دعوت اور حجت
Al-Risala, October 2011, pp. 40–46
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی ہدایت کے دو پہلو ہیں— دعوت اور حجت۔ دعوت سے مراد یہ ہے کہ ہدایت الہی کو کسی کمی یا بیشی کے بغیر بتانا۔ خدا کا صحیح تعارف، خدا کے تخلیقی نقشے کا اعلان، جنت اور جہنم کے معاملے سے انسان کو باخبر کرنا، وغیرہ۔ انھیں حقیقتوں کی وضاحت کا نام دعوت ہے۔
دعوت کا یہ عمل تمام پیغمبروں نے اپنے اپنے زمانے میں کیا۔ نکاتِ دعوت کے اعتبار سے، ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کے درمیان کوئی فرق نہ تھا۔ البتہ ایسا ہوا کہ پچھلے پیغمبروں کا دعوتی کلام اپنی صحیح صورت میں محفوظ نہ رہ سکا۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا دعوتی ذخیرہ (قرآن اور حدیث) مکمل طور پر اپنی اصل زبان میں محفوظ ہو گیا۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ بعد کی نسلیں بھی آپ کے دعوتی پیغام سے اُسی طرح باخبر ہوسکیں، جس طرح آپ کے ہم زمانہ لوگ باخبر ہوئے تھے۔
جہاں تک حجت کا سوال ہے، اُس کے دو درجے ہیں۔ روایتی استدلال اور علمی استدلال۔ استدلال ہمیشہ معلوم اشیا کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں انسانی معلومات کا دائرہ روایتی اشیا تک محدود تھا، اِس لیے قدیم زمانے میں ہمیشہ روایتی استدلال پر اکتفا کیا گیا۔ مثلاً حضرت یوسف خدا کے ایک پیغمبر تھے۔ اُن کا زمانہ 1910 تا 1800 قبل مسیح بتایا گیا ہے۔ انھوں نے قدیم مصر میں توحید کی دعوت دی۔ اُس وقت انھوں نے فرمایا: اے میرے جیل کے ساتھیو، کیا جُدا جُدا کئی معبود بہتر ہیں، یا اللہ اکیلا زبردست (39: 12)۔
یہ روایتی استدلال کی ایک مثال ہے۔ مگر یہاں ایک اور استدلال موجود تھا، اور وہ تھا علمی استدلال (scientific reasoning)۔ یہ استدلال وہ تھا جو خدا کی پیدا کردہ نیچر (فطرت) میں موجود تھا، مگر یہ استدلال قدیم زمانے میں صرف امکان کے درجے میں تھا، وہ ابھی تک واقعہ نہیں بنا پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے ذریعے جو انقلاب پیش آیا، اس نے تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری کیا۔ اس کے نتیجے میں ایسا ہوا کہ یہ امکانی استدلال واقعہ بن کر سامنے آگیا۔ فطرت کی تسخیر نیچر کا لفظ جب بولا جاتا ہے تو اُس سے مراد پوری دنیائے مخلوقات ہوتی ہے: Nature: The Sum total of all things in time and sapce; the entire physical universe. یہ نیچر ہمیشہ سے موجود تھا، لیکن قدیم زمانے میں انسان شرک میں مبتلا ہو گیا۔ مظاہر فطرت کی پرستش (nature worship) کا دوسرا نام ہے۔ چوں کہ انسان نیچر کو معبود کی نظر سے دیکھتا تھا، اِس لیے وہ اس کو تحقیق و تفتیش (exploration) کی نظر سے نہ دیکھ سکا۔ اس طرح، شرک ایک مستقل ذہنی رکاوٹ (mental block) بن گیا۔ علمی دلائل جن کو قرآن میں آیات (نشانیاں) کہا گیا ہے، وہ عالم فطرت میں موجود تھیں، مگر وہ ظاہر ہو کر سامنے نہ آسکیں۔ قرآن میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو ایک حکم ان الفاظ میں دیا گیا تھا: وقاتلوهم حتّى لا تكون فتنة، ويكون الدّين كلّه لله (39: 8)۔ مفسرین کے مطابق، اس آیت میں فتنہ
