Al-Risala · August 2011

متلاشی حق نسل

Al-Risala, August 2011, pp. 29–32

By Maulana Wahiduddin Khan

مکہ میں قبائل قریش کے جو لوگ تھے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، حق کے متلاشی

(truth seeker) لوگ تھے۔ روایات میں ایسے لوگوں کو حُنفاء کہا گیا ہے، یعنی متلاشی۔ انھیں حفاء میں سے ایک زید بن عمر بن نُفیل تھے۔ اسماء بنت ابی بکر کہتی ہیں کہ میں نے زید بن عمر و بن نُفیل کو دیکھا ہے۔ وہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: اللهم إني لو أعلم أحب الوجوه إليك، عبدتك به، ولكني لا أعلم (السيرة النبوية لابن کثیر، جلد 1، صفحہ 154) یعنی اے اللہ، اگر میں جانتا کہ تیری عبادت کرنے کا سب سے اچھا طریقہ کیا ہے تو میں اُسی طرح تیری عبادت کرتا، لیکن میں اس کو نہیں جانتا۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر بنواسماعیل کے تقریباً تمام افراد کا یہی حال تھا۔ اپنی خصوصی صحرائی تربیت کے نتیجے میں یہ لوگ متلاشی حق (truth seeker) تھے، نہ کہ منکر حق۔ یہی وجہ ہے کہ دھیرے دھیرے اُن کے تقریباً تمام عورتوں اور مردوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ابتدا میں اُن کی مخالفت بے خبری کی بنا پر تھی، نہ کہ حقیقۃً سرکشی کی بنا پر۔ موجودہ زمانے کی جدید نسل کا کیس بھی عام طور پر یہی ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی انقلابات اور دوسرے فکری انقلاب کے نتیجے میں لوگوں کا جو ذہن بنا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، منکر حق کا کیس نہیں ہے، بلکہ وہ متلاشی حق (truth seeker) کا کیس ہے۔ اس معاملے کو ایک حالیہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔

ایک انگریز جوڑ امغربی تہذیب سے غیر مطمئن تھا۔ آخر کار دونوں لندن چھوڑ کر دہلی آ گئے۔ دہلی میں آج کل وہ بیمار حیوانات کا ایک اسپتال چلا رہے ہیں۔ وہ حیوانات کی خدمت میں اپنے لیے اطمینان تلاش کر رہے ہیں۔ ہماری دعوتی ٹیم کے ایک صاحب اُن سے ملے اور اُن کو قرآن کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ انھوں نے اس کو نہایت شوق سے لیا اور کہا کہ میں اس کو ضرور پڑھوں گا۔ انھوں نے کہا میری ہمیشہ یہ خواہش تھی کہ میں سچائی کے دوسرے تصور کو جانوں:

I always wanted to know another version of the truth. یہی موجودہ زمانے کے تقریباً تمام عورتوں اور مردوں کا حال ہے۔ نئے افکار اور نئے تجربات نے اُن کو شعوری یا غیر شعوری طور پر سچائی کا متلاشی بنا دیا ہے۔ یہ صورت حال اکیسویں صدی کے اخوان رسول کو

عین وہی موقع فراہم کر رہی ہے جو ساتویں صدی کے اصحاب رسول کے حصے میں آیا تھا۔ جو لوگ اس موقع کو دریافت کرکے اس کو استعمال کریں، وہی دراصل اخوان رسول کا رول ادا کریں گے۔ دعوتی کام کو منظم کرنے کے معاملے میں بھی یہی امکان پوری طرح پیدا ہوچکا ہے۔ زمانے میں کوئی دعوتی کام عملاً صرف محدود علاقے میں ہوسکتا تھا۔ حدیث کے الفاظ میں، آج یہ مطلوب ہے کہ سطح زمین کے تمام چھوٹے اور بڑے گھروں میں اسلام کا کلمہ داخل کر دیا جائے۔ (لايبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام) ۔ اس سے کم درجے کے کسی کام کو مطلوب درجے کا کام قرار نہیں دیا جا سکتا۔

