Al-Risala · September 2011

معرفت بذریعہ فائنل اظہار

Al-Risala, September 2011, pp. 26–29

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) کے مطابق، انسان سے جو معرفت مطلوب ہے، وہ براہِ راست مشاہدہ کے بغیر مطلوب ہے۔ اسی بلا مشاہدہ معرفت کو قرآن میں ایمان بالغیب (2: 3) کہا گیا ہے۔

اوپر معرفت کے جن تین درجوں کا ذکر کیا گیا، اُن کا تعلق اُسی قسم کی بلا مشاہدہ معرفت سے انسان کی پچھلی تاریخ، معرفت کے اُنھیں درجات کی تاریخ کا دوسرا نام ہے۔ انسان اِس نوعیت کی معرفت کے حصول میں ناکام رہے، تو وہ وقت آجاتا ہے جب کہ حقیقت سے پردہ اُٹھا دیا جائے، تاکہ انسان اُن حقیقتوں کو براہِ راست طور پر دیکھ لے جن کو وہ بالواسطہ طور پر دیکھنے میں ناکام ہو گیا تھا۔ یہ بات قرآن میں بار بار مختلف انداز سے بتائی گئی ہے۔

اس نوعیت کی چند قرآنی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے:

”اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آپہنچی، یہ وہی چیز ہے جس سے تم بھاگتے تھے۔ پھونکا جائے گا، یہ ڈرانے کا دن ہوگا۔ ہر شخص اس طرح آگیا کہ اُس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا۔ تم اس دن سے غفلت میں رہے، پس ہم نے تمھارے اوپر سے پردہ ہٹا دیا، تو آج تمھاری نگاہ تیز ہے“(19-22: 50)

مذکورہ قرآنی آیت میں انسانی تاریخ کے آخری دور (final phase of human history) کا ذکر ہے۔ انسانی تاریخ کے اسی آخری دور کا دوسرا نام قیامت (Doomsday) ہے۔ بتاتے ہیں کہ اب اس آخری دور کے ظاہر ہونے کا وقت بالکل قریب آپہنچا ہے۔ تمام دنیا کے سائنس داں متفقہ طور پر جس گلوبل وارننگ (global warming) کی خبر دے رہے ہیں، وہ دراصل گلوبل وارمنگ (global warning) ہے۔

سائنس دانوں کے مشاہدے کے مطابق، انسانی تاریخ کے خاتمہ کا عمل تیزی سے شروع ہو چکا ہے۔ بہت جلد ایسا ہوگا کہ زمین کے اوپر قائم کردہ لائف سپورٹ سسٹم بالکل تباہ ہو جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بہت جلد دنیا انسان کے لیے نا قابل رہائش (inhabitable) بن جائے گی۔ جدید سائنسی مشاہدہ یہ بھی بتاتا ہے کہ تباہی کا یہ عمل اتنا زیادہ مہلک ہے کہ وہ اب نا قابل اعادہ (irreversible) بن چکا ہے۔ اب اس کو دوبارہ پیچھے کی طرف لوٹایا نہیں جاسکتا۔ قرآن کے مطابق، دنیا کا آخری خاتمہ اُس وقت ہوگا جب کہ فرشتہ اسرافیل اپنا صور تاہم اس آخری انجام سے پہلے خدا کچھ نشانیاں ظہور میں لا رہا ہے۔ یہ انسان کے لیے گویا آخری موقع ہے، تاکہ اب سے وہ ہوش میں آئے اور اپنی اصلاح کر کے اپنے آپ کو ابدی جنت کا مستحق بنالے۔ موجودہ گلوبل وارمنگ اور اُس سے پیدا ہونے والے حالات اسی قسم کی ایک پری فائنل وارننگ (pre-final warning) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

گلوبل وارمنگ دراصل قرب قیامت کی علامت (sign) ہے۔ قرآن اور حدیث میں

اس علامت کا ذکر صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، سمندر کرۂ ارض کے تین چوتھائی حصے پر محیط ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایک وقت آئے گا، جب کہ سخت گرمی کے نتیجے میں سمندروں کا پانی کھولنے لگے گا۔ چناں چہ فرمایا: وإذا البحار سُجّرت (81:6) یعنی جب سمندروں کو (آگ سے) بھڑکا دیا جائے گا:

And when the seas are set on fire (81: 6)

