آخری انجام
Al-Risala, September 2011, pp. 40–43
By Maulana Wahiduddin Khan
اورنگ زیب عالم گیر (وفات : 1707) کی بیٹی شہزادی زیب النساء بیگم (وفات: 1701) محل میں پیدا ہوئی۔ شاہانہ ماحول میں اس کی پرورش ہوئی۔ مگر آخر میں وہ بیمار ہوگئی۔ 62 سال کی عمر میں بعض تلخ تجربات کے بعد مایوسی کے عالم میں دہلی میں اس کی موت ہوئی۔ مرنے سے پہلے شہزادی نے اپنے مزار کے کتبہ کے لیے حسب ذیل فارسی شعر لکھا:
بر مزار ما غریباں، نے چراغے، نے گلے ئے پروانہ رقصّد، نے صدائے بلبلے یعنی مجھ غریب کی قبر پر نہ کوئی چراغ ہے اور نہ کوئی پھول۔ اس لیے میرے مزار پر نہ کوئی پروانہ رقص کرتا ہے اور نہ کسی بلبل کی آواز سنائی دیتی ہے۔
موت اور آخری انجام کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ہر عورت اور مرد آخر کار اسی قسم کے انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ ہر پیدا ہونے والے کے لیے آخر کار یہی مقدر ہے کہ وہ بے بسی کے عالم میں مرے اور ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلا جائے۔ یہ انجام ہر ایک کے لیے مقدر ہے، خواہ بظاہر وہ دولت واقتدار کے ماحول میں پیدا ہو یا غربت وبے کسی کے ماحول میں۔
کیا انسان اسی لیے پیدا ہوا تھا کہ اس طرح وہ ایک ناکام زندگی گزارے اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے مٹ کر ختم ہو جائے۔ یہ تصور عقل کے بھی خلاف ہے اور فطرت کے بھی خلاف۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی معنویت (meaning) کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ دنیا کو آخرت کی دنیا کے ساتھ ملا کر دیکھا آخرت کی دنیا انسانی زندگی کو بامعنی بناتی ہے۔ آخرت کو مانے بغیر انسان کی زندگی سراسر بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ آخرت کا یہ تصور اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ آخرت کا تصور ایک حقیقی تصور ہے۔ وہ کوئی بے بنیاد مفروضہ نہیں۔ آخرت کو مانے بغیر موجودہ دنیا کی کوئی بامعنی توجیہہ ممکن نہیں۔ آخرت کا عقیدہ انسان کو ایک با مقصد نشانہ دے دیتا ہے۔ آخرت کو ماننے کے بعد، موت سے پہلے کی زندگی بھی بامعنی بن جاتی ہے اور موت کے بعد کی زندگی بھی بامعنی۔
سوال و جواب عصر حاضر کیا ہے، نیز کیا عصر حاضر کے بعض مظاہر مثلاً عریانیت، وغیرہ کی تردید، عصر حاضر کی تردید کے ہم معنی ہے۔ براہِ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں (شارق حسین، نئی دہلی) عصر حاضر کی ایک آئیڈیالوجی (ideology) ہے اور دوسری چیزیں وہ ہیں جو اس کے مظاہر مظاہر ہمیشہ اضافی (relative) ہوتے ہیں، اس لیے مظاہر کو دیکھ کر عصر حاضر کو درست طور پر سمجھا عصر حاضر کی بنیاد اس کی مخصوص آئیڈیالوجی پر ہے۔ عصر حاضر کو سمجھنے کے لیے اس کی اسی آئیڈیالوجی کو سمجھنا چاہیے۔
عصر حاضر کی آئیڈیالوجی دراصل مذہب کی آئیڈیالوجی کے بالمقابل پیدا ہوئی ہے۔ آئیڈیالوجی تمام تروحی (revelation) پر قائم ہے۔ الہامی مذاہب کی اصل بنیاد تمام تروحی کا یہی تصور وحی کو مذاہب میں گویا کہ مسلمہ اصول (axiom) کا درجہ حاصل ہے، یعنی عقلی دلیل کے بغیر اس کو برحق تسلیم کرنا۔ یہی تمام الہامی مذاہب کی اصل بنیاد ہے۔
اس کے مقابلے میں، عصر حاضر کی آئیڈیالوجی عقل (reason) پر قائم ہے۔ کے مطابق، کسی بھی تصور کو مسلمہ کی حیثیت حاصل نہیں۔ ہر تصور کو عقل کی معلوم کسوٹی پر جانچا جائے گا۔ جو چیز عقلی جانچ میں درست ثابت ہو، وہ درست ہے۔ اور جو چیز عقلی جانچ میں درست ثابت نہ ہو، وہ یہی عصر حاضر کی اصل فکری بنیاد ہے۔
اس مخصوص آئیڈیالوجی کی بنا پر جدید ذہن نے عضویاتی ارتقا (organic evolution) کو حقیقت مان لیا۔ اس کے مقابلے میں، اس نے خدا کے تصور کو مفروضہ قرار دیا۔ کیوں کہ عضویاتی ارتقا کم از کم اپنے طریقہ (method) کے اعتبار سے، جدید ذہن کو عقلی نظر آیا۔ اس کے برعکس، خدا کے تصور کے بارے میں جدید ذہن کا خیال تھا کہ اس کے ثبوت کے لیے کوئی معلوم عقلی بنیاد موجود نہیں۔
عصر حاضر کی اس آئیڈیا لوجی میں بلاشبہ بہت سے علمی نقص موجود ہیں، لیکن عصر حاضر کا تجزیہ کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئیڈیا لوجی اور مظاہر کے فرق کو سمجھیں ۔ وہ یہ غلطی نہ کریں کہ مظاہر کی تردید کرکے وہ یہ سمجھ لیں کہ انھوں نے عصر حاضر کی آئیڈیا لوجی کو رد کر دیا۔ چند سوالات کی وضاحت مطلوب ہے۔ اسلام اور مسلمان دونوں کو ایک چیز سمجھا جائے یا ان میں کچھ فرق ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جذباتی اشو پر برطانیہ کے مسلمان بہت جلد بھڑک اٹھتے ہیں، اس کی وجہ کیا ہے۔ اسلام میں پردے کا تصور کیا ہے نیز کیا اسلام میں عورتوں پر مسجد جانے میں پابندی رکھی گئی ہے۔ کیا کارٹون جیسے معاملے پر بھڑکنا پیغمبر کی تعلیمات میں ہے (رنجنا سین گپتا، نئی دہلی) 1- جو آدمی اسلام کو سمجھنا چاہتا ہے، وہ اکثر ایک مسئلے سے دوچار رہتا ہے، وہ یہ کہ ایک طرف، اسلام کا اسکرپچر (scripture) قرآن ہے۔ اور دوسری طرف، مسلمان ہیں جو اسلام کو اپنا مذہب بتاتے ہیں ۔ اس طرح دوحوالوں کی بنا پر مطالعہ کرنے والا کنفیوژن میں پڑ جاتا ہے۔ وہ مسلمانوں کے عمل (practice) کو دیکھ کر اسلام کے بارے میں رائے قائم کرنے لگتا ہے۔ اس معاملے میں یہ ایک عام غلطی ہے۔ اس لیے اسلام کے اسٹوڈنٹ کے لیے پہلا رہنما اصول یہ ہے کہ: You have to differentiate between Islam and Muslims. You have to judge Muslims in the light of Islamic teachings, and not vice versa. اصل یہ ہے کہ اسلام ایک ریلیجس آئیڈیا لوجی ہے، جب کہ مسلمان ایک کمیونٹی کی حیثیت رکھتے ایسی حالت میں کمیونٹی کو اسلام کے تابع کیا جائے گا، نہ کہ اسلام کو کمیونٹی کے تابع کر دیا جائے۔ اسلام کے سائنٹفک مطالعے کے لیے یہ ایک بنیادی اصول ہے۔ اس اصول کو ملحوظ رکھ کر ہی اسلام کے بارے میں درست رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ اگر اس اصول کو ملحوظ نہ رکھا جائے، تو اسلام کے بارے میں مبنی بر حقیقت رائے قائم کرنا ممکن نہیں۔
2- برطانیہ میں مقیم مسلمانوں اور دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کے عقائد میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی جذباتیت کا سبب بنیادی طور پر صرف ایک ہے، اور وہ اردو زبان ہے۔ کے مسلمان زیادہ تر اردو اسپیکنگ علاقوں مثلاً انڈیا اور پاکستان سے آئے ہیں۔ موجودہ زمانے میں اردو زبان میں جو لٹریچر پیدا ہوا، بعض علاقائی سبب سے وہ زیادہ تر جذباتی اسلوب پر مبنی تھا۔ میں شاعری اور انشا پردازی اور خطابت کا بہت زیادہ رواج ہوا۔ اردو ماحول میں تربیت پائے ہوئے یہ لوگ بڑی تعداد میں برطانیہ گئے۔ مزید یہ کہ اس کے بعد ان کا رشتہ اردو اسپیکنگ علاقوں سے منقطع نہیں ہوا۔ اس علاقے کے شاعر اور ادیب اور خطیب برابر وہاں جاتے رہے۔ اس طرح برطانیہ میں اردو کلچر برابر فروغ پاتا رہا۔ زیادہ تر یہی اردو اسپیکنگ لوگ ہیں جو جذباتی اشو پر ہنگامہ کرتے رہتے ہیں۔ اس قسم کے ہنگاموں کا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے ادنیٰ درجے کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ 3- پردہ (veil) کی موجودہ صورت بعد کے زمانے میں ڈیولپ ہوئی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتوں کے لیے موجودہ قسم کے برقع کا وجود نہ تھا۔ عورتوں کے بارے میں اسلام کا جو اصول ہے، وہ بنیادی طور پر یہ ہے کہ اسلام مخلوط سوسائٹی (mixed society) کے خلاف اسلام اس کو پسند نہیں کرتا کہ عورت اور مرد دونوں مچھلی کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ مخلوط ہو کر رہیں۔ اسلام کے مطابق، یہ بھی ایک غیر فطری بات ہے کہ عورت اور مرد دونوں کا ورک پلیس (work place) اسی طرح برہنگی (nudity) بھی اسلامی تعلیم کے مطابق، جائز نہیں۔
اس معاملے میں اسلام کا جو اصول ہے، وہ یہ ہے کہ عورت اور مرد شادی شدہ زندگی گزاریں۔ عورت جب باہر نکلے تو سادگی کے ساتھ نکلے۔ وجہ اور کفین کے سوا، اس کا پورا جسم ڈھیلے کپڑوں سے ڈھکا ہوا ہو۔ مسجد میں عورتوں کے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے، البتہ ڈسپلن کی خاطر یہ اصول مقرر کیا گیا ہے کہ باجماعت نماز میں عورتوں اور مردوں کی صفیں الگ الگ ہوں ۔ عورت کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے :