ زمانے کے اعتبار سے مختلف ہے، لیکن اپنی نوعیت کے اعتبار سے، دونوں کا رول ایک ہے۔

سیرت رسول کے موضوع پر راقم الحروف کی ایک کتاب ’’پیغمبر انقلاب‘‘ (صفحات 208) پہلی بار 1982 میں چھپی۔ اس کتاب کے آخری باب میں دو بڑے دعوتی گروہوں کا ذکر تھا جو پیغمبرانہ مشن میں عظیم تاریخی رول ادا کرے گا۔ کتاب کی یہ سطریں یہاں نقل کی جاتی ہیں : ’’سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ بدر کے میدان میں جب طاقت و اہل کفر بظاہر کمزور اہل ایمان کے اوپر ٹوٹ پڑے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدتِ احساس کے تحت سجدے میں گر گئے اور اللہ تعالیٰ سے نصرت کی دعائیں مانگنے لگے۔ اس نازک لمحہ میں آپ کی زبان سے جو کلمات نکلے، ان میں سے ایک جملہ یہ تھا: اللهم إن تهلك هذه العصابة، لا تُعبد بعدها فی الارض (خدایا، اگر یہ گروہ ہلاک ہو گا تو اس کے بعد زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی)۔ یہ کوئی مبالغہ نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تین سو تیرہ روحیں جو بے سروسامانی کے باوجود بدر کے معرکہ میں کھڑی ہوئی تھیں،

یہ محض عام قسم کے تین سو تیرہ لوگ نہ تھے۔ یہ عصابہ دراصل وہ گروہ تھا جس پر ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی۔ اسی طرح آج دوبارہ ایک نیا عصابہ (گروہ) درکار ہے جس پر پچھلی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی ہو، جو اپنے شعور کے اعتبار سے پچھلی ہزار سالہ تاریخ کا وارث ہو، جو اپنے کردار کے اعتبار سے اُن امکانات کو واقعہ بنانے کا اٹل ارادہ اپنے اندر لئے ہوئے ہو، جو سنجیدہ فیصلے کی اُس حد پر پہنچا ہوا ہو جہاں پہنچ کر آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے مقصد سے پوری طرح وابستہ رہے، کوئی بھی خارجی واقعہ اس کو اس کے نشانے سے ہٹانے والا ثابت نہ ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے کاگ (cog) میں اپنا کاگ ملائیں گے ، اور بالآخر یقینی کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے“۔ اس اقتباس میں جن دو عصابہ کا ذکر تھا، اُن میں سے پہلا عصابہ وہ ہے جس کو اصحاب رسول کہا جاتا دوسرا عصابہ وہ ہے جس کا ذکر پیشین گوئی کے طور پر حدیث رسول میں آیا ہے۔ اس دوسرے عصابہ کو حدیث میں اخوانِ رسول (إخواننا الذين لم یاتوا بعد) کہا گیا ہے—اصحاب رسول وہ گروہ ہے جس نے ساتویں صدی عیسوی میں اپنا معلوم تاریخی رول ادا کیا۔ اخوان رسول غالباً وہ گروہ ہوگا جو اکیسویں صدی عیسوی میں اپنا مطلوب رول ادا کرے گا۔

اس قسم کا رول ادا کرنا کوئی سادہ بات نہیں ہے۔ ایسا گروہ ہمیشہ ایک لمبے تاریخی عمل کا نقطہ انتہا اصحاب رسول اپنے سے پہلے کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کا نقطہ انتہا تھے، اسی طرح اخوان رسول اپنے سے پہلے کے ایک ہزار سال سے زیادہ لمبے تاریخی عمل کا نقطہ انتہا ہوں گے۔ (اصحاب رسول) نے اپنا مطلوب رول پیغمبر کی رہنمائی میں ادا کیا۔ بار بار ایسا ہوا کہ صحابہ پر یہ امر واضح نہ تھا کہ پیش آمدہ صورت حال میں اُنھیں کیا کرنا چاہیے۔ پیغمبر پر خدا نے وحی بھیجی اور پیغمبر نے اس کے مطابق ، صحابہ کی رہنمائی کی۔ اس کی ایک مثال معاہدہ حدیبیہ کا واقعہ ہے۔ اُس وقت صحابہ میں سے کسی بھی شخص کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس نازک موقع پر اُنھیں کیا کرنا چاہیے۔ آخر کار، پیغمبر کی رہنمائی میں فیصلہ اسی طرح صحابہ کا پورا رول پیغمبر کی رہنمائی میں انجام پایا۔

دوسرے عصابہ (اخوان رسول) کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اخوان رسول کا رول تمام تر

