ہندوستان میں خصوصی مواقع
Al-Risala, August 2011, pp. 34–39
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عصابتان من أمتی أحرزهما اللہ من النار: عصابة تكون مع عیسی بن مریم، وعصابة تغزوا الهند (صحیح الجامع للالباني، رقم الحدیث: 4012) یعنی میری امت میں دو گروہ ہیں جن کو اللہ نے آگ کے عذاب سے ایک گروہ وہ ہے جو عیسی بن مریم کے ساتھ ہوگا، اور دوسرا گروہ وہ ہے جو ہند میں غزوہ کرے گا۔ اس حدیث رسول میں مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی کی گئی ہے۔ بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ دورِ آخر میں دعوت الی اللہ کا جو کام مقدر ہے، وہ غالباً ہندوستان میں انجام پائے گا۔ دعوت الی اللہ کا یہ کام قیامت سے پہلے ہوگا۔ اس کام کی انجام دہی کے بعد قیامت آجائے گی اور انسان کے لیے دوسرا دورِ حیات شروع ہوجائے گا، جہاں انسانوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے، اور ایک گروہ کے لیے انعام اور دوسرے گروہ کے لیے سزا کا فیصلہ کیا جائے۔ موجودہ زمانے میں دنیا میں تقریباً 200 ممالک ہیں۔ اُن میں سے ایک ہندوستان ہے۔ مختلف ممالک کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بات بہت زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ قیامت سے پہلے دعوت الی اللہ کا جو آخری کام ہونے والا ہے، اس کا مرکز غالباً ہندوستان ہوگا۔ دعوت الی اللہ کا یہ کام عالمی سطح پر انجام پائے گا، لیکن مرکزِ عمل کے اعتبار سے، ہندوستان کو اُس میں خصوصی مقام حاصل ہوگا۔ عجیب بات ہے کہ اکیسویں صدی کے ہندوستان میں صرف دو گروہ ہیں جو دعوت الی اللہ کے کام میں خصوصی طور پر سرگرم عمل ہیں۔ میرے علم کے مطابق، موجودہ زمانے میں یہی دو گروہ ہیں جن کے اندر دعوت کا حقیقی اور بے آمیز شعور پایا جاتا ہے۔ ان دونوں گروہوں میں سے ایک گروہ کا مرکز جنوبی ہند میں ہے، اور دوسرے گروہ کا مرکز نئی دہلی میں۔ هذا ما عندي، والعلم عند الله۔ دور کی تبدیلی قرآن کی سورہ النور میں اہل ایمان کے لیے استخلاف في الارض (55: کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مستقبل کے لیے یہ خبر دی گئی ہے کہ خدا اہل ایمان کی حالتِ خوف کے
بعد اس کو امن سے بدل دے گا (وليبدلنهم من بعد خوفهم أمنا)۔
قرآن کی اس آیت میں جس تبدیلی کا ذکر ہے، اس کا تعلق نہ صرف سیاسی تبدیلی سے ہے اور نہ صرف زمانی تبدیلی سے۔ اس آیت میں دراصل دور کی تبدیلی کی خبر دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دور اول میں اسلام کے ذریعے جو انقلاب آیا، اُس کے نتیجے میں انسانی تاریخ میں ایک پراسس (process) یہ پراسس آخرکار اس انجام تک پہنچے گا کہ دنیا سے خوف کا دور ختم ہو جائے اور امن کا دور قائم اس کے بعد اہلِ ایمان توحید کے مشن کو مذہبی آزادی کے ماحول میں انجام دینے کے قابل ہو جائیں گے، جب کہ اس سے پہلے توحید کے مشن کو مذہبی جبر کے ماحول میں انجام دینا پڑتا تھا۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہ تبدیلی مکمل طور پر آچکی ہے۔ بیسویں صدی مذکورہ تاریخی پراسس کے نقطۂ انتہا (culmination) کی صدی ہے۔ اب لڑائی یا متشددانہ طریقہ کار کا مل طور پر ایک غیر متعلق (irrelevant) طریقہ بن چکا ہے۔ اب اگر اہل ایمان کو دوبارہ ’’خوف‘‘ کی حالت پیش آئے گی تو وہ خود اُن کی اپنی غلط پالیسی کی بنا پر آئے گی، نہ کہ زمانی حالت کی بنا پر۔ دور کی یہ تبدیلی پرامن دعوتی مشن کے لیے ایک عظیم تائید کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو لوگ اس راز کو نہ سمجھیں اور بدستور متشددانہ کارروائی کرتے رہیں، وہ اپنے بارے میں اندھے پن کا ثبوت دے رہے یہ اندھا پن اتنا زیادہ سنگین ہے کہ اْس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں کفر وانکار کا نام دیا گیا ہے۔ تہذیب (civilization) کا آغاز قدیم زمانے میں اْس وقت ہوا جب کہ انسان نے لوہے کو یہ دور ہزاروں سال تک چلتا رہا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مسلم تہذیب کا آغاز ہوا۔ مسلم تہذیب کا بنیادی کارنامہ یہ تھا کہ اْس نے فطرت (nature) کو پرستش کے مقام سے ہٹا کر اس کو تحقیق (investigation) کے دور میں داخل کیا۔ اس کے بعد سولھویں صدی میں مغربی تہذیب کا دور اس دور کا خاص پہلو میکانائزیشن آف پاور (mechanization of power) تھا۔ تہذیب کا سفر امکان کے اعتبار سے، ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ بیسویں صدی عیسوی میں اس کی
