You know better about your worldly matters.
Al-Risala, October 2011, pp. 9–10
By Maulana Wahiduddin Khan
آب پاشی، باغ بانی، فن تعمیر اور صنعت جیسی چیزوں کا تعلق انسانی تہذیب سے ہے۔ کا عمل ہمیشہ انسانی تحقیق و جستجو پر مبنی ہوتا ہے۔ اس معاملے کو خدا نے انسان کے اپنے اوپر چھوڑ دیا تا ہم جہاں تک ہدایت کا معاملہ ہے، اُس کا تعلق خدائی وحی سے ہے۔ انسان کی یہی ضرورت ہے جس کے لیے خدا نے وحی و نبوت کا سلسلہ جاری کیا۔
مشہور فرانسیسی مصنف ڈاکٹر الکس کیرل (وفات: 1944) نے 1935 میں ایک کتاب شائع کی۔
اس کتاب کا نام انسان نامعلوم (Man the Unknown) تھا۔ مگر زیادہ صحیح طور پر اس کتاب کا نام ہدایت نامعلوم (Guidance the Unknown) ہونا چاہیے۔ انسان کی صحیح ہدایت کا تعلق امور غیب سے ہے۔ یہ صرف خدا ہے جو امور غیب کا علم رکھتا ہے۔ اس لیے صرف خدا ہی انسان کو صحیح رہنمائی دے سکتا ہے۔ ماضی میں پیغمبروں کے ذریعے یہی رہ نمائی انسان کو دی جاتی رہی۔ اب اس خدائی رہ نمائی کا مستند متن قرآن کی صورت میں محفوظ ہے۔ اب قیامت تک کے لیے قرآن، نبوت کا بدل ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ انسان اس مستند کلام الہی (word of God) کو پڑھے، وہ اُس پر تدبر کرے اور قیامت تک اُس سے اپنے لیے رہ نمائی لیتا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جئت فختمتُ الأنبياء (صحيح مسلم، کتاب الفضائل) یعنی میں آیا اور میں نے نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم کر دیا۔ پیغمبر اسلام محمد بن عبد الله بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ وسلم) مکہ میں 570ء میں پیدا آپ کی عمر چالیس سال ہوئی تو 610ء میں خدا نے آپ کو اپنا پیغمبر بنایا اور آپ پر قرآن آپ کا مشن توحید کا مشن تھا۔ اس مشن کے لیے آپ نے تقریباً 23 سال تک کام کیا۔ بعد 632ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی اور وہیں آپ کی تدفین ہوئی۔ آپ نے استثنائی طور پر اپنے ساتھیوں کی ایک بڑی جماعت بنائی، جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ اصحاب رسول کی اس جماعت نے آپ کے مشن کو تکمیل کے درجے تک پہنچایا۔