قیامت سے پہلے پیش آنے والی اس حقیقت کو حدیث میں مزید وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا كان يوم القيامة أدنيت الشمس من العباد (الترمذي، رقم الحديث (2421) یعنی جب قیامت کا دن قریب آجائے گا تو سورج انسان کے قریب سورج کے قریب آنے کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی گرمی قریب آجائے گی۔ موجودہ زمانے میں جس سائنسی انقلاب کا ظہور ہوا، وہ خدا کے منصوبے کے عین مطابق تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے نیچر (Nature) میں چھپی ہوئی خدا کی نشانیاں ظاہر ہوں تاکہ انسان اُن سے سبق لے اور خالق کی معرفت حاصل کرکے خالق کی ابدی رحمتوں کا مستحق بنے۔ انسان نے ان چیزوں کو صرف اپنے مادی مقصد کے لیے استعمال کیا۔ اور بظاہر شان دار صنعتی تمدن کی ایک دنیا بنا کر اس میں رہنے لگا۔

صنعتی دریافتوں کا مقصد خالق کی معرفت کا حصول تھا، نہ کہ خود اپنے لیے مادی عیش کی ایک دنیا یہ سائنسی دریافتوں کا ایک غلط استعمال (misuse) تھا۔ خدا نے اس کو پسند نہیں کیا۔ اس بنا پر مختلف قسم کی صنعتی خرابیاں (industrial evils) پیدا ہوگئیں۔ مثلاً وہ خرابی جس کو گرین ہاؤس گیس، یا کاربن ایمیشن (carbon emission) کہا جاتا ہے۔

کاربن ایمشن کوئی نیا مسئلہ نہیں، وہ ہمیشہ سے موجود تھا۔ مگر اس سے پہلے یہ تھا کہ خدا کا بنایا ہوا فطری نظام اس کاربن کو اپنے اندر جذب (absorb) کر لیتا تھا۔ اب یہ ہوا کہ خدا کے فطری نظام نے صنعتی کاربن کو جذب کرنا چھوڑ دیا۔ انسان کے پاس اس نظام کا کوئی بدل موجود نہ تھا، اس لیے

چاہیے—انسانیی سرگرمیاں دھیرے دھیرے صنعتی کثافت (industrial pollution) کی صورت اختیار کر گئیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا ایک قسم کا گیس چیمبر (gas chamber) بن گئی۔ یہ گویا اس بات کا اعلان تھا کہ انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ دنیا میں بطورِ خود اپنی ایک جنت بنا سکے۔ جس طرح موجودہ عارضی دنیا کی تخلیق خدا نے کی ہے، اُسی طرح ابدی جنت کی تخلیق خدا ہی کر سکتا ہے۔ کسی اور کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں۔

اس معاملے کا ایک علامتی واقعہ وہ ہے جو حال میں پیش آیا۔ امریکا کی ریاست کیلی فورنیا کے بڑے رقبے میں ہرے بھرے جنگل ہیں۔ اس جنگل کے کنارے ایک دریا بہتا ہے۔ یہ علاقہ نہایت خوب صورت علاقہ ہے۔ جنگل کے دوسری طرف جدید طرز کا ایک ٹاؤن بنایا گیا۔ اس کی خوب صورتی کی بنا پر اس کا نام پیراڈائز (Paradise) رکھ دیا گیا، یعنی جنت۔ یہاں کے لوگ خوشی اور راحتوں کی زندگی گزار رہے تھے۔

اس کے بعد یہ ہوا کہ جون 2008 میں سخت گرمی کی وجہ سے کیلی فورنیا کے ان وسیع جنگلوں میں آگ لگ گئی۔ حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود آگ پھیلتی گئی، یہاں تک کہ یہ آگ دریا کو پار (jump) کر کے پیراڈائز ٹاؤن میں داخل ہوگئی۔ 10 جولائی 2008 تک اس ٹاؤن کے 75 مکانات جل کر تباہ ہو چکے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھبراہٹ میں ٹاؤن کو چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ اس واقعے کی خبر میڈیا میں آچکی ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (11 جولائی 2008) میں اس واقعے کی رپورٹ حسب ذیل عنوان کے تحت شائع ہوئی ہے: California fires spark evacuation (p. 23). آگ لگنے کی یہ خبر اسی پیراڈائز نامی ٹاؤن کے بارے میں ہے۔ اس خبر کا عنوان زیادہ درست طور پر یہ ہونا چاہیے انسان ساخت کی مادی جنت میں آگ :

Printed page