سے مراد شرک ہے۔ پیغمبر اور آپ کے اصحاب کو حکم دیا گیا کہ شرک کو ختم کرو، خواہ ارباب شرک کی جارحیت کی بنا پر اُن کے مقابلے میں جنگ کرنا پڑے۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا۔ پیغمبر اصحاب پیغمبر کی کوششوں کے نتیجے میں شرک کا سیاسی اور اجتماعی غلبہ دنیا سے ختم ہو گیا۔ اس کے بعد دنیا میں ایک نیا عمل شروع ہوا۔ ایک لفظ میں اس کو فطرت کی پرستش کے بجائے، فطرت کی تسخیر کا عمل کہا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دھیرے دھیرے ایسا ہوا کہ فطرت (نیچر) میں چھپے ہوئے دلائل سامنے آگئے۔ یہ تاریخی عمل اسلام کے ابتدائی زمانے میں شروع ہوا اور یورپ کی نشأۃ ثانیہ کے بعد وہ اپنی تکمیل تک پہنچا۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ خدائی حقیقتوں کو روایتی دلائل کے بجائے سائنسی دلائل کے ذریعے ثابت شدہ بنایا جا سکے۔ چند مثالوں سے اس کی وضاحت ہوتی ہے: 1 - خدا کے وجود پر قرآن میں ایک دلیل یہ دی گئی تھی کہ: أ في الله شك، فاطر السموات والأرض (14: 10) یعنی کیا خدا کے بارے میں شک ہے، جو آسمانوں اور زمین کو پھاڑنے والا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں لفظ فاطر (پھاڑنے والا) خدا کے وجود کا ایک ثبوت ہے۔ کیوں کہ پھاڑنا ایک بالقصد مداخلت (intervention) کا عمل ہے۔ اور بالقصد مداخلت کا عمل ایک مداخلت کار (intervener) کا ثبوت ہے۔ اور جب مداخلت کار کا وجود ثابت ہو جائے تو اپنے آپ خدا کا وجود (existence of God) ثابت ہو جاتا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں خدا کے وجود (existence of God) کا ایک علمی ثبوت موجود ہے، لیکن اس علمی ثبوت کی وضاحت صرف دورِ سائنس کے بعد ہوئی۔ بیسویں صدی کے رُبع اوّل میں سائنس دانوں نے اُس کائناتی واقعے کو دریافت کیا، جس کو بگ بینگ (Big Bang) کہا جاتا ہے۔ بگ بینگ کی دریافت کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ مذکورہ قرآنی آیت میں چھپے ہوئے سائنسی دلائل کو سمجھا جائے اور اس کو استعمال کیا جائے۔
2- قرآن کی سورہ الجاثیہ میں خدا کی ایک نعمت کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: اللّٰه الذي سخّر لكم البحر لتجري الفلك فيه بأمره (12 : 45) یعنی اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے
سمندر کو مسخر کر دیا، تا کہ اُس کے حکم سے سمندر میں کشتیاں چلیں۔
قرآن کی اِس آیت میں ایک عظیم حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ قدیم روایتی زمانے کا انسان اِس معاملے کو صرف ایک پُر اسرار عقیدے کے طور پر لیتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں اِس کی توجیہہ، ایک معلوم فطری قانون کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں ایک جدید سائنس ظہور میں آئی ہے، جس کو علم سکون سیالات (science of hydrostatics) کہا جاتا ہے۔ اِس کے مطابق، پانی یا سیال چیزیں ایک خاص قانون کے تابع ہیں۔ اور وہ تخفیفِ وزن (buoyancy) یا ٹھوس اَجسام کو پانی میں ڈالنے سے اِس کو بہ حال رکھنے یا ابھارنے کی صلاحیت ہے :
