تاریخ کا قانون
Al-Risala, January 2011, pp. 38–39
By Maulana Wahiduddin Khan
تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاری قبائل کو ہستانی علاقے سے نکلے ۔ وہ بارہ ہزار کی تعداد میں انھوں نے عباسی سلطنت پر حملہ کیا اور اس کا خاتمہ کر دیا۔ انھوں نے سمر قند سے لے کر حلب تک زبردست تباہی برپا کی ۔ مورخ ابنِ اثیر (وفات: 1234ء) اُس وقت زندہ تھے ۔ انھوں نے اس تباہی کو براہِ راست طور پر اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ وہ اپنا تاثر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: لقد بُلی الاسلام والمسلمون فی هذه المدة بمصائب لم يبتل بها أحدٌ من الأمم (الكامل في التاريخ، جلد 12، صفحہ 360) یعنی اسلام اور مسلمان اِس زمانے میں ایسی مصیبتوں میں مبتلا ہوئے جیسی مصیبت میں کبھی کوئی قوم مبتلا نہیں ہوئی۔
مورخ ابنِ اثیر بعد کے حالات دیکھنے کے لیے زندہ نہیں رہے۔ اگر وہ زندہ رہتے اور بعد کے حالات دیکھتے تو یقیناً وہ کہتے کہ تاریخ کو بنانا کسی قوم کے ہاتھ میں نہیں ہے، بلکہ وہ براہِ راست خدا کے ہاتھ میں ہے۔ چناں چہ وہاں یہ واقعہ ہوا کہ نصف صدی کے اندر اسلام کی صداقت غالب آئی اور تاتاریوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اس کے بعد یہی تاتاری تھے جس کی اگلی نسلوں نے مسلم دنیا میں ڈھائی جانے والی مسجدوں کو دوبارہ تعمیر کیا اور عظیم ترک خلافت قائم کی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کا نظام تبدیلی کے اصول پر قائم ہے۔ اس دنیا کے لیے اس کے خالق نے یہ مقدر کر دیا ہے کہ یہاں ہر عسر کے بعد یسر آئے، ہر ناکامی کے بعد دوبارہ کامیابی کا دروازہ ہر شام کے بعد دوبارہ نئی شان کے ساتھ آفتاب نکلے ۔
یہ ایک ایسا ابدی قانون ہے جس میں کبھی فرق نہیں آتا۔ مزید یہ کہ اس قانون کا تعلق صرف اہلِ اسلام سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق تمام انسانوں سے ہے۔ تمام انسانوں کے لیے ان کے رب نے یہ مقدر کر دیا ہے کہ اُن پر مختلف قسم کے حالات گزریں ، تاکہ وہ اپنے رب کو ہمیشہ دریافت کرتے رہیں ۔
سوال و جواب آپ نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا تھا کہ موجودہ زمانے میں دعوت کی نسبت سے دو بڑے کام ضروری ہیں—— جدید سٹائنسی دریافتوں کا اسلام کے ساتھ تعلق ثابت کرنا، اور عصری اسلوب میں اسلام براہِ کرم، ان دونوں پہلوؤں کی وضاحت فرمائیں (ابوالحکم محمد دانیال، پٹنہ، بہار) موجودہ زمانے میں دعوتِ اسلام کی نسبت سے دو بڑے کام مطلوب ہیں۔ ان دونوں کاموں کی انجام دہی کے بغیر موجودہ زمانے میں دین کا اظہار نہیں ہو سکتا۔ وہ دو کام یہ ہیں: 1- جدید علمی دریافتوں کا اسلام کے ساتھ ریلیونس (relevance) بتانا۔ میں سائنسی تحقیقات کے ذریعے جو نئی علمی حقیقتیں دریافت ہوئی ہیں، وہ اسلام کی حقانیت کو از سرِ نو مدلّل کرتی ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ دریافتیں اسلام سے الگ معلوم ہوتی ہیں، لیکن جب اُن کو اسلامی عقائد سے وابستہ کر کے دیکھا جائے تو وہ اسلام کے حق میں ایک مسلّمہ علمی دلیل بن جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر مشہور برٹش سائنس داں اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) کی دریافت کردہ سنگل اسٹرنگ تھیوری (single-string theory) عقیدۂ توحید کے لیے ایک قطعی سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
اِسی طرح ایک اور مثال مشہور جرمن سائنس داں آئن سائن (وفات: 1955) کا نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) ہے۔ نظریہ اضافیت بتاتا ہے کہ انسانی علم کی نسبت سے یہاں کوئی مطلق فریم ورک موجود نہیں: