Al-Risala · October 2011

پیغمبر ایک تاریخی استثنا

Al-Risala, October 2011, pp. 14–16

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر کے پیغمبر ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ وہ پوری انسانیت کے مقابلے میں ایک استثنا (exception) ہوتا ہے۔ خدا کی طرف سے جتنے بھی پیغمبر آئے، سب کے سب درجے کے اعتبار سے یکساں تھے (185: 2)، لیکن رول کے اعتبار سے ان کے درمیان فرق تھا۔ پچھلے پیغمبروں کا رول زمانی رول تھا، اور پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا رول ابدی رول تھا۔

قرآن اور حدیث کی تصریح کے مطابق، کسی پیغمبر کو دوسرے پیغمبر کے اوپر شخصی فضیلت حاصل نہ پیغمبر ہونے کے اعتبار سے ایک کا جو درجہ تھا، وہی دوسرے کا درجہ بھی تھا۔ لیکن کارِ مفوضہ کی نسبت سے ہر ایک کی ضرورتیں الگ الگ تھیں۔ اِس بنا پر ہر ایک کو مختلف نوعیت کے ذرائع دیے گیے ۔

حضرت موسیٰ کی نصرت قوت عصا کے ذریعے کی گئی، تو حضرت مسیح کی نصرت قوت شفا کے ذریعے ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے نبیوں کے درمیان ایک واضح فرق یہ ہے کہ دوسرے تمام پیغمبر روایتی دور میں آئے اور روایتی دور تاریخ ہی میں ان کا پیغمبرانہ رول ختم ہو گیا۔ اس کے مقابلے میں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ یہ ہے کہ آپ تاریخ کے روایتی دور میں آئے، لیکن ترسیعی معنوں میں آپ کی نبوت تاریخ کے سائنسی دور تک جاری رہی۔ اس بنا پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو عطیات برائے نصرت دیے گئے، وہ پچھلے ادوار کی نسبت سے مختلف تھے۔

رول کے اسی فرق کی بنا پر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیا کے درمیان دلائل کی نسبت سے فرق پایا جاتا ہے، یعنی پچھلے انبیا کے یہاں اگر روایتی نوعیت کے دلائل ہیں تو پیغمبر اسلام کے یہاں سائنسی نوعیت کے دلائل ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے پیغمبر آئے، وہ سب تاریخ کے روایتی دور میں اس کے مقابلے میں پیغمبر اسلام، تاریخ کے اُس دور میں آئے جب کہ سائنسی دور شروع ہونے اس بنا پر یہ ہوا کہ دوسرے پیغمبروں کو حسی معجزے دیے گئے ۔ یہ معجزے صرف پیغمبر کے معاصر (contemporary) لوگوں کے لیے دلیل تھے ۔ ان معجزوں کی استدلالی حیثیت مشاہدے پر مبنی تھی۔ پیغمبر کے بعد وہ معجزہ ختم ہو گیا، اس لیے وہ بعد کی نسلوں کے لیے دلیل بھی نہ رہا۔ معجزے کا دلیل ہونا اُن معاصر لوگوں کے لیے ہے جو اس کو دیکھیں، وہ اُن غیر معاصر لوگوں کے لیے دلیل نہیں ہے جو اس کو صرف سنیں یا پڑھیں، مگر انھوں نے اس کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھا ہو۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے پیغمبروں کے درمیان اگر چہ درجے کے اعتبار سے فرق نہ تھا، لیکن پیغمبر اسلام ایک ایسے دور تاریخ میں آئے، جب کہ آپ کی دعوت اور آپ کی زندگی سے متعلق ہر چیز محفوظ (preserve) رہ سکتی تھی ۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ آپ کی نبوت ایک مسلسل نبوت بن گئی۔ ہر پیغمبر کو خدا کی طرف سے پیغمبری کے ساتھ دلیل بھی دی جاتی تھی جس کو قرآن میں ’’برہان‘‘ کہا گیا ہے۔ یہ دلیل پچھلے پیغمبروں کے لیے حسی معجزہ (physical miracle)

کی صورت میں ہوتی تھی، لیکن پیغمبر اسلام کے لیے یہ دلیل تاریخ کی صورت میں ہے، ایک ایسی استثنائی تاریخ جو کسی اور انسان کے ساتھ کبھی جمع نہیں ہوئی۔

Printed page