پیغمبرانہ ہدایت کی ابدیت
Al-Risala, October 2011, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر کے ذریعے خدا کی جو ہدایت آتی ہے، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہوتی ہے۔ میں پیغمبرانہ ہدایت کو روشن آفتاب سے تشبیہ دی گئی ہے (46 : 33)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کی ہدایت اُسی طرح ابدی ہوتی ہے جس طرح آفتاب کی روشنی انسان کے لیے ابدی ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تبدیلی زمانہ کے حوالے سے نئے پیغمبر کی ضرورت کو بتانا، ایک غیر متعلق (irrelevant) بات ہے۔ زمانے کی تبدیلی، یا مادی تہذیب کی نئی ترقی کا کوئی تعلق نئی نبوت سے نہیں زمانے کی تبدیلی سے اگر کوئی عملی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ صرف نئے اجتہاد کی ضرورت کو ثابت
کرتا ہے، نہ کہ نئے نبی کی ضرورت کو۔ مثلاً مسح علی الخفین کے مسئلے کو لیجیے۔ قدیم زمانے میں چمڑے کے موزے ہوا کرتے تھے۔ اُس وقت چمڑے کے موزے کے حوالے سے مسح علی الخفین کا مسئلہ بتایا گیا۔ صنعتی ریشوں سے تیار کیے ہوئے موزوں کا زمانہ ہے۔ یہ تبدیلی اجتہاد کی ضرورت کو بتاتی ہے، نہ کہ نئے نبی کی ضرورت کو۔ اس طرح کے بدلے ہوئے حالات میں صرف یہ کافی ہے کہ قرآن اور سنت کی روشنی میں صورتِ موجودہ پر شرعی حکم کا از سرِ نو انطباق (re-application) کیا جائے۔ اسی کا نام اجتہاد ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے، تو اس وقت وہاں آب پاشی (irrigation) کا لوگوں نے کہا کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ آپ خدا کی مدد سے ہمارے اس مسئلے کو حل کیجیے۔ آپ نے فرمایا: ما بهذا بُعثتُ إليكم (السيرة النبوية لابن هشام، جلد 1، صفحہ 316) یعنی میں تمھارے پاس اس کام کے لیے نہیں بھیجا گیا ہوں: