ایک غلط نہی
Al-Risala, October 2011, pp. 28–38
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آج کی دنیا میں بہت سے دوسرے لوگ خدا کے پیغمبر کی حیثیت سے مانے جاتے ہیں۔ مثلاً ہندو لوگ رام اور کرشن کو پیغمبر کا درجہ دیتے ہیں۔ اسی طرح مسیحی لوگ حضرت مسیح کو خدا کی طرف سے بھیجا ہوا خصوصی رہنما سمجھتے ہیں۔ مگر یہ صرف ایک غلط فہمی ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
جہاں تک رام اور کرشن کا تعلق ہے، اس بحث کے ذیل میں اُن کو زیر غور لانا ممکن نہیں۔
سبب یہ ہے کہ رام اور کرشن ایک افسانوی شخصیت (mythological figure) کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کو تاریخی شخصیت (historical figure) کا درجہ حاصل نہیں۔ انڈیا کے کسی بھی مستند تاریخی ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رام اور کرشن کوئی حقیقی شخصیت تھے۔ رام اور کرشن کا کوئی ریفرنس نہ انڈیا کی تاریخ میں پایا جاتا ہے اور نہ عالمی تاریخ میں۔
مثال کے طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہم خالص تاریخی ریکارڈ کی بنیاد پر یہ جانتے ہیں کہ وہ 570ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 610ء میں مکہ میں اپنی پیغمبری کا اعلان کیا اور اپنے مشن کا آغاز کیا۔ 622ء میں آپ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گیے اور وہاں انھوں نے اسلام کی پہلی اسٹیٹ (city state) قائم کی۔ 632ء میں آپ کی وفات مدینہ میں ہوئی اور وہیں پر آپ دفن کیے گیے۔ کی قبر اب بھی مدینہ میں موجود ہے۔ اس قسم کی تاریخی معلومات (historical data) نہ رام کے بارے میں دست یاب ہیں اور نہ کرشن کے بارے میں۔
یہ حقیقت اتنی زیادہ واضح ہے کہ خود ہندو اسکالر اس کو مانتے ہیں۔ ہندو مصنفین نے اس موضوع پر مقالات اور کتابوں کی صورت میں بہت زیادہ لکھا ہے۔ یہاں میں صرف ایک تازہ مثال نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کے شمارہ 16 ستمبر 2007 میں ایک ہندو اسکالر ڈاکٹر ڈی این جھا کا ایک مفصل انٹرویو چھپا ہے۔ اس کے انٹرویو مستر کمل جیت سنگھ ہیں۔ اس انٹرویو کا پہلا سوال وجواب یہ ہے:
D N Jha, professor of history at Delhi university, said what had been captured by NASA’s cameras was a geological formation. The issue had “more to do with geology than history”, since the claim was 1.75 million years old. “To link that with Rama or Ramayana is ridiculous.” Linking just anything found with Ramayana or Mahabharata may be mythology, but it certainly isn’t history,” said Jha. تحریکوں کی تاریخ لارڈ ایکٹن (John Emerich Edward Dalberg Acton) مشہور مغربی مفکر ہے۔
وہ 1834ء میں پیدا ہوا اور 1902ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے سیاست اور حکومت کی تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ اپنے مطالعے کی بنیاد پر اس نے سیاسی اقتدار (political power) کے بارے میں کہا کہ ــــ اقتدار بگاڑتا ہے، اور کامل اقتدار بالکل بگاڑ دیتا ہے:
Power corrupts, and absolute power corrupts absolutely. یہ تبصرہ بالکل درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کو جب بھی اقتدار ملتا ہے تو وہ بگڑ جاتا دوسروں کی سیاسی بُرائی بتانے والے، اقتدار پاتے ہی خود بھی اسی قسم کی برائی میں مبتلا ہو جاتے اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کے اندر اپنی بُرائی کا احساس نہایت گہرے طور پر موجود ہے۔ اس احساس کو غذا دیتا ہے، وہ اس کو ختم نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی اقتدار تک پہنچتے ہی تمام لوگ بگڑ اس سلسلے میں تاریخ کی چند مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں:
