Al-Risala · October 2011

دنیائے فانی کا نظریہ

Al-Risala, October 2011, pp. 20–23

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں واضح الفاظ میں موجودہ دنیا کے بارے میں یہ تصور دیا گیا تھا کہ یہ زمینی سیارہ جس پر انسان آباد ہے، اس کی ایک محدود عمر ہے۔ یہاں انسان اپنے لیے جنت (paradise) کی تعمیر نہیں

یہ دنیا عارضی طور پر امتحان کے لیے بنی ہے اور اس کے بعد یہاں سے اُن تمام چیزوں کا خاتمہ کر دیا جائے گا جس کی مدد سے انسان یہاں زندہ رہتا ہے اور اپنے لیے اپنی مطلوب دنیا بنانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ یہاں اس سلسلے میں دو آیتیں نقل کی جارہی ہیں:

1- يوم تبدّل الأرض غير الأرض والسموات، وبرزوا لله الواحد القهّار (14:48) یعنی جس دن یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔ ایک زبردست اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔

2- إنّا جعلنا ما على الأرض زينة لها لنبلوهم أيُّهم أحسن عملاً۔ لجاعلون ما عليها صعيداً جُرُزاً (8-7 :18) یعنی جو کچھ زمین پر ہے، اس کو ہم نے زمین کی رونق بنایا ہے، تاکہ ہم لوگوں کو جانچیں کہ اُن میں کون اچھا عمل کرنے والا ہے۔ اور ہم زمین کی تمام چیزوں کو ایک صاف میدان بنا دیں گے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کے مطابق، موجودہ سیارہ زمین پر جو زندگی بخش حالات ہیں، وہ حتمی طور پر ختم ہونے والے ہیں اور مسلسل ان کا کاؤنٹ ڈاؤن ہورہا ہے۔ لیکن بڑے بڑے انسانی دماغوں نے اس کے برعکس نظریہ قائم کیا۔ سُقراط اور افلاطون اور ارسطو سے لے کر موجودہ زمانے کے رہنماؤں تک ہر ایک نے یہ نظریہ قائم کیا کہ وہ انسانیت کے مستقبل کو آئیڈیل دور کی طرف لے جارہے آئیڈیل اسٹیٹ، آئیڈیل سماج اور آئیڈیل نظام، وغیرہ۔ اس معاملے میں لوگوں کا واہمہ (obsession) اتنا بڑھا ہوا تھا کہ بار بار برعکس نتیجہ نکلنے کے باوجود انہوں نے اپنی کوشش جاری رکھی۔ چارلس ڈارون (وفات: 1882) کا عضویاتی ارتقا (organic evolution) کا نظریہ سامنے آیا تو اس کے وسیع تر انطباق کے تحت یہ یقین کر لیا گیا کہ انسان کی تمدنی تاریخ مسلسل بہتر سے زیادہ بہتر کی طرف بڑھ رہی ہے۔ صنعتی سائنس کے ظہور کے بعد اس نظریے کو مزید تقویت ملی اور یہ یقین کر لیا گیا کہ موجودہ دنیا کو جنتی دنیا میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ الون ٹافلر کی کتاب فیوچر شاک (Future Shock) پہلی بار 1970 میں چھپی۔

کتاب میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ دنیا ترقی کر کے انڈسٹریل ایج (industrial age) میں پہنچی تھی۔ مزید ترقی کر کے سپر انڈسٹریل ایج (super industrial age) کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہی امریکا کو اسپیس ٹیکنالوجی میں کچھ ترقی ہوئی تو اُس نے اعلان کر دیا کہ اب ہم زمینی تہذیب سے آگے بڑھ کر خلائی تہذیب (space civilization) کے دور تک پہنچ رہے ہیں۔ اب ہم زمین سے چاند تک سفر کریں اور وہاں سے مریخ (Mars) تک پہنچ جائیں گے:

We want to build a space civilization for tomorrow from where humans can travel to the Moon and from there to Mars (The Times of India, September 26, 2007, p. 21). یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ ہماری زمین پر وہ اختتامی دور شروع ہو گیا جس کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا اقوام متحدہ (UNO) موجودہ دنیا کا سب سے بڑا عالمی ادارہ ہے۔ اقوام متحدہ کے تحت، ایک انٹرنیشنل پینل بنایا گیا ۔ اس پینل میں ڈھائی ہزار سائنس داں شامل کیے گئے۔ ان سائنس دانوں کا تعلق دنیا کے ایک سو تیس (130) ملکوں سے تھا۔ یہ پینل موسمیاتی تبدیلی پر ریسرچ کے لیے تھا۔ پینل نے اپنی ریسرچ مکمل کر کے اس کی تفصیلی رپورٹ اقوام متحدہ کے حوالے کر دی ہے۔ یہ کسی ایک کانفرنس کی بات نہیں۔ آج کل تقریبا ہر روز میڈیا میں اس قسم کی خبریں آ رہی ہیں۔ تمام دنیا کے سائنس داں مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ زمین پر زندگی کے اسباب کا مسلسل خاتمہ ہو رہا ہے۔ کئی انواع حیات (species) اب تک ناموافق موسم کی وجہ سے ختم ہو چکی ہیں۔ اس سلسلے کی ایک رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (3 جنوری 2007) میں شائع ہوئی۔ عنوان یہ تھا—انتباہی نشانیاں (Warning Signs)- اس سلسلے کا ایک اور حوالہ یہ ہے۔ مشہور سائنس داں جیمس لولاک (James Lovelock) نے جدید سائنسی معلومات کی روشنی میں کہا ہے کہ 2050ء تک سطح ارض کا بڑا حصہ خشک ہو چکا ہوگا۔ بیش تر زندگیاں ختم ہو جائیں گی۔ ہم ایک ایسے انجام کے کنارے پہنچ چکے ہیں، جب کہ ایک ایک کر کے لوگ مرنے لگیں گے، یہاں تک کہ سارے لوگ ختم ہو جائیں گے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہوگا جس کو

اس سے پہلے انسان نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ جو کچھ ہونے والا ہے، اُس میں اگر بیس فی صد آدمی بھی زندہ بچ جائیں تو وہ بہت خوش قسمت انسان ہوں گے :

We are on the edge of the greatest die-off humanity has ever seen. We will be lucky if 20% of us survive what is coming. (The Times of India, May 18, 2007, p. 22)

گلوبل وارمنگ (global warming) کا موضوع موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ برننگ ٹاپک (burning topic) بن چکا ہے۔ اس موضوع پر کثرت سے رپورٹیں اور مضامین اور کتابیں شائع ہورہی ہیں۔ کسی کو مزید تفصیل جاننا ہو تو وہ انٹرنیٹ کے ذریعے بہ آسانی یہ تفصیلات جان سکتا ہے۔

Printed page