Al-Risala · August 2011

روزہ اور تزکیہ نفس

Al-Risala, August 2011, pp. 41–46

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایک واقعہ ہے کہ روزہ تزکیہ نفس (purification of soul) کا ذریعہ ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ روزہ رکھنے سے پُراسرار طور پر اپنے آپ آدمی کا تزکیہ ہو جاتا ہے۔ تزکیہ نفس ایک شعوری واقعہ ہے، نہ کہ کوئی پراسرار واقعہ۔ روزہ آٹومیٹک طور پر کسی کا تزکیہ نہیں کرتا۔ تزکیہ کا عمل ایک شعوری پراسس (process) کے ذریعے طے ہوتا ہے اور روزہ اس پراسس کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ تزکیہ ایک نتیجہ کا نام ہے۔ اس نتیجہ سے پہلے ایک پریپریٹری کورس (preparatory course) جہاں یہ ابتدائی کورس نہ پایا جائے، وہاں نتیجہ بھی نہیں پایا جائے گا۔ روزہ دراصل اسی قسم کا ایک پریپریٹری کورس ہے، روزہ اپنے آپ ایک مطلوب نتیجہ نہیں۔

اس پریپریٹری کورس کا عمل ایک صاحب ایمان کے اندر ہر روز جاری رہتا ہے۔ مثلاً وہ شخص جس کو شعوری ایمان حاصل ہو، وہ ہر روز مختلف تجربات کے درمیان اپنے عجز کو دریافت کرتا رہتا ہے۔ طور پر اس کی توجہ اپنے دل کی طرف جاتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ دل اگر مسلسل پمپنگ کا کام نہ کرے تو میں ایک لمحے کے اندر مر جاؤں گا۔ دل کی یہ پمپنگ مشین میں اپنے ارادے سے نہیں چلاتا ۔ یہ خدا کا ایک داخلی تصرف ہے جو اس کو مسلسل طور پر بلا وقفہ چلا رہا ہے۔ یہ مشین اگر دومنٹ کے لیے بھی رک جائے تو یقینی طور پر میری موت واقع ہو جائے گی۔ یہی سانس کا معاملہ ہے۔ انسان ہر وقت سانس لیتا ہے۔ کا مطلب ہے ہوا کے ذریعے آکسیجن کو اِن ہیل (inhale) کرنا اور اندر کے کاربن کو ایکس ہیل (exhale) کرنا، یعنی آکسیجن کو لینا اور کاربن کو باہر نکالنا۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جو بلا وقفہ جاری رہتا ہے، مگر اس میں میرے ارادے کو کوئی دخل نہیں، وہ تمام تر خدا کے ایک داخلی نظام کے تحت ہوتا ہے۔ یہ دونوں واقعات ہر شخص کی زندگی میں ہر لمحہ پیش آتے ہیں۔ جس آدمی کا شعور زندہ ہو، وہ ان واقعات پر غور کرے گا۔ اس طرح وہ ہر لمحہ اپنے عجز کو دریافت کرتا رہے گا۔ یہ صرف دل کی حرکت یا نظام تنفس کی بات نہیں، اس طرح کے ہزاروں واقعات ہیں جو ہر انسان کے ساتھ ہر لمحہ پیش آتے رہتے ہیں۔

