Al-Risala · August 2011

حالات نہیں تو کیفیات نہیں

Al-Risala, August 2011, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عرض ربی ليجعل لي بطحاء مكة ذهباً، فقلت : لا يا رب، ولكن أشبع يوماً وأجوع يوماً۔ تضرعت إليك وذكرتك، وإذا شبعت حمدتك وشكرك (رواه احمد والترمذي، بحواله مشكاة المصابيح، رقم الحديث : 5190)

یعنی میرے رب نے مجھے پیش کش کی کہ وہ مکہ کی وادی کو میرے لیے سونا بنا دے۔ میں نے کہا کہ اے میرے رب نہیں، بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میں ایک دن سیر ہو کر کھاؤں اور ایک دن بھوکا پھر جب مجھے بھوک لگے تو میں تجھ سے تضرع کروں اور تجھ کو یاد کروں، اور جب میں شکم سیر ہوں تو تیری حمد کروں اور تیرا شکر ادا کروں۔

اس حدیث رسول کا براہ راست تعلق (direct relevance) روزے سے نہیں ہے، لیکن روزے کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے وہ بے حد اہم ہے۔ اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ کیفیات کا تعلق أحوال سے ہے۔ اگر احوال نہیں تو کیفیات بھی نہیں۔

یہ اصول اتنا زیادہ حتمی ہے کہ حدیث کے مطابق، پیغمبر کا بھی اس میں کوئی استثنا حدیث میں تضرع اور شکر کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ تضرع اور شکر دونوں اعلیٰ ایمانی کیفیات کا نام ہے۔ مگر حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تضرع اور شکر دونوں معمول کے حالات میں پیدا نہیں ہوتے۔ ضروری ہے کہ انسان کے اوپر غیر معمولی حالات گزریں، اس کے بعد ہی وہ تضرع اور شکر جیسی اعلیٰ ایمانی کیفیات سے آشنا ہو سکتا ہے۔ روزہ بظاہر ایک سلبی (negative) عمل ہے، لیکن اگر اس کو حقیقی طور پر انجام دیا جائے تو اس کے بعد وہ ایک عظیم ایجابی (positive) عمل بن جاتا ہے۔ وہ انسان کے لیے ایسی ذہنی اور روحانی ترقیوں کے سفر کا دروازہ کھول دیتا ہے جس کی آخری منزل جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔

Printed page