موجودہ زمانے میں جو دعوتی کام مطلوب ہے، وہ عالمی دعوت کا کام ہے۔ اسی مصلحت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے موجودہ زمانے میں ایسے حالات پیدا کئے جس کی بنا پر پوری دنیا ایک گلوبل ولیج (global village) بن گئی۔ آج یہ ممکن ہوگیا کہ جدید وسائل کو استعمال کرکے عالمی دعوت کا کام آج عالمی دعوت کے مشن کو مقامی مرکز درکار نہیں ہے، بلکہ اس کو عالمی مرکز درکار ہے۔ خدا کی خصوصی نصرت کا یہ امکان آج پوری طرح وجود میں آچکا ہے۔ اس امکان کو ایک لفظ میں، دعوت کا الیکٹرانک سنٹر کہا جاسکتا ہے۔ دورِ جدید کا الیکٹرانک سنٹر بظاہر ایک محدود رقبہ زمین پر ہوگا، لیکن اپنے دعوتی رول کے اعتبار سے وہ عالمی سطح پر اپنے کام کو منظم کرنے کا اہل ہوگا۔ امن اور کشادہ رزق امن اور رزق کی کشادگی کے اعتبار سے بھی یہی معاملہ پیش آیا ہے۔ موجودہ زمانہ پورے معنوں میں وہ زمانہ ہے جب کہ امن اور رزق کی کشادگی دونوں کے مواقع پوری طرح حاصل ہو چکے ہیں۔ اصولی طور پر آج کے انسان کے لیے صرف امن کا چوائس (choice) باقی رہا ہے۔ تشدد اور جنگ کا چوائس اب اصولی طور پر ختم ہو چکا ہے۔ عمومی تباہی کے ہتھیار (weapons of mass destruction) کے وجود میں آنے کے بعد اب صرف پر امن طریق کار ہی کے ذریعے کوئی مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔

اب متشددانہ طریقہ کار کے ذریعے کسی مثبت مقصد کا حصول ممکن ہی نہیں رہا۔

مزید یہ کہ آج مذہبی آزادی (religious freedom) کا حق ایک مطلق حق کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اگر آدمی اپنی طرف سے جارحانہ انداز اختیار نہ کرے تو وہ کسی بھی رکاوٹ کے بغیر عالمی سطح پر دعوتی کا کام انجام دے سکتا ہے۔ گویا کہ قدیم عرب (قریش) کو جو امن محدود طور پر کعبہ کی نسبت سے ملا تھا، وہ امن اب جدید دنیا میں ایک زمانی انقلاب کے نتیجے میں عالمی سطح پر حاصل ہو چکا ہے۔ یہی معاملہ رزق کی کشادگی کا ہے۔ موجودہ زمانے میں اہل اسلام کے لیے رزق کی کشادگی کا واقعہ اتنے بڑے پیمانے پر ہوا ہے جیسا واقعہ اس سے پہلے تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس کشادگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ مسلم ملکوں کی زمین کے نیچے تیل کا خزانہ دریافت ہو گیا۔ جاتا ہے کہ دنیا کے تیل کے ذخائر کا 75 فی صد حصہ مسلم ملکوں میں واقع ہے۔ دوسری طرف، جدید صنعتی انقلاب نے کسب رزق کے مواقع سیکڑوں گنا زیادہ بڑھا دیے ہیں۔ اگر اہل اسلام اپنی طرف سے کوئی مسئلہ پیدا نہ کریں تو آج وہ دعوت الی اللہ کا کام رزق کی فراوانی کے ماحول میں انجام دے سکتے ہیں، جب کہ پچھلے لوگوں کو رزق کی تنگی کے ماحول میں دعوت الی اللہ کا کام انجام دینا پڑتا تھا۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ جدید دور (modern age) ہر اعتبار سے ایک نیا دور ہے۔ ایک لفظ میں، اس کو روایتی دور کا خاتمہ اور غیر روایتی دور کا ظہور کہہ سکتے ہیں۔ آج کا دور فکر و عمل کے تمام پہلوؤں کے اعتبار سے کامل طور پر ایک بدلا ہوا دور ہے۔ یہ تبدیلی اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ قدیم زمانے کا آدمی اگر اچانک زندہ ہو کر آج کے زمانے میں آئے تو وہ سمجھے گا کہ شاید میں ایک خواب دیکھ رہا ہوں، کیوں کہ یہاں کی ہر چیز اس کو نا قابل قیاس حد تک بدلی ہوئی دکھائی دے گی۔

Printed page