عام طور پر انسان غفلت کی حالت میں رہتا ہے، اس لیے وہ اپنے ان تجربات سے عجز کی غذا نہیں لے پاتا۔ غافل انسان کی اِسی غفلت کو توڑنے کے لیے سال میں ایک مہینے کا روزہ رکھا گیا ہے۔ کی حیثیت گویا ایک کمپلسری کورس (compulsory course) کی ہے۔ کھانا اور پانی انسان کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔ اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ روزے کے مہینے میں ان بنیادی ضرورتوں پر روک لگا کر ایک لازمی تجربہ کرایا جاتا ہے۔ روزے کا مہینہ گویا ایک کمپلسری روٹین (compulsory routine) ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر انسان کو ایک پابند کورس کے ذریعے عجز وافتقار کا لازمی تجربہ کرایا جائے، تاکہ وہ تزکیہ کے مراحل طے کرنے کے قابل ہو سکے۔ جو لوگ اس طرح روزہ رکھتے ہیں کہ وہ سحری کے وقت اتنا زیادہ کھاتے ہیں کہ شام ہونے تک انھیں بھوک نہ لگے، اُن کا روزہ روزہ نہیں، بلکہ ایک خود ساختہ عمل کے ذریعے صرف روزے کا فرضی کریڈٹ لینے کی کوشش ہے جو کبھی کسی کو نہیں ملتا۔ روزے کا مقصد آدمی کو بھوک پیاس کا تجربہ کرانا ہے اور جس روزے دار کو بھوک پیاس کا تجربہ ہی نہ ہو، اس کو روزے کا مطلوب فائدہ کیوں کر حاصل ہوگا۔ ضروری ہے کہ آدمی کو بھوک لگے، وہ بھوک سے تڑپے، یعنی اس کی وہ کیفیت ہو جائے جو پانی کے بغیر زندہ مچھلی کی ہوتی ہے۔ جب کسی شخص کو اس طرح بھوک اور پیاس کا شدید تجربہ ہو، اس کے بعد ہی اس کے اندر وہ اعلیٰ ایمانی کیفیت پیدا ہوگی جس کو تضّرع کہا گیا ہے۔ اِسی طرح شکر ایک اعلیٰ ترین کیفیت ہے۔ لیکن شکر کی حقیقی کیفیت بھی اُسی شخص کے اندر پیدا ہوگی جو پہلے شدید محرومی کا تجربہ کرے اور اس کے بعد اس کو یافت کا تجربہ حاصل ہو۔ اس کے بعد ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ شکر کی دریافت کرتا ہے، یعنی انعام کے بعد منعم کی معرفت۔ یہی شکر ہے اور بلاشبہ شکر سے بڑی کوئی چیز نہیں۔ روزہ ایک مہینے تک مسلسل اِسی اعلیٰ حقیقت کا تجربہ کراتا ہے۔ ایک طرف وہ دن کے روزے کی شکل میں انسان کے اندر گہرائی کے ساتھ تضّرع کی کیفیت پیدا کرتا ہے، پھر بھوک پیاس کے تجربے سے گزر کر شام کو وہ آزادی کے ساتھ کھاتا اور پیتا ہے۔ اس طرح وہ دریافت کرتا ہے کہ کھانا اور پانی اس کے وجود کے لیے کتنا زیادہ ضروری ہے۔ یہی دریافت جب ربانی کیفیت میں ڈھل جائے تو اسی کا نام شکر ہے۔

تزکیہ نفس میں تزکیہ سے مراد تطہیر (purification) ہے، یعنی نفسیاتی تطہیر، اور روح سے مراد ذہن (mind) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہن ہی کا دوسرا نام انسانی وجود ہے۔ انسانی وجود کو بتانے کے لیے دوسرے الفاظ جو بولے جاتے ہیں، مثلاً روح، نفس اور فطرت وغیرہ، وہ اس کے ادبی استعمالات (literary usage) ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی شخصیت (human personality)، نفسیاتی اصطلاح میں، صرف ذہن یا مائنڈ کا نام ہے۔ دوسری تمام چیزیں جو انسان کی زندگی میں نظر آتی ہیں، وہ سب اسی اصل وجود کے مظاہر ہیں، ان کا مستقل بالذات کوئی وجود نہیں۔

تزکیہ نفس کا مطلب شخصیت کی تعمیر ہے۔ روزہ انسان کے اندر اسی اعلیٰ شخصیت کی تعمیر کرتا اس اعلیٰ شخصیت کا تحقق صرف ایک انسان کے اندر ہوتا ہے۔ انسان کے سوا کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جو اس نادر ظاہر ہ کا ثبوت دے سکے۔ رمضان کا روزہ اپنے آپ میں اس اعلیٰ انسانی واقعہ کو ظہور میں نہیں لاسکتا۔ رمضان کا روزہ دراصل ایک ابتدائی کورس ہے، وہ ایک پر اس کا آغاز ہے، وہ تزکیہ کے ایک ربانی راستے پر انسان کو چلانے والا ہے۔ روزہ نقطہ آغاز ہے، وہ نقطہ اختتام نہیں۔ روزہ پہلا قدم ہے، وہ آخری قدم نہیں۔ روزہ ایک سفر کی طرف روانگی ہے، وہ سفر کی آخری منزل نہیں۔ روزہ اپنے آپ کسی کو تزکیہ نفس کا یہ فائدہ نہیں روزہ کا یہ فائدہ صرف اُس انسان کو ملے گا جس نے پہلے سے اپنے شعور کو بیدار کر رکھا ہو اور جو مسلسل شعوری عمل کے ذریعے روزہ سے یہ فائدہ حاصل کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتا رہے۔ روزے کی اس غیر معمولی اہمیت کو ایک حدیث قدسی میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: کل عمل ابن آدم يضاعف الحسنة بعشر أمثالها إلى سبع مأة ضعف، قال الله تعالى إلا الصوم فإنه لي وأنا يدع شهوته وطعامه من أجلي۔ للصائم فرحتان فرحة عند فطره، وفرحة عند لقاء ربه (صحیح مسلم، كتاب الصيام، باب فضل الصوم) یعنی انسان کے ہر عمل کی نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مگر روزہ، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ دار میرے لیے اپنی خواہشات (desires) کو اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں— ایک خوشی اس کے افطار کے وقت، اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔

