رسول کی بعثت کا مقصد
Al-Risala, October 2011, pp. 7–8
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت کے مطابق، دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے۔ ان تمام پیغمبروں کا مقصد صرف ایک تھا—انسان کو خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) سے آگاہ کرنا۔ پیغمبروں نے مشترک طور پر یہی ایک کام کیا۔ انھوں نے بتایا کہ خدا نے کیوں انسان کو پیدا کیا ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ موت سے پہلے کے دور حیات (pre-death period) میں انسان سے کیا مطلوب ہے، اور موت کے بعد کے دور حیات (post-death period) میں اس کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ اسی کو قرآن میں انذار اور تبشیر کہا گیا ہے۔ یہی انذار اور تبشیر تمام پیغمبروں کا مشترک مشن تھا۔ اس کے سوا کوئی چیز اگر کسی پیغمبر کی زندگی میں نظر آتی ہے، تو وہ اس کی زندگی کا ایک اضافی پہلو (relative part) ہے، نہ کہ حقیقی پہلو (real part)۔
موجودہ دنیا میں انسان کی دو ضرورتیں ہیں۔ ایک ہے اس کی مادی ضرورت، جس کی تکمیل فزیکل سائنس (physical science) کے ذریعے ہوتی ہے۔ انسان کی دوسری ضرورت یہ ہے کہ اُس کے پاس وہ خدائی ہدایت (divine guidance) موجود ہو جس کا اتباع کرکے وہ آخرت میں کامیاب زندگی حاصل کرے۔ اس دوسری ضرورت کی تکمیل پیغمبرانہ الہام سے ہوتی ہے۔ کے لیے اس کو ہم ریلیجس سائنس (religious science) کہہ سکتے ہیں۔
فزیکل سائنس میں آخری سائنٹسٹ (final scientist) کا لفظ ایک غیر متعلق (irrelevant) فزیکل سائنس میں مسلسل طور پر ترقی کا عمل جاری رہتا ہے۔ اس لیے اس میدان میں کوئی سائنٹسٹ آخری سائنٹسٹ نہیں ہوسکتا۔ اس کے برعکس، ریلیجس سائنس ایک ہی خدائی ہدایت (divine guidance) پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ خدائی ہدایت غیر متغیر طور پر ہمیشہ ایک ہی رہتی ہے۔ لیے ریلیجس سائنس میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ کوئی آخری پیغمبر (final prophet) ہو جو انسان کو خدا کا آخری کلام (final word) دے دے، اور انسانیت کا قافلہ اس کی رہ نمائی میں بھٹکے بغیر مسلسل طور پر اپنے سفر حیات کو جاری رکھے۔
خدا کی طرف سے آنے والا ہر پیغمبر ایک ہی ابدی ہدایت لے کر لوگوں کے پاس آیا۔ بشری تقاضے کے تحت جب پیغمبر کی وفات ہوئی تو اس کے بعد اس کی لائی ہوئی خدائی ہدایت محفوظ نہ رہ اس لیے بار بار یہ ضرورت پیش آئی کہ نیا پیغمبر آئے اور وہ انسان کو دوبارہ مستند ہدایت عطا مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی لائی ہوئی خدائی ہدایت ، قرآن اور سنت کی شکل میں کامل طور پر محفوظ ہوگئی ، اس لیے آپ کے بعد کسی اور نبی کے آنے کی ضرورت باقی نہ رہی۔ پیغمبر کا آنا ایک بے حد سنگین معاملہ ہوتا ہے۔ جب ایک زندہ پیغمبر موجود ہو تو اُس وقت انسان کے لیے ایک ہی انتخاب (option) باقی رہتا ہے، یہ کہ وہ پیغمبر کا اقرار کرے۔ اقرار نہ کرنے کی صورت میں پیغمبر کے معاصرین کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے خدا کی یہ اسکیم نہیں کہ دنیا میں ہمیشہ ایک زندہ پیغمبر موجود رہے۔ خدا کی اسکیم کے مطابق ، اصل مطلوب یہ ہے کہ خدا کی ہدایت ہمیشہ محفوظ اور غیر محرف حالت میں موجود رہے۔ جب خدائی ہدایت کا متن (text) محفوظ ہو جائے اور اُس میں تحریف کا امکان باقی نہ رہے، تو زندہ پیغمبر کا موجود ہونا ، غیر ضروری ہو جاتا ہے ۔ پیغمبر آخر الزماں کے ظہور کے بعد پیش آیا۔ خدا کی کتاب انسان کے لیے ایک بک آف ریفرنس (book of reference) کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب ایک محفوظ بک آف ریفرنس دستیاب ہو جائے، تو اس کے بعد نئے پیغمبر کی بعثت اپنے آپ غیر ضروری ہو جاتی ہے۔