ترقی اپنی آخری حد پر پہنچ گئی۔ معلوم ہوا کہ انسان کی قائم کردہ میکانکل صنعت ایک لازمی مسئلے سے دوچار ہے، اور وہ کثافت (pollution) ہے۔
کثافت کے مسئلے نے موجودہ زمانے میں فضاؤں اور سمندروں کو آلودگی سے بھر دیا۔ یہ الفاظ آج پوری طرح واقعہ بن چکے ہیں: ظھر الفساد فی البرّ والبحر بما كسبت أيدى الناس ليذيقهم بعض الذى عملوا، لعلهم يرجعون (30:41) یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تا کہ اللہ مزا چکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آجائیں ۔ عارفانہ دریافت کا سفر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: ولو أن ما في الأرض من شجرة أقلام والبحر يمدّه من بعده سبعة أبحر، ما نفدت كلمات الله، ولو جئنا بمثله مددا (31:27) یعنی اگر زمین میں جو درخت ہیں، وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں، تب ابھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔
اس آیت میں کلمات اللہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دوسرے مقام پر، آلاء اللہ کہا گیا ہے، یعنی عجائب خداوندی (wonders of God)۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو عبادت (51:56) کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔
صحابی مفسر عبداللہ بن عباس نے اس آیت میں، عبادت کا مطلب معرفت بتایا ہے۔ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک خصوصی مخلوق کے طور پر پیدا کیا ہے، انسان کو سوچنے والا دماغ دیا ہے جو کسی اور کو نہیں دیا۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ غور و فکر کے ذریعے تخلیقات میں چھپے ہوئے آلاء اللہ کو دریافت کرے، اور استعجاب کے درجے میں اُن کا اعتراف کرے۔ گویا کہ قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ کہا گیا ہے:
I created man only to discover and appreciate the wonders of God. تہذیب کا سفر دراصل اسی عارفانہ دریافت کا سفر تھا، مگر اس سفر کا بھی ایک فی صد سے بھی
بہت کم حصہ طے ہوا تھا کہ اس کی حد آ گئی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ کلمات اللہ یا آلاء اللہ ابھی لامتناہی حد تک باقی ہیں ، پھر کیا ایسا ہوگا کہ انسانی تاریخ یوں ہی نا تمام طور پر ختم ہو جائے اور کلمات اللہ اسی طرح مخفی حالت میں باقی رہیں ۔ ایسا ہونا نا ممکن ہے۔ ضروری ہے کہ تخلیق کا منصوبہ پورا ہو، اتمامِ نور (8 کا عمل اپنی آخری حد تک پہنچے، وہ خدائی پیشین گوئی واقعہ بنے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وأشرقت الأرض بنور ربها (69 :39)۔ قیامت کے بعد بننے والی دنیا دراصل اسی ربانی تہذیب یا ان فولڈنگ کے عمل (process of unfolding) کا تسلسل (continuation) ہے۔ موجودہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں صالح انسان اور غیر صالح انسان دونوں ملے ہوئے ہیں۔ قیامت کے بعد دونوں کو چھانٹ کر ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے گا۔ غیر صالح لوگوں کو ابدی طور پر محرومی کی دنیا میں ڈال دیا جائے گا اور صالح انسانوں کو الگ کر کے ایک کامل اور معیاری دنیا میں بسایا جائے گا، اسی کا نام جنت ہے۔ جنت دوسرے الفاظ میں ، ربانی تہذیب (divine civilization) کی دنیا ہے۔
ربانی تہذیب کے تحت جو عمل انجام پائے گا ، اُس کو ایک لفظ میں ، آلاء اللہ کی اَن فولڈنگ (unfolding of divine wonders) کہا جا سکتا ہے۔
یہ عمل سادہ طور پر ایک عمل نہیں ہوگا، بلکہ وہ اعلیٰ ترین مسرت (super joy) کا تجربہ ہوگا۔ یہاں انسان ہر لمحہ ایک نئی پر اہتزاز دریافت (thrilling discovery) کرے گا۔ لازوال مسرت کی اس دنیا کی کوئی انتہا نہ ہوگی اور نہ وہ کبھی ختم ہوگی۔ اسی جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے: خالدين فيها لا يبغون عنها حولا (18: 108)۔