روزہ کے ذریعے تزکیہ نفس کس طرح ہوتا ہے، یہ کوئی پراسرار چیز نہیں۔ یہ دراصل ایک نفسیاتی پراسس ہے جو روزہ کے ذریعے انسان کے اندر جاری ہوتا ہے اور نہ صرف رمضان کے مہینے میں بلکہ پورے سال جاری رہتا ہے۔ روزہ رکھ کر جب انسان کو بھوک اور پیاس تڑپاتی ہے، اُس وقت اس کو اپنی حیثیت واقعی کا تجربہ ہوتا ہے۔ وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ کی مدد کے بغیر میں کچھ بھی نہیں۔ انسان کو آخری حد تک کٹ ٹو سائز (cut to size) کر دیتا ہے۔ ایک حقیقی روزہ انسان کے اندر اُن چیزوں کو بالکل ختم کر دیتا ہے جو اُس کو اللہ سے دور کرنے والی ہیں، مثلاً فخر، بڑائی، فراموشی، غفلت، ایک حقیقی روزہ انسان کی پوری شخصیت کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ حقیقی روزہ رکھ کر آدمی اِسی طرح تڑپنے لگتا ہے جس طرح پانی کے بغیر مچھلی تڑپتی ہے۔ روزہ انسان کے لیے ایک طرف اپنے بے کچھ ہونے کا تعارف ہے اور دوسری طرف، اللہ کے سب کچھ ہونے کا تعارف۔

یہی تجربہ تزکیہ کی روح ہے۔ یہ تجربہ آدمی کے لیے کلی تطہیر (total purification) کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ انسان عام زندگی میں مختلف قسم کی فرضی بڑائی (false glory) کے احساس میں جیتا فرضی بڑائی کا یہی احساس آدمی کے لیے خدا سے دوری کا سبب بن جاتا ہے۔ روزے کا تجربہ آدمی کو آخری حد تک کٹ ٹو سائز کر دیتا ہے۔ جب آدمی عجز کے اس تجربے تک پہنچتا ہے تو وہ دریافت کرتا ہے کہ میری طرف صرف نہیں ہے اور خدا کی طرف صرف ہے۔ اسی دو طرفہ دریافت کا نام تزکیہ نفس اس دریافت کے بغیر کسی انسان کو تزکیہ کا درجہ حاصل ہونے والا نہیں۔

تزکیہ نفس کا ایک پہلو وہ ہے جس کو تطہیر کہا جاتا ہے، یعنی نفس کو تمام غیر مطلوب کیفیات سے پاک مگر یہ پاک کرنا کوئی محدود عمل نہیں ہے۔ نفس کی تطہیر آدمی کے لیے معاً ایک اور دروازہ کو کھول دیتی یہ روحانی ارتقا کا دروازہ ہے۔ انسان کی شخصیت اپنے آپ میں ٹھیک اُسی طرح ایک نمو پذیر چیز ہے جس طرح درخت کا ایک بیج نمو پذیر ہوتا ہے۔ بیج سے اگر ہر قسم کے موانع (obstacles) کو ہٹا دیا جائے تو اپنے آپ وہ اگنا شروع ہو جائے گا اور بتدریج ایک مکمل درخت بن جائے گا، ایک ایسا درخت جس میں شاخیں ہوں، ہری پتیاں ہوں، خوشبودار پھول ہوں، صحت بخش پھل ہوں، وغیرہ۔

اسی طرح قرآن کے مطابق، انسان کی شخصیت بھی توانائی سے بھرا ہوا ایک بیج ہے۔ آپ میں بڑھنا چاہتا ہے اور فضاؤں میں پھیل جانا چاہتا ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس کے مادی موانع کو ہٹایا جائے۔ روزہ یا روزے کا پر اس اگر حقیقی طور پر موجود ہو تو وہ اسی طرح انسانی شخصیت کے بیج سے تمام نفسیاتی موانع کو ہٹا دیتا ہے۔ اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ انسانی شخصیت خود اپنی فطرت کے زور پر ترقی کرنے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ بڑھتے بڑھتے اس کا وہ حال ہو جاتا ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أصلها ثابت وفرعها في السماء (14:24)۔