اجتہادی رول ہوگا۔ اُن کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ حالات کے گہرے مطالعہ کے ذریعے اپنا رول دریافت کریں اوراُس کے مطابق عمل کرکے اخوان رسول کے درجے کے مستحق ٹھہریں۔ اِس معاملے میں اخوان رسول کے لیے صرف دو ہی چیزیں مددگار ہوسکتی ہیں، وہ دو چیزیں ہیں—دعا، اور اجتہاد۔ راقم الحروف نے اِس موضوع پر بہت زیادہ غور کیا ہے۔ اس تمام متعلق لٹریچر کو پڑھنے کی کوشش اسی کے ساتھ لمبی مدت تک اپنے دن اور اپنی راتوں کو دعا میں گزارا ہے۔ ان مسلسل کوششوں کے بعد ذاتی طور پر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اکیسویں صدی میں وہ تمام حالات پوری طرح ظاہر ہوچکے ہیں جو اخوان رسول کو اپنا تاریخی رول ادا کرنے کے لیے درکار ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق، اب انتظار کا وقت ختم ہوچکا ہے اور عمل کا وقت آخری طور پر آچکا ہے۔ اخوان رسول کے لیے خوش خبری قرآن کی سورہ الفیل (105) اور سورہ قریش (106) دوتوأم (twin) سورتیں ہیں۔

یہ دونوں سورتیں تقریباً ایک ہی وقت میں مکی دور کی ابتدا میں نازل ہوئیں ۔ یہ دونوں سورتیں اصحاب رسول کے لیے خوش خبری کی حیثیت رکھتی تھیں۔

اِن سورتوں میں یہ بتایا گیا تھا کہ اصحاب رسول کو اپنے زمانے میں جو رول ادا کرنا ہے، اُس میں خدا پوری طرح اُن کے ساتھ ہے۔ اصحاب رسول خدا کے ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہیں۔ خدا نے اُن کے لیے پیشگی طور پر وہ اسباب مہیا کر دیے ہیں جن کی تائید سے وہ اپنے مطلوب رول کو بخوبی طور پر ادا کر سکیں۔ سورہ الفیل میں کعبہ کے تحفظ کا ذکر ہے۔ کعبہ دراصل وہ تاریخی عمارت تھی جس کے لیے یہ مقدر تھا کہ وہ اسلام کی تحریک توحید کا عالمی مرکز بنے۔ اِسی مقصد کے تحت اللہ تعالی نے کعبہ کو معجزاتی طور پر ابرہا کے حملے سے بچایا۔ اس کے بعد ہی ممکن ہوا کہ اصحاب رسول، کعبہ اور بلدِ امین کو مرکز بنا کر مبنی بر توحید انقلاب برپا کریں۔ سورہ قریش میں، قریش کے لیے خدا کی خصوصی نصرت کا ذکر ہے۔ یہ قریش کون لوگ تھے، یہ اسماعیلی نسل کے وہ منتخب لوگ تھے جو دراصل مستقبل کے اصحاب رسول تھے۔ خدا کو مطلوب تھا کہ وہ محفوظ رہیں اور آخر کار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دے کر وہ تاریخی رول ادا کریں جو اُن کے لیے مقدر

ہو چکا ہے۔ قرآن کے ساتھ خدا کا جو خاص معاملہ ہوا، اُس میں سے ایک معاملہ وہ تھا جس کو سورہ قریش کے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أطعمهم من جوع، و امنهم من خوف (106:4) یعنی اُن کے لیے خصوصی طور پر رزق کی فراہمی اور خصوصی طور پر امن کی فراہمی کا انتظام کیا گیا۔ قرآن کی ان دونوں سورتوں میں براہِ راست طور پر اُس تاریخی معاملے کا ذکر ہے جو اصحابِ رسول کے ساتھ پیش آیا۔ اسی کے ساتھ بالواسطہ طور پر ان دونوں سورتوں میں اُس واقعے کی طرف بھی اشارہ ہے جو بعد کے اخوانِ رسول کے ساتھ پیش آنے والا تھا، یعنی اخوانِ رسول کے لیے ایک طرف مرکزِ عمل کی فراہمی اور دوسری طرف مواقع کار کے دروازے کا کھل جانا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اکیسویں صدی میں نصرت الہی کا یہ وعدہ امکانی طور پر ایک واقعہ بن چکا ہے۔ اصحابِ رسول کے بارے میں حضرت عمر فاروق نے کہا تھا کہ: من سرّه أن يكون مثل هذه الامة فليؤدّ شرط الله فيها۔

یہ بات جو عمر فاروق نے قدیم زمانے میں اصحابِ رسول کے بارے میں کہی تھی، اُسی کو موجودہ زمانے میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ـــــ جو لوگ اخوانِ رسول کی جماعت میں شامل ہونے کی خوش قسمتی حاصل کرنا چاہتے ہوں، اُن کو چاہیے کہ وہ عصرِ حاضر کو سمجھیں اور جدید مواقع کو استعمال کرکے وہ رول ادا کریں جو اخوانِ رسول کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔

اصحابِ رسول کے لیے ساتویں صدی عیسوی میں تین خاص امکانات فراہم کئے گئے تھے۔ صدی عیسوی میں اخوانِ رسول کے لیے بھی جدید حالات کے اعتبار سے تین خاص مواقع پوری طرح فراہم ہو چکے ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ کچھ باحوصلہ اہل ایمان ان مواقع کو دریافت کریں اور اپنے حکیمانہ عمل کے ذریعہ اس امکان کو واقعہ بنائیں۔ ان تینوں امکانات کو حسب ذیل الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے: 1- متلاشی حق نسل (seeker generation) 2- الیکٹرانک مرکز (electronic centre) 3- امن اور کشادہ رزق (peace and plenty)

Printed page