Al-Risala · October 2011

مستقبل کی تصدیق

Al-Risala, October 2011, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اول میں اترا۔ اُس وقت قرآن کی سورہ حم السجدہ میں یہ اعلان کیا گیا کہ ۔ عن قریب، ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی، یہاں تک کہ اُن پر کھل جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (41:53)۔

اِس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے خدا نے جس صداقت کا اعلان کیا ہے، وہ ایک ابدی صداقت ہے۔ بعد کو آنے والی تاریخی تبدیلیاں اُس کو رد نہیں کریں گی، بلکہ وہ اس کی تصدیق کرتی چلی جائیں گی۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ اعلان پوری طرح سچا ثابت ہوا۔ ظہورِ اسلام کے بعد کے زمانے میں مختلف قسم کی تبدیلیاں ہوئیں اور پھر علومِ سائنس کا دور آیا، جو گویا کہ تاریخ کا سب سے بڑا فکری انقلاب تھا۔ مگر بعد کو پیش آنے والے اِن انقلابات نے دِینِ محمدی کی جُوٹی یا کلی طور پر تردید نہیں کی، بعد کے زمانے میں پیش آنے والے تمام واقعات دِینِ محمدی کی صداقت کا ثبوت بنتے چلے گیے۔ اِس قسم کا استثنا (exception) لمبی تاریخ میں صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا۔ یہاں ہم اس تاریخی واقعے کے بعض پہلوؤں کا ذکر کریں گے۔

Printed page