تحریکوں کی تاریخ میں بہت سے مشہور لوگوں کے نام آتے ہیں۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ ان لوگوں کو سیاسی ہنگامہ کرنے والے تو بہت سے لوگ ملے، لیکن ان میں سے کسی کو بھی قابل اعتماد ساتھی نہ مل سکے۔ مشہور فلسفی ارسطو (Aristotle) اس معاملے کی ایک تاریخی مثال ہے۔ وہ یونان میں 384 قبل مسیح میں پیدا ہوا اور 322 قبل مسیح میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ شاہ یونان الیگزنڈر دی گریٹ (Alexander the Great) کا استاد تھا۔ وہ آئیڈیل اسٹیٹ اور فلا سفر کنگ میں یقین رکھتا تھا۔ اس نے اس مقصد کے لیے الیگزنڈر کی تعلیم وتربیت اُس وقت کی، جب کہ وہ ابھی شہزادہ تھا۔ ارسطو کو یقین تھا کہ الیگزنڈر ایک فلاسفر کنگ بنے گا اور اس کے خوابوں کی آئیڈیل اسٹیٹ قائم کرے گا۔ لیکن بڑا ہونے کے بعد جب الیگزنڈر 336 قبل مسیح میں باقاعدہ بادشاہ بنا تو اس نے ارسطو کے راستے کو چھوڑ دیا اور عالمی فتوحات کے لیے نکل پڑا۔ اس کا سیاسی خواب ابھی پورا نہیں ہوا تھا کہ وہ صرف 33 سال کی عمر میں بیمار ہو کر بابل (عراق) میں مر گیا۔
یہی معاملہ کارل مارکس (Karl Marx) کا ہے۔ وہ 1818ء میں جرمنی میں پیدا ہوا اور 1883ء میں لندن میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کے افکار کی بنیاد پر بہت بڑی کمیونسٹ تحریک اٹھی۔
1917ء میں کمیونسٹ پارٹی روس میں حکومت کرنے میں کامیاب ہو گئی، لیکن مارکس کے تمام ساتھی اصل مارکسی راستے سے ہٹ گئے۔ ایک کمیونسٹ مسٹر میلُوون جیلاس (Milovan Djilas) کے الفاظ میں، طبقاتی فرق کو ختم کرنے کے نام پر کمیونسٹ گروہ خود ایک نیا طبقہ (new class) بن گیا۔ ٹراٹسکی (Leon Trotsky) روس میں 1879ء میں پیدا ہوا اور 1940ء میں میکسیکو سٹی میں کو قتل کر دیا گیا۔ ٹراٹسکی کمیونسٹ پارٹی میں لینن کے بعد نمبر دو کا لیڈر تھا، مگر 1917ء کے بعد اُس نے دیکھا کہ کمیونسٹ پارٹی کے لوگ سیاسی بگاڑ کا شکار ہو گئے۔ اس نے انقلاب سے غداری (Revolution Betrayed) کے نام سے ایک کتاب لکھی جو 1937ء میں چھپی۔ اس کے بعد خود روس کے کمیونسٹ لیڈروں نے اس کو ہلاک کر دیا۔
3- یہی منظر خود انڈیا میں نظر آتا ہے۔ مہاتما گاندھی نے زبردست سیاسی تحریک چلائی۔ ساتھ ایک بھیڑ اکٹھا ہو گئی، لیکن 1947ء میں آزادی کے بعد ان کی پارٹی کے تمام لوگ مہاتما گاندھی کے راستے سے ہٹ گئے ۔ یہ منظر دیکھ کر خود مہاتما گاندھی نے 1947ء کے بعد اپنی پارٹی کے لوگوں کے بارے میں کہا تھا اب میری کون سنے گا۔ مہاتما گاندھی کے اس جملے کو لے کر ایک کتاب ہندی میں لکھی اس کتاب کا ٹائٹل یہی ہے کہ اب میری کون سنے گا۔ 15 اگست 1947 کو انڈیا میں سیاسی آزادی اس کے بعد 30 جنوری 1948ء کو دہلی میں مہاتما گاندھی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ہیرؤوں کی جماعت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جو استثنائی واقعات جمع ہوئے، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اپنے ساتھیوں کی ایک ایسی ٹیم بنانے میں کامیاب ہوئے، جیسی ٹیم پوری تاریخ میں کوئی نہ اس واقعے کا اعتراف مورخین نے واضح الفاظ میں کیا ہے۔ مثلاً مشہور برطانی مستشرق ڈیوڈ سموئیل مارگولیتھ (David Samuel Margoliouth) 1885 میں لندن میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں عربک ڈیپارٹمنٹ کا پروفیسر تھا۔ اْس نے عرب تاریخ اور اسلامی تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ برٹانیکا نے اُس کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں اُس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کو
