خدا کی عظمت
Al-Risala, September 2011, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی معرفت ایمان اور اسلام کی اساس (basis) ہے۔ جتنی اعلیٰ معرفت، اتناہی اعلیٰ ایمان۔ اس معرفت کی تکمیل اُس وقت ہوتی ہے، جب کہ آپ خدا کو اس کے کمالِ عظمت کے ساتھ دریافت کریں۔ ایک بندہ جب خدا کو اس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کا وہی حال ہوتا ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبہم (8:2) یعنی خدا کی یاد سے اُن کے دل دہل اُٹھتے ہیں۔ جدید فلکیات سائنس (modern astronomy) کا اس معاملے میں ایک مثبت کنٹری بیوشن (contribution) یہ ہے کہ اس نے خالق کی نا قابلِ قیاس عظمت کا ادراک کرنے کے لیے ایک فریم ورک (framework) دے دیا ہے۔ اس فریم ورک کی مدد سے انسان خداوند ذوالجلال کی نا قابل بیان عظمت کا ایک تصور اپنے ذہن میں لا سکتا ہے۔
جدید سائنس کئی سوسال سے فلکیات کا مطالعہ کررہی ہے۔ 1508 میں دوربین (telescope) کی ایجاد ہوئی، اور 1609 میں پہلی بار اٹلی کے سائنس داں گلیلیو (Galileo) نے خلا کا دور بینی مشاہدہ یہ فلکیاتی مشاہدہ برابر بڑھتا رہا۔ پچھلے زمانے میں دور بینی رصد گاہ کسی پہاڑ پر نصب کی جاتی تھی۔ اب خلائی سائنس کا زمانہ آگیا ہے۔ اب انسان نے خلائی رصد گاہ (space observatory) بنالی اس کے ذریعے کائنات کا مشاہدہ اتنی زیادہ دور تک کرنا ممکن ہو گیا ہے جس کی دوری کو صرف سالِ نور (light years) کی اصطلاح میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح خدا کی عظمت کو تصور میں لانے کے لیے ایک نیا وسیع تر دائرہ انسان کے علم میں آ گیا ہے۔
اس سلسلے میں ایک تازہ ترین فلکیاتی دریافت (discovery) سامنے آئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ خلا میں نصب الیکٹرانک دوربینوں کے ذریعے ایک بہت بڑا بلیک ہول دریافت ہوا ہے۔ بلیک ہول پورے نظامِ شمسی (solar system) کو نگل سکتا ہے۔ نظامِ شمسی کا دائرہ کتنا زیادہ بڑا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے اس نظام کا بعید ترین سیارہ پلوٹو (Pluto) ہے جو سورج کے گرد
بیضوی دائرے میں چکر لگا رہا ہے۔ یہ دائرہ ساڑھے سات بلین میل پر مشتمل ہے۔ مذکورہ بلیک ہول اب تک کے دریافت کردہ تمام بلیک ہول سے زیادہ بڑا ہے۔ اس کا حجم 6 بلین سورج سے بھی زیادہ ہے۔ اس بلیک ہول کا نام M 87 رکھا گیا ہے۔ یہ بلیک ہول ہماری کہکشاں (Milky Way) سے 50 ملین سال نور کی دوری پر واقع ہے: