Seal: To close completely
Al-Risala, October 2011, pp. 51–6
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ختم نبوت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ : لا نبیّ بعدی (صحیح البخاري، کتاب الأنبياء ) یعنی میرے بعد کوئی اور نبی نہیں۔
ختم نبوت کا مطلب ختم ضرورت نبوت ہے۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ اس لیے ختم کر دیا گیا کہ اس کے بعد نئے نبی کی آمد کی ضرورت باقی نہ رہی۔ جیسا کہ معلوم ہے، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے ساتھ استثنائی طور پر ایسا ہوا کہ وہ کامل طور پر محفوظ ہو گیا۔ اور جب دین خداوندی محفوظ ہو جائے، تو اس کے بعد یہی محفوظ دین ، ہدایت حاصل کرنے کا مستند ذریعہ بن جاتا ہے۔ خدا کی ہدایت کو جاننے کے لیے اصل ضرورت محفوظ دین کی ہے، نہ کہ پیغمبر قرآن کی ایک آیت میں اس حقیقت کو واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔
قرآن کی سورہ المائدہ میں ایک آیت ہے، جس کے بارے میں صحیح روایات میں آیا ہے کہ وہ قرآن کی آخری آیت ہے۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں۔ اليوم أكملت لكم دينكم، وأتممت
علیکم نعمتی، ورضیتُ لكم الإسلام ديناً (5:3) قرآن کی اس آیت کے تین جُز ہیں: 1- آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو کامل کر دیا، یعنی یہ آیت قرآن کی آخری آیت اس آیت کے ساتھ قرآن کا نزول مکمل ہو گیا۔
2- میں نے تمھارے اوپر اپنی نعمت کو پورا کر دیا، یعنی قرآن کے گرد، اصحابِ رسول کی ایک مضبوط ٹیم جمع ہوگئی، جو قرآن کی حفاظت کی ضامن ہے۔
3- اور میں نے اسلام کو بحیثیتِ دین تمھارے لیے پسند کر لیا، یعنی اب اسلام کو ہمیشہ کے لیے مستند دین خداوندی کی حیثیت حاصل ہوگئی۔
قرآن میں پچیس پیغمبروں کا ذکر ہے۔ حدیث کے مطابق، قدیم زمانے میں جو پیغمبر دنیا میں آئے، ان کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی۔ مگر ان پیغمبروں پر بہت کم لوگ ایمان لائے۔ اس بنا پر ان پیغمبروں کے ساتھ کوئی مضبوط ٹیم نہ بن سکی، جو اُن کے بعد اُن کی لائی ہوئی کتاب کی ضامن بنے۔ چناں چہ پچھلے پیغمبروں کی لائی ہوئی کتابیں اور ان کے صحیفے محفوظ نہ رہ سکے۔ پیغمبر آخر الزماں محمد بن عبد الله بن عبد المطلب کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ تھا۔ عیسوی میں عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے ۔ اُس وقت یہاں جو لوگ (بنو اسماعیل) آباد تھے، ان کی پرورش تمدن سے دور صحرائی ماحول میں ہوئی ۔ اس بنا پر وہ اپنی اصل فطرت پر قائم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام کو استثنائی طور پر ساتھ دینے والوں کی بڑی تعداد حاصل ہوگئی۔ بائبل میں اس استثنائی واقعے کو بطور پیشین گوئی ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے — وہ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا: He came with ten thousand of saints (Deoteronomy 33:2)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی صدی ہجری میں مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا پڑا ۔ کے آٹھویں سال آپ فاتحانہ طور پر دوبارہ مکہ میں داخل ہوئے تو اُس وقت آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ اس کے بعد اپنی وفات سے تقریباً ڈھائی مہینے پہلے جب آپ نے آخری حج ادا کیا اور عرفات کے میدان میں اپنے اصحاب کو خطاب فرمایا، اُس وقت آپ کے اصحاب کی تعداد ایک لاکھ سے
