ذلت اور مسکنت
Al-Risala, January 2011, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ البقرہ میں یہود کے حوالے سے ایک قانونِ فطرت بتایا گیا ہے۔ الفاظ یہ ہیں: ضربت عليهم الذلة والمسكنة وباؤوا بغضب من الله (61 :2) یعنی اُن پر ذلت اور مسکنت ڈال دی گئی اور وہ غضب الہیٰ کے مستحق ہوگئے۔
قرآن کی اِسی آیت میں’’ذلت اور مسکنت‘‘ کا لفظ نفسیاتی معنی میں ہے۔ یہ وہ حالت ہے جب کہ آدمی بظاہر ذلیل نہ ہو، اس کے باوجود وہ اپنی داخلی نفسیات کی بنا پر اپنے آپ کو ذلیل محسوس وہ بظاہر محتاج نہ ہو، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی داخلی نفسیات کی بنا پر اپنے آپ کو محتاج محسوس قرآن کی مذکورہ آیت میں اُن کی اِسی نفسیاتی حالت کا ذکر ہے، نہ کہ اُن کی واقعی حالت کا۔ یہ نفسیاتی حالت اُس قوم کے اندر پیدا ہوجاتی ہے جو اپنے عقیدے اور اپنی تاریخ کی بنا پر اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگے، جس کے یہاں اعتقادی طور پر خیر الملل اور افضل الامم کا تصور پایا اِس کے ساتھ وہ اپنی گزشتہ تاریخ کی بنا پر عظمتِ رفتہ (past glory) کی یادوں میں جینے جو قوم اِس نفسیات میں مبتلا ہو، اس کے اندر فرضی فخر (false pride) کا ذہن بن جاتا ہے، اور یہی فرضی فخر ہے جس کی بنا پر نفسیاتی ذلت اور نفسیاتی مسکنت کا ذہن کسی قوم میں پیدا ہوجاتا ہے۔ فرضی فخر کی یہ نفسیات نمایاں طور پر دو مذہبی گروہوں میں پیدا ہوئی— ایک، یہود اور دوسرے، پہلے زمانے میں یہود اِس نفسیات میں مبتلا ہوئے تھے اور موجودہ زمانے میں مسلمان اِس نفسیات کا شکار ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمان ایک بلین سے زیادہ ہیں، 57 ملکوں میں ان کی مادی اعتبار سے، ان کو ہر چیز حاصل ہے۔ اس کے باوجود ہر مسلمان من حيث القوم ذلت اور مسکنت کی نفسیات میں جی رہا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کو جو کچھ ملا ہوا ہے، وہ اُن کو اپنے فرضی فخر (false pride) سے کم نظر آتا ہے— فرضی فخر کی یہی نفسیات موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے تمام مسائل کا اصل سبب ہے۔