اسلامی موضوعات پر بہت سے عرب علماء سے بھی زیادہ واقفیت حاصل تھی:
اسلام اور عرب تاریخ کے موضوع پر اس کی کئی کتابیں ہیں۔ اس کی ایک کتاب وہ ہے جو 1905 میں چھپی۔ یہ کتاب اسلام کے ظہور کے موضوع پر ہے اور اس کا نام یہ ہے: اِس کتاب میں پروفیسر مارگولیتھ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو ہیرؤوں کی ایک قوم (a nation of heroes) کا نام دیا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اصحاب رسول کا گروہ ایک ایسا گروہ تھا، جیسا گروہ تاریخ میں کسی اور شخص کے گرد اکٹھا نہیں ہوا۔
اِسی طرح فلپ ہِٹی (Philip K. Hitti) مشہور اسکالر ہیں۔ وہ 1886 میں لبنان میں پیدا ہوئے اور امریکا میں 1978 میں ان کی وفات ہوئی۔ وہ عربی زبان اور اسلامی علوم کے ماہر سمجھے وہ امریکا کی کئی یونیورسٹیوں میں عربی زبان اور مشرقی علوم کے پروفیسر رہے ہیں۔ اِن کی یہ کتاب پہلی بار 1937 میں چھپی۔ اس کتاب میں انھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب (companions) کے تذکرے کے تحت لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد ایسا معلوم ہوا جیسے عرب کی بنجر زمین جادو کے ذریعے ''ہیرؤوں کی نرسری‘‘ میں تبدیل کردی گئی ہو، ایسے ہیرو جن کے مثل، تعداد یا نوعیت میں، کہیں اور پانا سخت مشکل ہے: مستقبل کی دنیا موجودہ زمانے میں دو مختلف آئیڈیالوجی ابھری۔ سیکولر آئیڈیالوجی اور مذہبی آئیڈیالوجی۔
سیکولر آئیڈیالوجی سے مراد وہ آئیڈیالوجی ہے جو خالص انسانی عقل (reason) کی بنیاد پر بنائی گئی اس کے مقابلے میں، مذہبی آئیڈیالوجی وہ ہے جو پیغمبر کی رہنمائی کے تحت بنی۔ موجودہ زمانے کا یہ ایک عجیب ظاہر ہ ہے کہ سیکولر آئیڈیالوجی اب اپنی ناکامی کے آخری دور میں پہنچ چکی ہے۔ برعکس، تمام قرائن (clues) بتا رہے ہیں کہ مذہبی آئیڈیالوجی نئی صبح کی مانند انسان کے اوپر طلوع ہونے والی ہے، بلکہ وہ طلوع ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
جدید مادی ترقیوں کے بعد سیکولر مفکرین نے یہ یقین کر لیا کہ بہت جلد ہمارے سیارہ زمین (planet earth) پر وہ بہتر دنیا بننے والی ہے، جس کا خواب ہزاروں سال سے انسان دیکھتا رہا ہے۔ اس آئیڈیالوجی کی ایک نمائندہ کتاب فیوچر شاک (Future Shock) ہے، جس کو اُس کے مصنف الون ٹا فلر (Alvin Toffler) نے پہلی بار 1970 میں شائع کیا۔ یہ کتاب شائع ہوتے ہی بیسٹ سیلر اس کتاب میں مصنف نے تیقن کے ساتھ یہ پیشین گوئی کی تھی کہ دنیا تیزی کے ساتھ انڈسٹریل ایج سے ترقی کر کے سپر انڈسٹریل ایج میں داخل ہونے والی ہے۔ یہ سویلائزیشن کا اعلیٰ ترقی یافتہ مرحلہ ہوگا، جب کہ انسان کی تمام مادی خواہشیں اپنا مکمل فلفل مینٹ (fulfilment) پالیں۔ مگر اکیسویں صدی کا آغاز اس قسم کے تمام اندازوں کے خاتمے کے ہم معنی بن گیا۔ کے ساتھ وہ ظاہر ہ پیدا ہوا جس کو گلوبل وارمنگ (global warming) کہا جاتا ہے۔ سے پیدا ہونے والی کثافت نے سیارہ زمین پر ایسے حالات پیدا کئے، جب کہ یہ دنیا سرے سے انسان کے لیے قابل رہائش (habitable) ہی نہیں رہے گی۔ آج کل میڈیا میں مسلسل یہ خبریں آ رہی ہیں کہ تمام دنیا کے سائنس دانوں نے گہری ریسرچ کے بعد یہ پایا ہے کہ ہماری زمین میں موسمیاتی تبدیلی (climatic change) اس خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب وہ غیر منقلب (irreversible) ہو چکی ہے۔ یہ سائنس کی زبان میں قیامت کی پیشین گوئی ہے، یعنی زمین پر موجودہ حالات کا خاتمہ اور ایک نئی تاریخ کا آغاز۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس (18 نومبر 2007) نے گلوبل وارمنگ کے موضوع پر ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ کے عنوان کے لئے
