شخصیت کی تعمیر
Al-Risala, September 2011, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
تجربہ بتاتا ہے کہ انسان بچپن میں معصوم کلی کی مانند ہوتا ہے۔ لیکن بڑا ہونے کے بعد اس کی شخصیت میں طرح طرح کے بگاڑ آجاتے ہیں۔ مثلاً ضد اور سرکشی وغیرہ۔ شخصیت کی تعمیر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی یا تو اپنی پیدائشی فطرت کو اُسی حالت میں محفوظ رکھے، جس حالت میں وہ ماں کے پیٹ سے نکلا تھا، یا وہ مویشیوں کی طرح جگالی کا طریقہ اختیار کرے، یعنی بعد کو اس کی شخصیت پر جو مصنوعی پردے پڑ گئے تھے، اُن کو ایک ایک کر کے ہٹانا، یہاں تک کہ اصل فطرت آمیز شوں سے پاک ہو کر سامنے آجائے۔ جدید نفسیاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کے دماغ کے تین بڑے حصے ہیں۔ حصے ہر عورت اور ہر مرد کے دماغ میں پائے جاتے ہیں۔ وہ پیدائشی طور پر ہر انسانی دماغ کا حصہ ہیں۔ وہ تین حصے یہ ہیں:
1- شعوری ذہن (conscious mind)
2- تحت شعور (sub-conscious mind)
3- لاشعور (unconscious mind)
تجربہ و تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کوئی بھی خیال جب ایک بار دماغ میں آجائے تو وہ ہمیشہ کے لیے انسانی ذہن (human mind) کا حصہ بن جاتا ہے، اور جیسا کہ معلوم ہے، انسانی ذہن ہی دراصل انسانی شخصیت کا دوسرا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی خیال انسان کے دماغ میں آجائے تو وہ ہمیشہ کے لیے انسان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے، حتیٰ کہ اگر وہ اس کو اپنی شخصیت سے الگ کرنا چاہے تو وہ اس کو الگ کرنے پر قادر نہیں ہوتا۔
جب کوئی بات انسان کے دماغ میں آتی ہے، خواہ وہ منفی ہو یا مثبت تو وہ سب سے پہلے دماغ کے شعوری حصے میں آتی ہے۔ اس کو زندہ حافظہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد آدمی جب رات کو سوتا ہے تو فطری عمل کے تحت اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ وہ بات شعوری ذہن سے چل کر ذہن کے تحت شعور میں
پہنچ جاتی ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اس خیال کے اوپر آدمی کا شعوری کنٹرول صرف پچاس فی صد رہ پچاس فی صد وہ اس کے شعوری کنٹرول سے باہر ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد جب وہ اگلی رات کوسوتا ہے تو یہ خیال مزید سفر کر کے ذہن کے لاشعور حصے میں پہنچ جاتا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اس کے بعد یہ خیال آدمی کے شعوری کنٹرول سے پوری طرح باہر ہو جاتا ہے۔
یہی روز مرہ کے افکار جو انسان کے ذہن میں آتے ہیں، وہی اس کی شخصیت کی تعمیر کرتے جیسے افکار ویسی شخصیت۔ مثبت افکار سے مثبت شخصیت بنے گی۔ لیکن اگر یہ افکار منفی افکار ہوں تو انسان کی شخصیت بھی منفی بنتی چلی جائے گی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ سب سے بُری شخصیت منفی شخصیت ہے اور سب سے زیادہ اچھی شخصیت وہ ہے جو مثبت شخصیت ہو۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ مثبت شخصیت کی تعمیر کس طرح کی جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی منفی خیال آدمی کے ذہن میں آجائے تو وہ اس کو پہلے ہی مرحلے میں ختم کردے۔ خصوصی تدبیر کے ذریعے اُس کے منفی پہلو کو مثبت پہلو میں تبدیل کرلے۔ وہ غصہ ہو تو فوراً معاف کر دے تا کہ اس کا غصہ انتقام کی صورت اختیار نہ کرنے پائے۔ کسی کی ترقی اُس کو پسند نہ آئے تو اُسی وقت وہ اس کو نظر انداز کر دے تا کہ وہ اس کی شخصیت میں حسد بن کر شامل نہ ہر منفی خیال کے ساتھ فوراً ہی تصحیح (correction) کا عمل کرنا چاہیے۔ اگر اس میں دیر ہوئی تو جلد ہی ایسا ہوگا کہ وہ آدمی کے تحت شعور میں چلا جائے گا اور پھر کچھ عرصے بعد وہ اس کے لاشعور میں داخل ہو جائے گا۔ اور جب ایسا ہوگا تو وہ آدمی کی شخصیت کا اس طرح لازمی حصہ بن جائے گا کہ آدمی چاہے بھی تو وہ اس کو اپنی شخصیت سے جُدا نہ کرسکے۔
لوگ عام طور پر ایسا نہیں کرتے اور اس کی یہ بھیانک قیمت ادا کر رہے ہیں کہ ہر ایک، خوبصورت کپڑوں کے پیچھے ایک منفی شخصیت کی لاش لیے ہوتا ہے۔ منفی شخصیت دراصل جہنمی شخصیت جو عورت یا مرد اس ہلاکت خیز انجام سے بچنا چاہتے ہوں ان کو چاہیے کہ وہ مذکورہ عمل تصحیح کو اپنی روزانہ کی زندگی میں شامل کرلیں۔ اس کے سوا اس مسئلے کا کوئی اور حل موجود نہیں۔