دعوائے نبوت نہیں
Al-Risala, October 2011, pp. 11–14
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ بات نہایت اہم ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پورے تاریخی دور میں ساری دنیا میں
کوئی بھی شخص ایسا پیدا نہیں ہوا جو اپنی زبان سے یہ دعویٰ کرے کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا نہیں اٹھاتو پیغمبر اسلام کا یہ دعویٰ اپنے آپ ایک ثابت شدہ حقیقت آپ کے اس اعلان کے بعد تقریباً چودہ سو سال گزر چکے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی بھی شخص ایسا نہیں اٹھا جو اپنی زبان سے یہ اعلان کرے کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ اس طرح آپ کا دعویٰ گویا کہ بلا مقابلہ اپنے آپ ثابت ہو گیا۔
اس سلسلے میں کچھ نام بتائے جاتے ہیں، جن کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ انھوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مگر یہ خیال درست نہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ آپ کے زمانے میں یمن کے مُسیلمہ (وفات: 633ء) نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ لیکن کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے کسی مستقل نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اُس نے صرف یہ کہا تھا کہ میں محمد کے ساتھ نبوت میں شریک کیا گیا ہوں۔ اس طرح اُس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اصل حیثیت دے دی۔ اور جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شرکت نبوت سے انکار کیا تو اُس کا دعویٰ اپنے آپ ختم ہو گیا۔
اسی طرح آپ کے زمانے میں یمن میں ایک اور شخص پیدا ہوا، جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اُس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ شخص اسود عنسی (وفات: 632ء) تھا۔ تاہم تاریخ کی کتابوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اُس نے خود اپنی زبان سے یہ کہا تھا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ کے مطابق، اِس کا کیس ارتداد اور بغاوت کا کیس تھا، نہ کہ دعوائے نبوت کا کیس۔ اِسی طرح آپ کے بعد ابوالمُتنّبی (وفات: 965ء) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا، مگر یہ درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ المُتنّبی ایک شاعر تھا اور نہایت ذہین آدمی تھا۔ اُس نے مزاحیہ طور پر ایک بار اپنے کو نبی جیسا بتایا، بعد کو اس نے اپنے اس قول کو خود ہی واپس لے لیا۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں ایسے دو افراد پیدا ہوئے، جنھوں نے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا—بہاء اللہ خاں (وفات: 1892) اور مرزا غلام احمد قادیانی (وفات: 1908)، مگر تاریخی ریکارڈ کے مطابق، یہ بات درست نہیں۔
بہاء اللہ خاں نے صرف یہ کہا تھا کہ میں مظہرِ حق ہوں۔ انھوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے کبھی اپنی زبان سے یہ نہیں کہا کہ میں خدا کا پیغمبر انھوں نے صرف یہ کہا تھا کہ میں ظلّ نبی ہوں، یعنی میں نبی کا سایہ ہوں۔ اس طرح کے قول کو ایک قسم کی دیوانگی تو کہا جا سکتا ہے، لیکن اس کو دعوائے نبوت نہیں کہا جا سکتا۔ ہندو گروؤں کی مثال موجودہ زمانے میں ہندوؤں میں کچھ ایسے افراد پیدا ہوئے جن کے متعلق کہا گیا کہ وہ وقت کے پیغمبر ہیں، مگر یہ بات بھی خلاف واقعہ ہے۔ مثلاً دہلی کے نرکاری بابا گربچن سنگھ (وفات: 1980) کے بارے میں ایک پمفلٹ مجھے ملا، جس میں نرکاری بابا کو وقت کا پیغمبر (prophet of the time) لکھا گیا تھا۔ میں اُن سے ان کے دہلی کے آشرم میں ملا، میں نے ان کی تقریر سنی اور ان سے گفتگو کی۔ لیکن معلوم ہوا کہ نرکاری بابا کے کچھ معتقدین ان کے بارے میں ایسا کہتے ہیں۔ لیکن خود نرکاری بابا نے اپنی زبان سے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔
اسی طرح کیرلا (تری وندرم) میں ایک مشہور ہندو گرو تھے۔ اُن کا نام برہما شری کرونا کرا (وفات: 1999) تھا۔ تری وندرم میں ان کا ایک بڑا آشرم تھا، جس کا نام 'شانتی گری آشرم' ہے۔ کے مشن کے کچھ لوگ مجھ سے دہلی میں ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے بابا جی وقت کے پیغمبر ہیں۔ کے بعد میں نے خود کیرلا کا سفر کیا اور تری وندرم میں ان کے آشرم میں ان سے ملا۔ میں نے ان کے معتقدین سے پیشگی طور پر بتا دیا تھا کہ میں کس مقصد سے وہاں جا رہا ہوں۔
میں نے یہ سفر فروری 1999 میں کیا تھا۔ شانتی گری آشرم میں پہنچ کر میں اُن سے ملا۔ ایک خصوصی کمرے میں لے جایا گیا، جہاں بابا جی کے ساتھ اُن کے تقریباً پچاس معتقدین موجود تھے۔ گفتگو کے دوران میں نے بابا جی برہما شری کرونا کرا سے ایک سوال کیا۔ اس کا جواب انھوں نے واضح لفظوں میں دیا۔ وہ سوال وجواب یہ تھا:
Q: Do you calim that you are a prophet of God in the same sense
اِس گفتگو میں میں نے ڈائریکٹ طور پر اُن سے پوچھا کہ کیا آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ اُنھوں نے صاف طور پر کہا کہ نہیں، میں ایسا دعویٰ نہیں کرتا۔ جب اُنھوں نے اِس طرح کہہ دیا تو اُس کے بعد میرا سوال و جواب ختم ہو گیا۔ اُس کے بعد میں خاموشی کے ساتھ بیٹھ کر اُن کی باتیں سنتا رہا اور پھر چلا آیا۔ اِس سفر میں شانتی گری آشرم میں میں نے دو دن قیام کیا۔ کیا وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پوری تاریخ میں کوئی ایسا شخص نہیں اٹھا جو اپنی زبان سے یہ دعویٰ کرے کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ اِس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ ایسا کلام اتنا زیادہ غیر معمولی ہے کہ کوئی غیر پیغمبر اس کو اپنی زبان سے ادا نہیں کر سکتا۔ جس طرح خدا کے سوا کوئی اور شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں خدا ئے رَبُّ العالمین ہوں، اِسی طرح کوئی شخص یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر (Prophet of God) ہوں۔ پیغمبری کا دعویٰ صرف کوئی سچا پیغمبر ہی کر سکتا ہے۔ کوئی غیر پیغمبر شخص دوسرے دوسرے الفاظ بول سکتا ہے، لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں خداوند عالم کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