اُس نے بامعنی طور پر اُن الفاظ کا انتخاب کیا تھا۔ قیامت اب زیادہ دور نہیں: Doomsday not Far یہ صورتِ حال ایک طرف سیکولر آئیڈیالوجی کی تنسیخ کر رہی ہے، اور دوسری طرف وہ ہم کو یہ قرینہ (clue) دے رہی ہے کہ اس معاملے میں مذہبی آئیڈیالوجی زیادہ درست اور مبنی بر حقیقت ہے۔ مذہبی آئیڈیالوجی جو پیغمبروں کے ذریعے معلوم ہوئی، وہ یہ ہے کہ موجودہ سیارۂ زمین اس لیے بنایا ہی نہیں گیا کہ یہاں انسان اپنے لیے مادی جنت کی تعمیر کر سکے۔ یہاں کے ناقص اسباب قطعیت کے ساتھ کسی مفروضہ مادی جنت کی تعمیر میں مانع ہیں۔
اس معاملے میں درست اور مطابق واقعہ بات یہ ہے کہ موجودہ دنیا کے تمام اسباب، امتحانی پرچے (test papers) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں جو چیزیں انسان کو ملی ہیں، وہ بطور انعام نہیں ہیں۔ اگر یہ چیزیں بطورِ انعام ہوتیں، تو وہ اپنی ذات میں کامل ہوتیں۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، یہاں کی ہر چیز ناقص ہے اور ان چیزوں کا ناقص ہونا یہ بتاتا ہے کہ یہی نظریہ درست ہے کہ یہ چیزیں امتحانی پرچے کی حیثیت رکھتی ہیں، وہ انسان کو انعام کے طور پر نہیں دی گئیں۔ یہ قرینہ (clue) یہ ثابت کرتا ہے کہ اس معاملے میں پیغمبرانہ نظریہ ہی صحیح نظریہ ہے، یعنی یہ کہ موجودہ دنیا غیر معیاری دنیا (imperfect world) ہے۔ اس کے بعد ایک اور دنیا بنے گی جو اس دنیا کا معیاری ورژن (perfect version) ہوگا۔ موت کے بعد بننے والی اس معیاری دنیا میں وہ لوگ جگہ پائیں گے جو موجودہ امتحانی دنیا میں اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کر چکے ہوں۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تمام سیکولر فلسفی اور مفکر اور رہ نما ہزاروں سال سے یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ موجودہ دنیا میں منصفانہ سماج (just society) بنائیں، مگر ساری کوشش کے باوجود اُنھیں کامیابی نہ ہوسکی۔ اس کے برعکس، جو ہوا وہ یہ کہ ساری دنیا میں انارکی اور کرپشن اور استحصال اور بددیانتی پھیل گئی۔ موجودہ ترقی یافتہ دور میں اس معاملے میں مزید اضافہ ہوا۔ حتیٰ کہ اب تمام قرائن کے مطابق، یہ ناممکن ہو چکا ہے کہ منصفانہ سوسائٹی کی تعمیر کے مقصد کو حاصل کیا جا سکے۔
جدید ترقیوں نے لوگوں کے بگاڑ میں صرف اضافہ کیا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
اب صورت حال یہ ہے کہ انسان کا ضمیر ایک منصفانہ سماج چاہتا ہے۔ یہ ضمیر جس طرح پہلے، لوگوں کے اندر موجود تھا، اُسی طرح وہ آج بھی پایا جاتا ہے۔ اب موجودہ حالات میں منصفانہ سماج کا قیام عملاً ناممکن ہو چکا ہے۔ مثلاً موجودہ عدالتی نظام اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ اُس سے اب انصاف کی امید ہی نہیں کی جاسکتی۔ قوانین کی بھر مار کے باوجود صرف عدالت کی بے انصافیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ معاملہ دوبارہ ایک قرینہ (clue) ہے جو پیغمبرانہ تصور کی تائید کرتا ہے، یعنی یہ کہ مجرموں کو سزا دینا اور سچے انسانوں کو اُن کے عمل کا انعام دینا، موجودہ محدود دنیا میں ممکن ہی نہیں۔ انسانی ضمیر کے اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ایک اور دنیا درکار ہے، ایک ایسی دنیا جہاں خود خدا ظاہر ہو کر سب کا حساب لے اور انصاف کو قائم کرے۔ یہ صورتِ حال اِس پیغمبرانہ تصور کی تائید کرتی ہے کہ موت کے بعد ایک یومِ الحساب (day of judgment) آنے والا ہے۔ اُس وقت خدائی طاقت کے ذریعے منصفانہ سماج کا وہ قیام ممکن ہو جائے گا، جو انسانی طاقت کے ذریعے موجودہ دنیا میں ممکن نہیں ہوا تھا۔ پیغمبرانہ آئیڈیالوجی کے مطابق، انسانی زندگی کے دو دور ہیں ــــ قبل از موت دورِ حیات، اور بعد از موت دورِ حیات۔ اب یہ آخری طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ قبل از موت دورِ حیات اپنی محدودیتوں کی وجہ سے اِس کامل دنیا کی تعمیر کے لیے نا کافی ہے جو انسان کا ضمیر چاہتا ہے۔ یہ مطلوب دنیا بلا شبہ بنے گی، لیکن وہ موت کے بعد کے وسیع تر دورِ حیات ہی میں بن سکتی ہے۔ یہ مطلوب دنیا ایک زیر تعمیر دنیا اب وہ دن زیادہ دور نہیں، جب کہ یہ بننے والی مطلوب دنیا مکمل ہو کر ہمارے سامنے آجائے۔ قرآن میں پچیس پیغمبروں کا ذکر ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی۔ نبوت کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک ہر زمانے میں جاری رہا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ قرآن کے مطابق، آپ خدا کے رسول بھی تھے اور نبیوں کے خاتم بھی۔
پیغمبروں کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام پیغمبر مشترک طور پر توحید کا پیغام لے کر آئے، لیکن پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں یہ پیغام زیادہ تر فکری مرحلے میں رہا، وہ عملی انقلاب کے درجے تک نہیں پہنچا۔ پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ آپ کو اپنے اصحاب کی صورت میں ایک مضبوط ٹیم مل گئی۔ اس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ توحید کی دعوت کو فکری مرحلے سے آگے بڑھاکر عملی انقلاب کے درجے تک پہنچا دیا جائے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے زمانے میں یہ انقلاب عملی طور پر پیش آیا اور پھر وہ تاریخِ بشری کا ایک معلوم اور مسلّم حصّہ بن گیا۔ پیغمبر آخرالزمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اتنی زیادہ واضح ہے کہ وہ صرف آپ کے پیرووں کے ایک ’’روایتی عقیدہ‘‘ کی حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ وہ ایک مسلمہ تاریخی واقعہ ہے۔ پیغمبر آخرالزمان سے پہلے جو انبیا آئے، اُن کی زندگی مدوّن تاریخ کا جُز نہ بن سکی، مگر پیغمبر اسلام کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ آپ کی حیثیت ایک مسلّم تاریخی پیغمبر کی ہے، آپ کی نبوت پورے معنوں میں ایک ثابت شدہ نبوت انسانی زندگی کے جس پہلو کو بھی دیکھا جائے، اسی میں پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی ابدی تعلیم کے اثرات نمایاں طور پر دکھائی دیں گے۔ وہ تمام بہترین روایات اور وہ تمام اعلیٰ قدریں جن کو آج اہمیت دی جاتی ہے، وہ سب پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے عظیم انقلاب کے براہِ راست نتائج ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہ تاریخ کے سب سے بڑے انسان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انسان کامل بنا کر انسانی نسل پر اپنا سب سے بڑا احسان فرمایا ہے۔ پیغمبر آخرالزمان کی شکل میں تاریخ میں ایک ایسا بلند ترین مینار کھڑا کر دیا ہے کہ آدمی جس طرف بھی نظر اُٹھائے، وہ آپ کو دیکھ لے۔ جب وہ اپنے رہنما کی تلاش میں نکلے تو اُس کی نظر سب سے پہلے آپ پر پڑےـ جب وہ حق کا راستہ جاننا چاہے تو آپ کا روشن اور بلند و بالا وجود اِس کو سب سے پہلے اپنی طرف متوجہ کرلے۔ آپ ساری انسانیت کے لیے ہادی اعظم اور رہبر کامل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِس لیے خدا نے آپ کو نبیوں کے خاتم (33:40) کی حیثیت سے مبعوث فرمایا۔ دوسرے انبیـا صرف اللہ کے رسول تھے، اور آپ اللہ کے رسول ہونے کے ساتھ خاتم النبیین بھی۔