زیادہ تھی ۔ اس کے بعد 632 عیسوی میں جب مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی، اُس وقت عرب کے تقریباً تمام لوگ اسلام میں داخل ہو چکے تھے اور آپ کے اصحاب کی تعداد دولاکھ سے زیادہ ہو گئی تھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استثنائی طور پر یہ معاملہ ہوا کہ آپ کو اتنی بڑی تعداد میں قابل اعتماد رفقا حاصل ہو گئے ۔ یہ ایک انتہائی طاقت ور ٹیم تھی۔ مورخین کی شہادت کے مطابق، اس ٹیم کا ہر فرد ایک ہیرو (hero) کی حیثیت رکھتا تھا۔ اُس وقت عرب کے باہر دو بڑے ایمپائر موجود تھے— بازنطینی ایمپائر، اور ساسانی ایمپائر (Byzantine Empire & Sassanid Empire)۔ ایمپائر اسلامی مملکت کے خلاف ہو گئے۔ اس طرح دونوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا۔ اس ٹکراؤ کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل اسلام کو جیت ہوئی اور دونوں ایمپائر ٹوٹ کر ختم ہو گئے ۔ یہی وہ عظیم واقعہ ہے جس کو بائبل میں بطور پیشین گوئی ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے— ازلی پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے : And the everlasting mountains were scattered (Habakkuk 3: 6)
اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بہت جلد بعد ایک عظیم مسلم سلطنت بن گئی جو اسلام کی پشت پر ایک مضبوط سیاسی طاقت کی حیثیت رکھتی تھی ۔ اصحاب رسول اور اہل اسلام کا یہ سیاسی غلبہ تاریخ کا ایک استثنائی واقعہ تھا۔ مورخین نے عام طور پر اس کا اعتراف کیا ہے۔ انڈیا کے ایک مورخ ایم این رائے (وفات : 1954) کی ایک کتاب (The Historical Role of Islam) پہلی بار 1939 میں دہلی سے شائع ہوئی۔ اس کتاب میں انھوں نے اسلامی انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے اُس کو تمام معجزات میں سب سے بڑا معجزہ قرار دیا ہے :
The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles (p. 4)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے اصحاب، قرآن کی حفاظت کے کام میں مسلسل طور پر مشغول ہو گئے ۔ قرآن کو یاد کرنا، قرآن کو لکھنا، قرآن کا چرچا کرنا، یہی اُن کا سب سے بڑا مشغلہ بن گیا۔ اس طرح، اصحاب رسول کی جماعت گویا کہ ایک زندہ کتب خانہ بن گئی۔ پھر جب مسلم سلطنت قائم ہوئی تو حفاظتِ قرآن کی مہم کو ایک سیاسی طاقت کی تائید بھی حاصل ہوگئی۔ حفاظتِ قرآن کا یہ
سلسلہ تقریباً ایک ہزار سال تک غیر منقطع طور پر چلتا رہا۔ یہ کسی کتاب کی حفاظت کا ایک استثنائی معاملہ تھا جو قدیم زمانے میں کسی بھی کتاب کے ساتھ پیش نہیں آیا، نہ کوئی دنیوی کتاب اور نہ کوئی دینی کتاب۔ پچھلے زمانے میں انسانوں کی رہ نمائی کے لیے جو پیغمبر آئے، وہ سب اپنے ساتھ خدا کی کتاب اور صحیفے لائے۔ مگر یہ کتابیں اور صحیفے بعد کو محفوظ نہ رہ سکے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی بھی پیغمبر کے گرد اُس کے ساتھیوں کی کوئی مضبوط ٹیم اکھٹا نہ ہوسکی۔ پیغمبرِ اسلام کے ساتھ استثنائی طور پر ایسا ہوا کہ آپ کو اپنے پیروؤں (followers) کی ایک مضبوط ٹیم حاصل ہوگئی۔ ٹیم قرآن کی حفاظت کی ضامن بن گئی۔
