نظریہ امن
Al-Risala, October 2011, pp. 24–28
By Maulana Wahiduddin Khan
امن کے بارے میں انسان ہمیشہ سوچتا رہا ہے۔ قدیم زمانے میں امن ایک قسم کا انتظامی معاملہ سمجھا جاتا تھا، یعنی امن ایک ایسی چیز تھی جس کو حاکمانہ اختیار کے تحت قائم کیا جاتا ہے۔ اس نظریے کے تحت ارباب اختیار نے امن قائم کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً پیکس رومانا (Pax Romana)، پیکس برٹانکا (Pax Britanica)، پیکس امریکا نا(Pax Americana)، وغیرہ۔ مگر اس قسم کا سیاسی امن صرف جزئی طور پر کسی سماج کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ اہلِ علم کے درمیان مطلوب امن کا درجہ حاصل نہ کر سکا۔ بیسویں صدی کے آغاز سے امن پر مبنی ایک باقاعدہ نظریہ (ideology) وجود میں آیا۔ عام طور پر پیسی فزم (pacifism) کہا جاتا ہے۔ پیسی فزم کے نظریے کے تحت موجودہ زمانے میں
متعدد مفکرین پیدا ہوئے، مثلاً سموئل کانٹ (Samuel Cant)، مارکس ار پلیس (Marcus Aurelius) اور مہاتما گاندھی وغیرہ۔ اس نظریے کی حمایت میں بہت سے مقالات اور کتابیں شائع ہوئیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں اس موضوع پر تقریباً دس صفحے کا ایک مقالہ شامل ہے۔ اس موضوع پر شائع ہونے والی کتابوں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ یہاں ہم صرف تین کتابوں کا نام درج کرتے ہیں: 1. Raymon Raymond Aron, Peace and War, 1966 2. E.L. Alen, Francis E. Pollard, The Case for Pacifism and Conscientious Objection, 1946 3. Aldous Huxley, An encyclopaedia of Pacifism, 1937 لیکن امن کے رہنما اور مفکرین کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہ تمام افراد جس امن تک پہنچے، وہ صرف ایک منفی امن (negative peace) تھا۔ جہاں تک مثبت امن (positive peace) کا تعلق ہے، وہاں تک کوئی بھی شخص نہ پہنچ سکا۔ امن کے تمام مفکرین جس امن کی بات کرتے ہیں، وہ جنگ اور تشدد کے مقابلے میں ہوتی ہے۔ چناں چہ امن کی تعریف جنگ اور تشدد کی غیر موجودگی (absence of war and violence) سے کی جاتی ہے۔ اسی تصور کی بنا پر یہ تمام افراد مفروضہ دشمنان امن کے خلاف اقدام کرتے رہے۔ اُن کے نزدیک ان دشمن طاقتوں کے خاتمے سے دنیا میں امن قائم ہوتا تھا۔
اس نظریۂ امن میں امن کو مثبت قدر (positive value) کا مقام حاصل نہ ہو سکا ۔ نظریۂ امن میں امن کو صرف ایک طریقہ کار (method) کا درجہ حاصل ہوا، نہ کہ وسیع تر معنوں میں ایک نظریۂ حیات (ideology) کا درجہ۔
پیسی فزم (pacifism) کے معاملے میں مہاتما گاندھی کا نام نمایاں طور پر شامل ہے۔ لیکن ان کا نظریہ امن بھی ایک منفی نظریہ امن کی حیثیت رکھتا ہے۔ نئی دہلی میں ایک خصوصی سیمنار ہوا۔ کی مکمل روداد نئی دہلی کے انگریزی اخبار دی پائی نیر (26 جنوری 1997) میں شائع ہوئی ۔ میں راقم الحروف کے علاوہ حسب ذیل افراد شریک ہوئے— رام چندر گاندھی، رویندر کمار، سبراتا مکھرجی، کے آرم لکانی۔ اس سیمنار کا موضوع یہ تھا— کیا گاندھی آج کامیاب ہوتے؟ Could Gandhi have succeeded today?
میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ گاندھی ماضی میں بھی کامیاب نہیں ہوئے، پھر وہ آج کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ گاندھی کا مقصد ایک پرامن انقلاب لانا تھا، مگر اپنے پیش نظر مقصد کے مطابق، وہ کوئی پر امن انقلاب نہ لاسکے۔ انھوں نے جو کچھ کیا، وہ انقلاب نہ تھا، بلکہ محدود معنوں میں صرف حکم رانوں کی تبدیلی (coup) تھا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک ناگہانی انقلاب (coup) تھا، نہ کہ کوئی حقیقی انقلاب۔ میری یہ تقریر لفظ بہ لفظ مذکورہ اخبار میں چھپی۔ تقریر کے ایک جملے کو لے کر اخبار نے اُس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا تھا: Gandhi presided over a non-violent coup, he didn’t usher in a revolution. یہی معاملہ ہر اُس رہنما اور مفکر کا ہوا جو امن (peace) کے نام پر کام کرنے کے لیے اٹھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسانی زندگی میں پرامن واقعے کو ظہور میں لانے کے لیے ایک پر امن آئیڈیالوجی (peaceful ideology) درکار ہے۔ چوں کہ کوئی شخص پر امن آئیڈیا لوجی کو دریافت نہ کر سکا، اس لیے وہ پر امن زندگی کی تشکیل بھی نہ کر سکا۔
رہنماؤں کی اس ناکامی کا مشترک سبب یہ ہے کہ ہر ایک امن کو سیاسی اقتدار کے ساتھ جوڑے ہوئے تھا، ہر ایک نے وقت کے سیاسی اقتدار کو امن کی راہ میں رکاوٹ سمجھا، ہر ایک اس طرح سوچتا رہا کہ اگر امن کو حاصل کرنا ہے تو سب سے پہلے سیاسی اقتدار کی رکاوٹ ختم کرنا ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امن کی ہر تحریک کے سیاسی اقتدار سے ٹکرا گئی۔ فطری طور پر ارباب اقتدار نے بھی اپنی طاقت کو ان تحریکوں کے خلاف استعمال کیا۔ اس طرح دونوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہو گیا۔ امن کے نام پر آخر میں جو چیز قائم ہوئی، وہ صرف بد امنی اور انار کی (anarchy) تھی ۔ اس کی ایک مثال 1947 کے بعد بننے والے’’گاندھیائی انڈیا‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
تاریخ کی ان تمام مثالوں کے برعکس، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیا فارمولا دریافت اس فارمولے کا علم آپ کو خدا کی طرف سے دیا گیا تھا۔ اسی لیے قرآن میں اُس کی بابت یہ الفاظ
آئے ہیں: علم ما لم تعلموا (48:27) یعنی خدا نے وہ بات جانی، جس سے انسان بے خبر تھا۔ امن کا فارمولا امن کا یہ فارمولا جو خدا نے اپنے علم کے تحت بتایا، وہ کیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ ہر مسئلہ کے ساتھ مواقع موجود رہتے ہیں۔ اس لیے تم مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو: Ignore the problem, and avail the opportunities. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی رہنمائی سے اس فارمولے کو سمجھا اور اس کو حدیبیہ ایگری مینٹ (628ء) کی شکل میں استعمال کیا۔ حدیبیہ ایگری مینٹ گویا کہ امن فارمولے کا ایک کامیاب مظاہرہ (demonstration) تھا۔ (حدیبیہ ایگری مینٹ کی تفصیلات میری تحریروں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ مثلاً ’’دعوہ ایکٹوزم‘‘، الرسالہ، فروری 2007)۔
امن کا یہ فارمولا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کبھی کوئی شخص دریافت نہ کرسکا۔ نے اگرچہ اپنی زندگی میں اس فارمولے کو نہایت کامیاب طور پر استعمال کیا تھا، لیکن میرے علم کے مطابق، کوئی بھی شخص اس کو حقیقی طور پر سمجھ نہ سکا، حتی کہ خود مسلمان بھی اس فارمولے کو سمجھنے سے مکمل طور پر عاجز رہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان ہر جگہ مسائل (problems) سے لڑ رہے ہیں۔ حقیقت کو جان نہ سکے کہ مسائل کے باوجود اُن کے لیے نہایت اعلیٰ مواقع موجود ہیں۔ اُن کو چاہیے تھا کہ وہ مسائل کو نظر انداز کرتے اور مواقع (opportunities) کو استعمال کرتے، لیکن اپنی بے شعوری کی بنا پر وہ اس حکمت کو دریافت کرنے میں ناکام رہے۔
پیغمبر اسلام کے اس امن فارمولے نے تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ اس نئے دور کو ایک لفظ میں ڈی سنٹرلائزیشن آف پولیٹکل پاور (decentralization of political power) کہا جاسکتا ہے۔ اس بات کو قرآن میں وأخرى تحبونها (13 کے الفاظ میں بیان کیا گیا اس قرآنی آیت کے مطابق، سیاسی اقتدار صرف ایک ثانوی چیز ہے۔ اولین چیزیں وہ ہیں جو سیاسی اقتدار کے باہر پائی جاتی ہیں۔ موجودہ زمانے میں انسٹی ٹیوشن (institution) کا تصور اسی
تاریخی پراسس (historical process) کا اگلا مرحلہ ہے۔
موجودہ زمانے میں ایسا ہوا ہے کہ سیاسی اقتدار کے باہر مختلف مقاصد کے لیے انسٹی ٹیوشن بنائے جاتے ہیں۔ مثلاً تعلیم کے لیے، صنعت و تجارت کے لیے، سماجی فلاح کے لیے اور مشنری ورک کے لیے، وغیرہ۔ ان اداروں کے ذریعے اتنے بڑے بڑے کام لیے جارہے ہیں کہ لوگوں نے حکومتی اقتدار (political power) کے بغیر مختلف عنوانات سے اپنے ایمپائر بنا رکھے ہیں۔ تبدیلی کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ماضی کے برعکس، حکومت کا دائرہ سمٹ کر اب صرف انتظامیہ (administration) تک محدود ہوگیا ہے۔ یہ تاریخ کی ایک عظیم تبدیلی ہے، مگر اس تبدیلی کا آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے کیا تھا۔
اس تبدیلی نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر خالص پر امن طریق کار کے ذریعے بہت بڑے کام کیے جاسکیں۔ باشعور قوموں نے اس امکان سے فائدہ اٹھا کر عملاً ایسا کر رکھا ہے۔ چناں چہ ان لوگوں نے حکومت سے باہر رہتے ہوئے اور حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر انتہائی اعلیٰ پیمانے پر اپنا میڈیا ایمپائر اور ایجوکیشنل ایمپائر اور انڈسٹریل ایمپائر اور مشنری ایمپائر بنا لیا مگر جہاں تک اس امکان کی دریافت کا تعلق ہے، وہ پہلی بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی رہنمائی کے تحت حاصل ہوئی۔ اس استثنائی معرفت کی اس کے سوا کوئی اور توجیہہ فہمیں کی جاسکتی کہ یہ مانا جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے۔