Al-Risala · October 2011

خاتم النبیین

Al-Risala, October 2011, pp. 38–40

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ الاحزاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ: ما كان محمد أبا أحد من رجالكم، ولكن رسول الله وخاتم النبيين (33:40) یعنی محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صفتیں بیان کی گئی ہیں—رسول اللہ، اور خاتم النبیین۔ رسول اللہ ہونے کے اعتبار سے آپ دوسرے تمام رسولوں کی مانند تھے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: لا نفرق بين أحد من رسله (285 :2) یعنی رسول ہونے کے اعتبار سے، ایک رسول اور دوسرے رسول کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ لیکن مذکورہ آیت کے مطابق، اِس کے سوا آپ کی ایک اور حیثیت ہے، اور وہ یہ کہ آپ رسول ہونے کے علاوہ خاتم النبیین ہیں، یعنی سلسلہ نبوت کے آخری پیغمبر۔ آپ کا خاتم النبیین ہونا دراصل آپ کی ایک مزید (additional

صفت کو بتاتا ہے، یعنی آپ کی آمد کے بعد نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اس قرآنی آیت میں 'خاتم' کا لفظ آیا ہے۔ لغت کے اعتبار سے 'خاتم' اور 'خاتَم' دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں کا مطلب ایک ہے، یعنی آپ سلسلہ نبوت کے آخری نبی ہیں۔ بعد اب کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ اس فیصلے کو غیر مشتبہ بنانے کے لیے، اللہ تعالیٰ نے مزید اہتمام یہ کیا کہ آپ کی کوئی اولادِ نرینہ (male offspring) نہیں۔ ورنہ یہ امکان تھا کہ لوگ آپ کے بیٹے کو پیغمبر کا درجہ دے دیں۔

نبیوں کا خاتم ہونا صرف فہرست کی تکمیل کا معاملہ نہ تھا، بلکہ وہ اُس ضرورت کے ختم ہو جانے کا معاملہ تھا جس کی بنا پر پچھلی تاریخ میں بار بار پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ نئے پیغمبر کو بھیجنے کی ضرورت اُس وقت ہوتی ہے جب کہ خدا کا دین محفوظ حالت میں باقی نہ رہے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ليحكم بين الناس فيما اختلفوا فيه (2:23)۔ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین مکمل طور پر محفوظ ہو گیا، اس لیے بطورِ حقیقت اس کی ضرورت باقی نہ رہی کہ آپ کے بعد کوئی نیا نبی آئے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کئی چیزیں ایسی ملتی ہیں جو دوسرے پیغمبروں کے یہاں موجود نہیں۔ مثلاً سیاسی غلبہ۔ اِس قسم کی چیزیں تکمیل نبوت کے لیے نہیں ہیں، بلکہ وہ ختم نبوت کے لازمی تقاضے کے طور پر ہیں۔ اگر یہ مزید چیزیں آپ کی زندگی میں شامل نہ ہوتیں تو ایسا نہ ہوتا کہ نبوت کا سلسلہ آپ پر ختم ہو جائے۔ حالاں کہ منصوبہ الہی کے مطابق ، ایسا ہونا ضروری تھا۔ اصل یہ ہے کہ پیغمبر کے آنے کا مقصد صرف یہی نہیں ہوتا کہ وہ شخصی طور پر اپنے زمانے کے لوگوں کو خدا کا پیغام پہنچادے، بلکہ اسی کے ساتھ پیغمبر کے آنے کا یہ مقصد بھی ہوتا ہے کہ وہ انسانی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کرے، وہ ہدایتِ ربانی کے معاملے کو خود تاریخی عمل (historical process) میں شامل کردے۔ پیغمبر اسلام کے ظہور کے بعد یہ سب کچھ بہ تمام و کمال پیش آ گیا، اس لیے اب نبیوں کی آمد کی ضرورت بھی باقی نہ رہی۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کے یہ تمام اضافی پہلو قرآن میں بتا دیے گئے ہیں۔

مثلاً قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة (39: یعنی تم اُن سے قتال (جنگ) کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ اس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے۔ قدیم بادشاہی زمانے میں لمبی مدت سے دنیا میں مذہبی جبر کا نظام اس قِسم کا نظام نہ اچانک قائم ہوتا اور نہ وہ اچانک ختم ہوتا۔ اس قرآنی حکم کا مدعا یہ تھا کہ تاریخ بشری میں ایک ایسا عمل (process) جاری ہو جائے، جس کے نتیجہ میں ایسا ہو کہ مذہبی جبر مکمل طور پر ختم ہو جائے اور اس کے بجائے مذہبی آزادی کی حالت مکمل طور پر قائم ہو جائے۔ مذہبی آزادی (religious freedom) کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ وہ براہِ راست خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) سے جُڑا ہوا معاملہ ہے۔ خدا نے انسان کو امتحان (test) کے مقصد کے تحت اس دنیا میں رکھا ہے۔ اس مقصد کے تحت، دنیا میں آزادی کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ حکمت کی بنا پر پیغمبرِ اسلام کو استیصالِ فتنہ کا حکم دیا گیا اور اس کے مطابق، آپ کے لیے اسباب فراہم کیے گئے ۔ چناں چہ آپ نے اِس کام کو انجام دیا، یہاں تک کہ انسانی تاریخ میں مذہبی آزادی (religious freedom) کا دور کامل طور پر آگیا۔

Printed page