ایک مستشرق (orientalist) نے اس معاملے کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد لکھا ہے کہ پیغمبرِ اسلام کی وفات کے فوراً بعد آپ کے اصحاب، حفاظت قرآن کے لیے سرگرم ہوگئے۔ انھوں نے اس مقصد کے لیے تاریخ میں پہلی بار ڈبل چیکنگ سسٹم (double checking system) کا طریقہ اختیار کیا۔ یہ ایک ایسا طریقہ تھا جس کے بعد قرآن کی حفاظت میں کسی قسم کا احتمال سرے سے باقی نہیں رہتا۔ 632 عیسوی میں مدینہ میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اُس وقت ہزاروں کی تعداد میں ایسے اصحاب رسول موجود تھے جن کو پورا قرآن بخوبی طور پر یاد تھا۔ نیز یہ کہ پیغمبرِ اسلام کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی قرآن کا کوئی حصہ اترتا تو آپ اُسی وقت اُس کو قدیم طرز کے کاغذ (قرطاس) پر اصحابِ رسول نے یہ کیا کہ زید بن ثابت الانصاری (وفات: 665ء) کی قیادت میں ایک ٹیم بنائی۔ اِس ٹیم نے قرآن کی تمام تحریروں کو اکھٹا کیا۔ اس کے بعد انھوں نے یہ کیا کہ قرآن کے تحریری ذخیرے کا تقابل حافظے سے کیا، اور حافظے کا تقابل تحریری ذخیروں سے کیا۔ اس ڈبل چیکنگ کے بعد انھوں نے قرآن کا ایک مستند نسخہ (authentic copy) لکھ کر تیار کیا۔ یہ نسخہ چوکورصورت میں تھا، اِس لیے اُس کو ربعہ (square) کہا جاتا تھا۔ یہ ربعہ، قرآن کا مستند نسخہ قرار پایا۔ لوگوں نے اِس نسخے کی مزید نقلیں تیار کیں۔ اس طرح وہ مسلم دنیا میں ہر طرف پھیل گیا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسلام مسلسل طور پر ایک زندہ موضوع بن گیا۔ اہل اسلام، ایشیا اور افریقہ کے درمیان ایک بڑے رقبے میں ہر جگہ پھیل گئے۔ ان لوگوں کی تقریر اور تحریر کا موضوع اسلام تھا۔ قرآن کی کتابت، قرآن کی تفسیر، حدیث کی تدوین، حدیث کی شرح، پیغمبر اسلام کی سیرت، اصحاب رسول کے حالات، اسلام کی تاریخ، فقہ کی ترتیب و تدوین، وغیرہ۔ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد سیکڑوں سال تک یہ موضوعات لاکھوں اہل اسلام کے درمیان تقریر اور تحریر کا موضوع بنے رہے۔ دعوت و تبلیغ کا کام قرآن ہی کے ذریعے کیا جاتا تھا، اس لیے دعوت و تبلیغ کے دوران بھی مسلسل طور پر قرآن کو پڑھنے اور سنانے کا عمل جاری رہا۔ ایک ڈبل حفاظت کا معاملہ تھا۔ اس عمل کے دوران ایک طرف، قرآن اور حدیث کی حفاظت ہوئی اور اسی کے ساتھ عربی زبان ایک زندہ اور محفوظ زبان بنتی چلی گئی۔
یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ اٹھارھویں صدی عیسوی میں پرنٹنگ پریس کا دور آگیا۔ کا حکمراں نپولین (وفات: 1821) 1798 میں مصر میں داخل ہوا۔ وہ اپنے ساتھ پرنٹنگ پریس بھی اس سے پہلے کاغذ سازی کی صنعت 751 عیسوی میں سمرقند میں آچکی تھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تقریباً ایک ہزار سال بعد قرآن اور علوم قرآن کی حفاظت پرنٹنگ پریس کے دور میں داخل ہوگئی۔ اب قرآن کے مطبوعہ نسخے دستیاب ہونے لگے۔ میں داخل ہونے کے بعد قرآن آخری طور پر ایک محفوظ کتاب بن گیا۔ اس کے بعد قرآن میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔
ختم نبوت کے حق میں یہی سب سے بڑا ثبوت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد استثنائی طور پر ایسے اسباب پیدا ہوئے جو خدا کی کتاب کو محفوظ کرنے کے لیے یقینی تدبیر کی حیثیت تاریخ بتاتی ہے کہ یہ تدبیر اپنے آخری انجام تک پہنچ گئی، یعنی قرآن کامل طور پر ایک محفوظ کتاب بن گیا۔ اور جب خدا کی ہدایت کتاب کی صورت میں محفوظ ہو جائے تو ایسی کتاب پیغمبر کا بدل بن جاتی ہے۔ اس کے بعد کسی نئے پیغمبر کی آمد کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