ایک شخص جو روزے سے پہلے خدا کو دریافت (discover) کر چکا ہو، جو ایک ذہن (prepared mind) کے ساتھ روزے کے مہینے میں داخل ہو۔ ایک ایسا انسان جب حقیقی معنوں میں روزہ رکھے گا تو اس کو پورے مہینے کی راتوں اور پورے مہینے کے دنوں میں انوکھے تجربات ہوں گے۔ ایسے آدمی کا روزہ اس کو ہر قسم کے ڈسٹریکشن سے بچائے گا، ایسے آدمی کا روزہ اس کو ہر طرف سے یکسو کر کے خدا کی یاد میں لگا دے گا۔ اس کا یہ حال ہوگا کہ نماز پڑھتے وقت اس کو مزید خشوع کا تجربہ ہوگا، قرآن کی تلاوت کرتے وقت اُس پر نئے نئے معانی کھلیں گے، فطرت کے مشاہدے میں اس پر فطرت کے نئے نئے تخلیقی پہلو ظاہر ہوں گے، ہر تجربہ اس کے لیے پہلے سے زیادہ گہرا تجربہ بن جائے گا، ہر چیز سے اس کا ذہن زیادہ اعلیٰ قسم کی فکری اور روحانی غذائیں حاصل کرنے لگے گا، وہ اپنی زندگی کی معنویت کو زیادہ بہتر طور پر دریافت کرے گا، اس کی بڑھی ہوئی حساسیت اس کو مزید اضافے کے ساتھ موت کی یاد دلائے گی، اس کا پورا مہینہ اس طرح گزرے گا کہ گریہ وزاری کے درمیان ذکر و دعا کے نئے الفاظ اس کی زبان پر آئیں گے، اس کا سونا ایک نیا سونا بن جائے گا، اس کا جاگنا ایک نیا جاگنا بن جائے گا، صبح کی روشنی اور شام کی تاریکی اس کو بالکل نئے تجربات سے ہمکنار کرے گی۔ اس طرح کیفیات سے بھرا ہوا ایک پورا مہینہ گزارنے کے بعد جب وہ یکم شوال کی صبح کو نماز ادا کرنے کے لیے عیدگاہ کی طرف روانہ ہوگا، تو اس کو وہ حدیث یاد آئے گی جس کو محدثین نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے: ”...... فإذا كان يوم عیدهم، يعني يوم فطرهم، باهى بهم ملائکته، فقال: ملائکتی، ما جزاءُ

أجير وفي عمله. قالوا: ربنا، جزائه أن يُوفّى أجرَهُ. قال: ملائكتي، عبيدي وإمائي قضوا فريضتي عليهم، ثمّ خرجوا يعجون إلى الدّعاء، وعزّتي وجلالي وكرمي وعُلُوّي وارتفاع مكاني لأجيبنّهم. فيقول: ارجعوا فقد غفرتُ لكم، وبدّلتُ سيّئاتكم حسنات. قال: فيرجعون مغفوراً لهم. (رواه البيهقي في شعب الإيمان، باب الصيام، فصل في ليلة العيد ويومهما) یعنی جب عید کا دن آتا ہے، یعنی عید الفطر کا دن، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے روزے دار بندوں اور بندیوں پر فخر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: اے میرے فرشتو، اُس کی جزا کیا ہے جس نے اپنے عمل کو پورا کر دیا۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، اُس کی جزا یہ ہے کہ اُس کو اُس کے عمل کا پورا بدلہ دے دیا جائے۔ خدا کہتا ہے کہ اے میرے فرشتو، میرے بندوں اور میری بندیوں نے میرے اِس فرض کو ادا کر دیا جو اُن پر عائد تھا، پھر وہ نکلے ہیں دعا کے ساتھ مجھ کو پکارتے ہوئے۔ میری عزت اور میرے جلال کی قسم، میرے کرم، میرے علوشان اور میرے بلند مقام کی قسم، میں ضرور اُن کی پکار کو سنوں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: تم لوگ واپس جاؤ، میں نے تم کو بخش دیا اور میں نے تمھارے سیّات کو حسنات میں تبدیل کر دیا۔ پس وہ لوگ اِس طرح لوٹتے ہیں کہ اُن کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے۔ روزہ بظاہر ایک مہینے کے لیے ہوتا ہے، لیکن اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے وہ پورے سال کے لیے، بلکہ پوری عمر کے لیے مطلوب ہے، حتیٰ کہ اُن لوگوں کے لیے بھی جو کسی شرعی عذر کی بنا پر روزہ رکھنے کے قابل نہ رہیں، اُن سے بھی یہ اسپرٹ والا روزہ ہمیشہ مطلوب رہے گا، یعنی یہ کہ آدمی روزمرہ کے واقعات اور مختلف تجربات کے درمیان اپنے عجز و افتقار کو دریافت کرتا رہے۔ یہی روزہ کی اصل جو آدمی اِس معنی میں مسلسل روزہ دار بنا رہے، وہ ہمیشہ روزہ کے فائدے کو حاصل کرتا رہے گا، روزے کا روحانی فائدہ کبھی اس سے منقطع ہونے والا نہیں۔

ماہ نامہ الرسالہ اور مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز کتابیں حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں: Rahbar Book Service C-24, Shaheen Bagh, Thokar No. 8, Tayyib Masjid Road Jamia Nagar, Okhla, New Delhi-110025 Mob.: 09810862382, 09716048296

Printed page