شعور کی سطح پر معرفت
Al-Risala, September 2011, pp. 23–26
By Maulana Wahiduddin Khan
لاشعور کی سطح پر معرفت کا انتظام کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے شعور کی سطح پر انسان کی ہدایت کے لیے دوسرا انتظام فرمایا۔ اب خدا نے معرفت کو منطوق آواز (spoken language) کی صورت میں یہ کام خدا کے پیغمبروں کے ذریعے انجام پایا۔ اس مقصد کے لیے خدا نے مسلسل طور پر پیغمبر ان پیغمبروں کو خدا نے بذریعہ وحی، معرفت کا علم دیا۔ پھر انھوں نے لوگوں کی قابلِ فہم زبان میں اُن کو زندگی کی اِس حقیقت سے باخبر کیا، تا کہ لوگ شعور کے درجے میں اُس معرفت کو حاصل کر سکیں، جو لاشعور کے درجے میں ان کی فطرت میں پیوست کر دی گئی تھی۔
مگر عجیب بات ہے کہ حصولِ معرفت کا یہ دوسرا انتظام بھی انسان کے لیے کافی ثابت نہیں ہوا۔ دوبارہ یہی ہوا کہ انسان، پیغمبروں اور داعیوں کی ساری کوشش کے باوجود وہ ان کو نظر انداز کرتا رہا۔ پیغمبروں کی تمام تر دعوتی جد و جہد کے باوجود شعور کی سطح پر حقیقت کو دریافت نہ کر سکا۔ ایسا کیوں ہوا۔ اِس کا جواب قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورہ یٰس میں ارشاد ہوا ہے: يحسرة على العباد، ما يأتيهم من رسول إلا كانوا به يستهزءون (36:30) یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو پیغمبر بھی ان کے پاس آیا، وہ اس کا استہزا کرتے رہے: Alas for human beings! every prophet that comes to them. کوئی آدمی جب کسی کا استہزا کرتا ہے، یا اس کا مذاق اڑاتا ہے تو اس کا سبب صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے اس کو حقیر سمجھنا۔ چناں چہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم، قدیم عرب میں پیغمبر کی حیثیت سے آئے، تو وہاں کے سرداروں نے کہا: لولا نزل هذا القرآن علی رجل من
القریتین عظیم (43: یعنی یہ قرآن دونوں بستیوں (مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اتارا گیا۔
اس معاملے کی مزید وضاحت قرآن کے ایک اور بیان سے ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی سورہ انعام کی چند آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: "اور وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا۔ اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو معاملے کا فیصلہ ہوجاتا، پھر انھیں کوئی مہلت نہ ملتی۔ اور اگر ہم کسی فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے، تو اُس کو بھی ہم آدمی بناتے اور اُن کو اُسی شبہہ میں ڈال دیتے جس میں وہ اب پڑے ہوئے ہیں۔ اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اُڑایا گیا، تو اُن میں سے جن لوگوں نے مذاق اُڑایا، اُن کو اُس چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے" (10-8: 6)۔
قرآن کا یہ بیان پیغمبروں کی تاریخ پر ایک تبصرہ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر پیغمبر بظاہر عام انسانوں کی طرح انسان ہوتا تھا۔ اس لیے جب خدا اُس پر وحی بھیجتا اور وہ لوگوں سے کہتا کہ مجھے خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے تمھارے پاس بھیجا ہے، تو وہ یہ دیکھ کر اس کو نظر انداز کر دیتے کہ تم تو ہم کو ایک معمولی انسان دکھائی دیتے ہو، پھر کیوں ہم تم کو خدا کا پیغمبر مانیں۔
اس کا جواب مذکورہ آیت میں یہ دیا گیا کہ خدا کے قانون کے مطابق، یہ التباس کا ایک معاملہ ہے۔ امتحان کی مصلحت کی بنا پر اس دنیا میں ہمیشہ سچائی کے ساتھ ایک شبہہ کا عنصر (element of doubt) موجود رہتا ہے۔ اس مصلحت کی بنا پر یہی ہوگا کہ خدا کا پیغام کسی غیر معمولی فرشتے کے ذریعے نہیں دیا جائے گا، بلکہ ایک انسان کے ذریعے دیا جائے گا۔ تم سچائی کو صرف اُسی وقت پا سکتے ہو جب کہ تم شبہہ کے پردے کو پھاڑ اور خالص جوہر ذاتی (merit) کی بنیاد پر حق کے داعی کو پہچانو۔ معرفت بذریعہ آیات کائنات اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے معرفتِ حق کے لیے ایک اور انتظام کیا۔ یہ انتظام تھا— خدا کی تخلیق میں چھپی ہوئی نشانیوں کو ظاہر کرنا۔ اس خدائی منصوبہ کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 41 میں پیشگی طور پر کیا گیا اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: " مستقبل میں ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی
اور انفس میں بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر پوری طرح یہ کھل جائے کہ یہ قرآن حق ہے‘‘ (41:53)۔ خدا نے اپنے ان خصوصی منصوبہ کو موجودہ زمانے میں سائنس دانوں کے ذریعے پورا کیا۔ موجودہ زمانے میں سائنس دانوں نے عالمِ طبیعیات (physical world) میں جو دریا فتیں کی ہیں، وہ دریافتیں گویا کہ آلاء اللہ کا مشاہداتی اظہار ہیں۔ خدا نے اپنے پیغمبر ابراہیم کو ملکوت السماوات والارض (6:76) کا خصوصی مشاہدہ کرایا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنی اِس نشانیوں (sign) کو خود علم انسانی کے ذریعے عمومی سطح پر لوگوں کے لیے قابل مشاہدہ بنا دیا۔
موجودہ زمانے میں اِس موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ راقم الحروف نے بھی اِس موضوع پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ امریکا کے ایک سائنس داں ڈاکٹر کریسی ماریسن (وفات: 1951) نے اِس موضوع پر ایک کتاب شائع کی ہے۔ اِس کتاب کا انگریزی ٹائٹل (Man Doesn't Stand Alone) اِس کتاب کا عربی ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ اِس عربی ایڈیشن کا نام با معنی طور پر یہ ہے: الله يتجلى في عصر العلم۔
مگر دوبارہ ایسا ہوا کہ بہت کم ایسے انسان نکلے جو اِس سائنسی انقلاب سے معرفت کی غذا لے انسانوں کی بہت بڑی اکثریت نے دوبارہ یہ غلطی کی کہ اُس نے انحراف کا ایک طریقہ اختیار کیا اور انسان دوبارہ معرفت کے حصول سے محروم رہا۔
اصل یہ ہے کہ جدید سائنس کے دو شعبے ہیں ۔ ایک ہے، نظریاتی سائنس (theoretical science)، اِس کا دوسرا شعبہ وہ ہے جس کو انطباقی سائنس (applied science) کہا جاتا ہے۔ نظریاتی سائنس کامل طور پر معرفت کی سائنس تھی۔ اُس کے مطالعے سے انسان، خدا کو اور خدائی حقیقتوں کا علم حاصل کر سکتا تھا۔ لیکن انسان نے نظریاتی سائنس سے یہ خدائی رزق نہیں لیا، وہ بدستور معرفت سے محروم بنارہا۔
انطباقی سائنس وہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں ٹکنکل سائنس (technical science) کہا جاتا ہے۔ سائنس کی دریافتوں نے ایک نئی ٹکنالوجی دی۔ اِس جدید ٹکنالوجی کے ذریعے نئی مشینہیں بنیں،
نئی قسم کی بلڈنگیں تیار کی گئیں، نئی قسم کی سواریاں بنیں، نئی قسم کی اشیاء صرف (consumer goods) وجود میں آئیں۔ سماجی ترقی کا وہ اعلیٰ نظام قائم ہوا جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے، وغیرہ۔
مذکورہ قسم کی صنعتی ترقیوں سے جدید انداز کے پرکشش شہر وجود میں آئے۔ ان ترقیوں کے نتیجے میں انسان کو عیش اور راحت کا جو سامان ملا، وہ مادی اعتبار سے اتنا پرکشش تھا کہ انسان اس میں انسان نے شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھا کہ جدید ترقیوں کے بعد اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ اسی دنیا میں اپنی جنت بنا سکے۔ وہ بعد از موت دورِ حیات (post death period) میں ملنے والی جنت کا انتظار نہ کرے، بلکہ قبل از موت دورِ حیات (pre-death period) میں اپنی جنت بنا کر اُس میں عیش کی زندگی گزارے۔
جدید سائنس، انسان کے لیے معرفت کی روشنی تھی، لیکن انسان اُس سے معرفت کی روشنی حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس طرح یہ ہوا کہ خدا نے معرفت کا جو تیسرا دروازہ کھولا تھا، وہ بھی انسان کی نادانی سے اس کے اوپر بند پڑا رہا۔