لاشعور کی سطح پر معرفت
Al-Risala, September 2011, pp. 21–23
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ابتدائی انسان کے بارے میں جو باتیں بتائی گئی ہیں، اُن میں سے ایک وہ ہے جس کو "عہدِ الست" کہا جاتا ہے، یعنی پہلا خدائی عہد (first divine covenant)۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر سات میں آیا ہے۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ ٹھیرایا خود اُن کے اوپر۔ کیا میں تمھارا رب نہیں انھوں نے کہا ہاں ، ہم اقرار کرتے ہیں۔ یہ اس لیے ہوا کہ کہیں تم قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی ‘‘ (7:172)
اس آیت کے تحت، عبداللہ بن عباس کی ایک روایت نقل ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ردّ هم في أصلاب آبائهم حتى أخر جهم قرناً بعد قرن (الرد على الجهمية لابن منده، رقم الحديث: 38)۔ یعنی خدا نے ذریتِ بنی آدم کو دوبارہ اُن کے آباء کے صُلب میں لوٹا دیا اور پھر مختلف ادوار میں وہ ان کو پیدا کرتا رہا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا نے آغازِ حیات میں تمام انسانوں کو بیک وقت پیدا کیا، پھر اُن سے مذکورہ عہد لیا۔ یہ عہد کیا تھا۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے، یہ عہد معرفت کا عہد تھا۔ ابن جریر طبری نے اس سلسلے میں اپنی تفسیر میں یہ روایت نقل کی ہے: قال ابن عباس ....... ثم أخذ عهودهم على الإيمان والمعرفة له (جامع البيان عن تأويل آي الفرقان، جلد 9، صفحہ 114) یعنی ذریتِ آدم کو پیدا کرنے کے بعد خدا نے اُن سے ایمان اور معرفت کا عہد لیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے اپنی معرفت کو ہر انسان کے لاشعور میں داخل کر دیا۔ انسان جو پیدا ہوتا ہے، وہ لاشعور کی سطح پر معرفتِ خداوندی کو لے کر پیدا ہوا ہے۔ اس معاملے میں کسی عورت، یا کسی مرد کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔
مگر تاریخ بتاتی ہے کہ آغازِ حیات سے اب تک بہت کم لوگ ایسے نکلے جو اپنے اس لاشعور کو پڑھیں، جو اپنی فطرت کی اس داخلی آواز کو سن سکیں۔ اس فطری معاملے کی بنا پر ایسا تو ہوا کہ ہر شخص کسی
نہ کسی درجے میں حق کا متلاشی (seeker) بنا، لیکن بہت تھوڑے افراد کو چھوڑ کر، کوئی بھی اپنی تلاش کو اس کی آخری منزل تک نہ پہنچا سکا۔
اس عمومی ناکامی کا سبب کیا ہے۔ اس کا جواب قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ سورہ القیامہ میں ارشاد ہوا ہے: بل الإنسان علی نفسه بصیرة، ولو القی معاذیره (15-74:75) یعنی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے اوپر آپ گواہ ہے، خواہ وہ کتنے عذر ات پیش کرے۔ اس قرآنی بیان سے معلوم ہوا کہ انسان کی اس ناکامی کا اصل سبب عذرات (excuses) انسان کی داخلی فطرت ہر موقع پر اس کی خاموش رہنمائی کرتی ہے۔ اسی فطرت کو قرآن میں داخلی برہان (12:24) کہا گیا ہے۔ لیکن انسان یہ کرتا ہے کہ وہ ایک عذر (excuse) لے کر، فطرت کی اس آواز کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک شخص کسی زندہ یا مردہ ہستی کو بڑا مان کر اس کی پرستش شروع کر دے گا۔ اس کا ربانی لا شعور اندر سے اس کو آواز دے گا کہ پرستش تو صرف خالق کا حق ہے، تم مخلوق کی پرستش کیوں کر رہے ہو۔ مگر یہاں اس کا ذہن ایک خود ساختہ عذر تلاش کر لے گا۔ وہ کہے گا کہ میں اس زندہ یا مردہ ہستی کو خدا نہیں مانتا، بلکہ ان کو خدا کا مقرب مانتا ہوں۔ یہ لوگ خدا کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتے وہ میرے لیے خدا کے یہاں وسیلہ بن سکتے ہیں۔ اس لئے میں ان کے آگے جھک کر ان کو راضی کر رہا ہوں، تا کہ وہ خدا کے یہاں میرے سفارشی بن سکیں۔
اس قسم کا عذر بلا شبہ ایک بے بنیاد عذر ہے۔ وہ ہر گز خدا کے یہاں قبول کیا جانے والا نہیں۔ لیکن بے شمار لوگ ایسے ہیں جو اس قسم کے خود ساختہ خیال میں جیتے رہے اور اسی میں مر گئے۔ اسی طرح ایک شخص کسی معاملے میں ایک آدمی کے اوپر غصہ ہو جائے گا۔ وہ اس سے انتقام لینا اب اس کے اندر کی خدائی آواز اس کو پکارے گی اور کہے گی کہ انتقام لینا ایک گناہ کا کام تم اُس شخص سے درگزر کا معاملہ کرو اور اس کو معاف کر دو۔ مگر اس کا ذہن فوراً ایک عذر تلاش وہ کہے گا کہ ایسے آدمی کو سبق سکھانا ضروری ہے۔ اگر تم اس وقت خاموش ہو گئے تو وہ اور
دلیر ہو جائے گا اور تمھارے خلاف مزید کارروائی کرے گا۔
یہ عذر بھی ایک بے بنیاد عذر ہے۔ ایسا عذر کبھی خدا کے یہاں قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ شمار لوگ اس خود ساختہ عذر میں جیتے ہیں اور اسی میں مرجاتے ہیں۔