Al-Risala · September 2011

بڑھاپے کی عمر

Al-Risala, September 2011, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ فاطر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: أولم نعمركم ما يتذكر فيه من تذكر (34:37) یعنی کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی کہ جو شخص یاد دہانی حاصل کرنا چاہے، وہ اس میں یاد دہانی حاصل کر سکے۔ اس مفہوم کی متعدد روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ فتح الباري، كتاب الرقاق، باب من بلغ ستين سنة۔

حدیث میں آیا ہے کہ جس آدمی کو لمبی عمر یا بڑھاپے کی عمر ملے، اس کے پاس اللہ کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ آدمی کے اوپر پہلے بچپن کا دور آتا ہے، اس کے بعد جوانی کا دور آتا ہے، اس کے بعد بڑھاپے کا دور آتا ہے۔ بڑھاپے کا دور موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے آخری دور ہے۔ کیوں کہ اس کے بعد جو مرحلہ آتا ہے، وہ موت کا مرحلہ ہے، نہ کہ کوئی اور مرحلہ۔ اس اعتبار سے بڑھاپا گویا کہ موت کی پیشگی اطلاع (prior notice) کی حیثیت رکھتا ہے۔ بڑھاپے میں جسم کے تمام اعضا (organs) کمزور ہو جاتے ہیں، حتی کہ بعض اعضا اپنا کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ موت کا وقت قریب آگیا۔ وہ گویا کہ موت کی جبری یاد دہانی (compulsory reminder) ہیں۔ بڑھاپا آدمی کو قبر کے کنارے کھڑا کر دیتا ہے۔

اگر آدمی کا ذہن بیدار ہو تو بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر وہ سوچنے لگے گا کہ اب بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ میری موت واقع ہواور میں اللہ کے سامنے حساب کتاب کے لیے حاضر کر دیا اس طرح بڑھاپے کے تجربات آدمی کو جھنجھوڑتے ہیں، وہ اس کو آخرت کی یاد دہانی کراتے بڑھاپا آدمی کو بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں تمھارا سفر اب ختم ہو چکا۔ اب تمھیں لازماً اگلے دورِ حیات میں داخل ہونا ہے اور حشر کی خدائی عدالت کا سامنا کرنا ہے۔ بلاشبہ وہ انسان سب سے زیادہ بد بخت انسان ہے جس کو بڑھاپے کا زمانہ ملا، لیکن وہ اس سے یاد دہانی حاصل نہ کر سکا، وہ بدستور غفلت میں رہا، یہاں تک کہ وہ اسی حال میں مر گیا۔

انسانی تاریخ کے چار دور Four Phases of Human History خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) کے مطابق، انسانی تاریخ کے چار دور یہ چار ادوار گویا کہ انسانی معرفت کے چار ادوار ہیں۔ یہ ایک طویل ربانی سفر ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ انسان خدا کی معرفت (realization of God) حاصل کرے، تاکہ اُس کو خدا کی ابدی جنت میں قیام کی سعادت حاصل ہو سکے۔

معرفت کیا ہے؟ معرفت خدا کی دریافت کا نام ہے جو بلاشبہ سب سے بڑی حقیقت ہے۔ سے زیادہ ظاہر بھی ہے، اور سب سے زیادہ مستور (the most obvious, the most unknown) معرفت کے حصول کے لیے انسان کو ایک پورا سمندر پار کرنا ہوتا ہے۔ جو لوگ اس سمندر کو پار کرنے کا ثبوت دیں، وہی صاحب معرفت ہیں، اور انھیں کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ ابدی جنتوں میں داخل ہوں۔

Printed page