نبوت محمدی کا ثبوت
Al-Risala, October 2011, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت، دوسرے پیغمبروں کی طرح، یہ ہے کہ آپ کی زندگی ایک تاریخی استثنا (historical exception) کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی یہی استثنائی حیثیت ہے جس کو قرآن کی سورہ نمبر 17 میں ’مقام محمود‘ (praised state) بتایا گیا ہے (18:79)۔ مقام محمود سے مراد مقامِ اعتراف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو انسانوں کے درمیان اعترافِ کامل کا درجہ حاصل ہوگا۔ آپ کے گرد ایسی استثنائی تاریخ اکٹھا ہوگی کہ خود انسان کے اپنے مانے ہوئے معیار کے مطابق، آپ کی نبوت ایک مسلمہ نبوت بن جائے گی۔
قرآن میں ’مقام محمود‘ کی آیت سے مراد، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ کے بارے میں مشہور امریکی مصنف ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ۔ آپ تاریخ کے واحد شخص ہیں جو انتہائی حد تک کامیاب رہے، مذہبی سطح پر بھی اور دنیوی سطح پر بھی: He was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لوویسٹ پوائنٹ (lowest point) 610ء کے بعد آیا، جب کہ مکہ کی ایک غیر مسلم خاتون اُمِ جمیل نے آپ کے پاس آ کر آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: مُذَمَّماً أبَينا، یعنی تم ایک قابلِ مذمت شخص (condensed person) ہو، ہم تم کو ماننے سے انکار اس کے تقریباً ساڑھے تیرہ سو سال بعد 1978 میں آپ کی زندگی کا ہائیسٹ پوائنٹ (highest point) آیا، جب کہ امریکا کے ایک غیر مسلم اسکالر ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے 570 صفحے کی ایک کتاب (100 The) میں اعلان کیا کہ۔ محمد پوری انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے۔
ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سب سے زیادہ کامیاب انسان (supremely successful) کا لفظ استعمال کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پوری انسانی تاریخ میں ایک استثنا (exception) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہر لحاظ سے آپ تمام انسانوں کے درمیان کامل طور پر ایک منفرد حیثیت کے مالک ہیں۔