راقم الحروف کی کتاب ”پیغمبرِ انقلاب‘ پہلی بار 1982 میں چھپی۔ اس وقت میں نے اس کتاب میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مذکورہ الفاظ لکھے تھے، جو نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی نشانِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو محمودیت کے مقام پر کھڑا کیا ہے چناں چہ نہ صرف اہل اسلام بلکہ عام مصنفین اور مورخین نے پیغمبرِ اسلام کی عظمت کو کھلے طور پر تسلیم کیا ہے۔ بارھویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں مسلم قوموں اور مسیحی قوموں کے درمیان لڑائیاں پیش آئیں، جن کو صلیبی جنگ (crusades) کہا جاتا ہے۔ ان جنگوں میں مسیحی قوموں کو شکست ہوئی۔ اُس کے بعد مسیحی مصنفین نے اسلام کے خلاف ایک قلمی جنگ چھیڑ دی ۔ کثرت سے ایسی کتابیں لکھی گئیں جن میں اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی تصویر کو بگاڑ کر پیش کیا گیا تھا۔ یہ سلسلہ لمبی مدت تک جاری رہا۔ اس سلسلے کو توڑنے والا پہلا قابلِ ذکر شخص اسکاٹ لینڈ کا ایک مصنف ٹامس کارلائل (وفات: 1881) ہے۔ اُس نے جرأت مندانہ طور پر اس رجحان کو بدلا۔ اُس کی مشہور کتاب ہیرو ورشپ (On Heroes, Hero Worship) پہلی بار 1841 میں چھپی۔ اس انگریزی کتاب میں اُس نے پیغمبرِ اسلام کی مثبت تصویر پیش کی۔ اُس نے پیغمبرِ اسلام کو دوسرے تمام پیغمبروں کے مقابلے میں ’’ہیرو‘‘ کا درجہ دیا۔
اس کے بعد کثرت سے مختلف زبانوں میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کتابیں شائع ہوئیں ۔ ان کتابوں میں تاریخ میں آپ کے انقلابی رول کا کھلے طور پر اعتراف کیا گیا۔ کے ایک اسکالر ایم این رائے (وفات: 1954) کی کتاب (Historical Role of Islam) 1939 میں پہلی بار دہلی سے چھپی۔ اس میں انھوں نے لکھا کہ پیغمبرِ اسلام، تمام پیغمبروں میں سب سے بڑے پیغمبر تھے۔ انھوں نے سب سے بڑا تاریخی معجزہ دکھایا:
Every prophet establishes his pretentions by the performance of miracles. On that token, Muhammad must be recognised as by far the greatest of all prophets, before or after him. The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (p. 4)
پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن میں یہ پیشین گوئی آئی ہے کہ آپ کو مقام محمود کا درجہ عطا کیا جائے گا مقام محمودیت کا ایک پہلو وہ ہے جو آخرت میں ظاہر ہوگا۔ وہ ہے جس کا تعلق موجودہ دنیا سے ہے۔ موجودہ دنیا کی نسبت سے مقام محمود یہ ہے کہ آپ کو تاریخی اعتبار سے ایک مسلم نبوت (established prophethood) کا درجہ حاصل ہوگا۔
آپ سے پہلے جو انبیا آئے، وہ مدوّن تاریخ میں ریکارڈ نہ ہو سکے۔ آپ کے سوا ہر ایک کی حیثیت، اعتقادی نبوت کی ہے نہ کہ تاریخی نبوت کی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ کو خدا نے آخری پیغمبر آپ کے بعد کوئی دوسرا پیغمبر آنے والا نہ تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ آپ کی لائی ہوئی کتاب اور آپ کی پیغمبرانہ زندگی کامل طور پر محفوظ ہو جائے، وہ تسلیم شدہ تاریخی ریکارڈ کی حیثیت حاصل کیوں کہ قانونِ الہی کے مطابق، جب پیغمبر مستند تاریخی ریکارڈ کا درجہ حاصل کرلے تو اس کے بعد اُس کی لائی ہوئی کتاب اور اُس کی تعلیمات کا یہی ریکارڈ پیغمبر کا قائم مقام بن جاتا ہے، اِس کے بعد کسی نئے پیغمبر کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