قرآن اور حدیث میں اہل جنت کے آرام و راحت کے لیے بہت سی چیزیں موجود ہوں گی۔ جنت میں آرام و راحت کی حیثیت دراصل خدائی ضیافت (divine hospitality) کی ہوگی ، یعنی اہل جنت کی اصل سرگرمیاں اس لیے ہوں گی کہ وہ ربانی تہذیب کو بروئے کار لائیں۔ اسی کے ساتھ
اہل جنت کے لیے خدا کی طرف سے ہر قسم کے آرام و راحت کا سامان فراہم کیا جائے گا، یہاں تک کہ اُن کی تمام خواہشیں کامل فل فل منٹ (total fulfilment) کے درجے میں پوری ہونے لگیں۔ معرفت کا ابدی سفر وہ کون خوش نصیب لوگ ہوں گے جو آخرت کی روحانی تہذیب (spiritual civilization) کو ظہور میں لائیں گے اور تخلیق میں خدائی عجائب کو اُن فولڈ (unfold) کرنے کا ابدی رول ادا کریں یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں اس انوکھی صلاحیت کا ثبوت دیں کہ وہ دنیا کے محدود حالات میں معرفتِ خداوندی کی دریافت کی آخری حد تک پہنچیں۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو اُن کو اس کا اہل ثابت کرے گی کہ وہ آخرت کے لامحدود حالات میں خدائی معرفت کی دریافت کا ابدی سفر طے کریں۔ ساتویں صدی عیسوی میں بنو اسماعیل کو یہ موقع ملا کہ وہ پیغمبر آخر الزماں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب کے اصحاب بن کر روایتی دور میں وہ عمل (process) جاری کریں جو آخر کار جنت کی روحانی تہذیب (spiritual civilization) تک پہنچنے والا تھا۔
بنو اسماعیل کی وہ صفت کیا تھی جس کی بنا پر وہ اصحابِ رسول کا درجہ پانے کے مستحق قرار پائے، اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ قدیم مکہ میں قبائل قریش کے جو لوگ تھے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، حق کے متلاشی تھے۔ روایات میں ایسے لوگوں کو حنفاء کہا گیا ہے، یعنی متلاشی۔ میں سے ایک زید بن عمر بن نُفیل تھے۔ اسماء بنت ابی بکر کہتی ہیں کہ میں نے زید بن عمر بن نُفیل کو وہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے: اللهم إنّى لو أعلم أحبّ الوجوه إليك، عبدتك به، ولكنى لا أعلم (السيرة النبوية لابن كثير، 1/154) یعنی اے اللہ، اگر میں جانتا کہ تیری عبادت کرنے کا سب سے اچھا طریقہ کیا ہے تو میں اُسی طرح تیری عبادت کرتا، مگر میں اس طریقے کو نہیں جانتا۔
یہ ایک شخصی واقعہ نہیں، یہ دراصل بنو اسماعیل کی عمومی صفت کی ایک شخصی نمائندگی ہے۔ صدی عیسوی کے بنو اسماعیل قبل از اسلام کی مذہبی روایات میں آخری حد تک پہنچ چکے تھے، اس لیے اللہ
تعالیٰ نے اُن کو چنا کہ وہ بعد از اسلام کے انقلابی رول کو انجام دیں۔ آخرت کے دور میں جو مطلوب رول ادا کرنا ہے، اُس کو ایک لفظ میں، روحانی تہذیب (spiritual civilization) کو ظہور میں لانے کا رول کہا جا سکتا ہے۔ اس رول کو انجام دینے کے لیے اعلیٰ سطح کے روحانی سائنس داں (spiritual scientists) درکار ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا شعور موجودہ دنیا کے اعتبار سے، آخری دریافت کے مرحلے تک یہ وہ اعلیٰ روحیں ہیں جو خدائی تخلیقات میں اس کے اندر چھپے ہوئے خدائی عجائب (divine wonders) کو دریافت کریں۔ اُن کی یہ دریافت اتنی گہری ہو کہ وہ محسوس کریں کہ اُس کے اظہار کے لیے اُن کے پاس الفاظ موجود نہیں ہیں۔ کائناتی عجائب کو دیکھنے کے بعد دوبارہ وہ کہہ سکیں کہ ـــ خدایا، میں نہیں جانتا کہ میں تیرے تخلیقی عجائب کا بیان کس طرح کروں، اگر میں اس کو جانتا تو یقیناً میں انھیں مطلوب الفاظ میں اس کا اظہار کرتا: O God, I don't know how to appreciate your wonders. If I had known it, I would certainly have appreciated it in those words. موجودہ دنیا میں خدائی عجائب (divine wonders) کی ان فولڈنگ (unfolding) عام انسانی الفاظ میں ہوئی تھی، آخرت کی دنیا میں خدائی عجائب کی ان فولڈنگ خدا کی طرف سے دئے ہوئے خصوصی الفاظ کے ذریعے ہوگی۔ دنیا میں یہ کام انسان کی مدد سے انجام پایا تھا، آخرت میں یہ کام فرشتوں کی مدد سے انجام پائے گا۔ اس کے بعد عجائب خداوندی کے ظہور کا وہ واقعہ پیش آئے گا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وأشرقت الأرض بنور ربھا ۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل پتے پر رابطہ کریں: The Spiritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)
Tel.: 022-42214700, Fax: 022-28236323