(Buoyancy) The upward pressure by any fluid on a body, partly or wholly, immersed therein, it is equal to the weight of the fluid displaced. اِس جدید سائنس کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ قرآن کی مذکورہ آیت کو خالص علم انسانی کی بنیاد پر سمجھا جا سکے۔ اور خدا کے اِس عظیم احسان پر یقین کیا جائے کہ اِس نے سمندر کو ایک محکم قانون کا پابند اِس بنا پر یہ ممکن ہو گیا کہ وسیع سمندروں کی سطح پر انسان کشتی اور جہاز کے ذریعے سفر کر سکے اور وہ دور دراز منزل تک بہ آسانی پہنچ جائے۔
خدا کی ایک نعمت کا ذکر قرآن کی سورہ ق میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : ونزّلنا من السماء ماءً مبارکاً (50:9) یعنی ہم نے آسمان سے مبارک پانی اتارا۔ قرآن کی اِس آیت میں خدا کی ایک عظیم نعمت کا ذکر ہے۔ قدیم زمانے میں یہ بات صرف ایک روایتی عقیدے کی حیثیت رکھتی تھی، مگر سائنسی دریافتوں کے بعد وہ ایک عظیم علمی دلیل کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ قرآن کی اِس آیت میں بارش کا حوالہ دیا گیا ہے۔ بارش کیا ہے۔ بارش دراصل سمندر کا پانی ہے، جو بھاپ بن کر اوپر جاتا ہے اور پھر مخصوص قانون کے تحت دوبارہ وہ نیچے کی طرف لوٹتا ہے، جس کو بارش کہتے ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، سمندر کا پانی کھاری ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کیوں کہ سمندر کے پانی میں 1/10 حصہ نمک شامل رہتا ہے۔ یہ نمک سمندر کے پانی میں تحفظّی مادہ (preservative) کے
طور پر شامل کیا گیا ہے۔ چوں کہ پانی کے مقابلے میں نمک کا وزن کسی قدر زیادہ ہوتا ہے، اس لیے جب سمندر کا پانی سورج کی گرمی سے بھاپ بن کر اوپر کی طرف اٹھتا ہے تو اس کا نمک کا حصہ نیچے رہ یہ ازالہ نمک (desalination) کا ایک عمل ہے، جو خدا کے قانون کے تحت ہوتا ہے۔ بنا پر ایسا ہوا ہے کہ سمندر کا کھاری پانی ہم کو شیریں پانی کی صورت میں دست یاب ہوتا ہے۔ کے بغیر سمندر کا پانی ہمارے لیے قابل استعمال ہی نہ ہوتا۔
کولرج (Coleridge) ایک برٹش شاعر ہے۔ اس کی وفات 1834 میں ہوئی۔ ایک نظم لکھی ہے۔ اس نظم میں اس نے بتایا ہے کہ لکڑی کا بنا ہوا ایک جہاز سمندر میں سفر کے لیے روانہ ہوا۔ درمیان میں سخت طوفان آیا۔ اُس کے نتیجے میں جہاز ٹوٹ گیا۔ بہت سے لوگ پانی میں ڈوب گئے۔ مسافر کو جہاز کا ایک تختہ مل گیا۔ وہ اس تختے کے اوپر لیٹ گیا اور پانی میں تیرنے لگا۔ وہ پیاسا تھا، لیکن وہ اپنی پیاس بجھا نہیں سکتا تھا، کیوں کہ اُس پاس کے آس جو پانی تھا، وہ سب کا سب کھاری پانی تھا۔ شاعر اس کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہر طرف پانی ہے، لیکن ایک قطرہ بھی پینے کے لیے نہیں: Water water everywhere, nor a drop to drink. قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے پانی کو مبارک (purified) بنا کر آسمان سے یہ بلاشبہ خدا کی ایک عظیم نعمت ہے۔ قدیم زمانے میں یہ معاملہ ایک روایتی عقیدے کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن موجودہ زمانے میں سائنس کی دریافتوں نے اس کو ایک عظیم قابل شکر حقیقت بنا دیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک بار سورج گرہن پڑا۔ اتفاق سے اُسی دن پیغمبر اسلام کے بیٹے ابراہیم کا کم عمری میں انتقال ہو گیا تھا۔ مدینہ کے لوگوں نے اُس کو دیکھا تو انھوں نے کہا کہ پیغمبر کے بیٹے کا انتقال ہوا تھا، اس لیے آج یہ سورج گرہن واقع ہوا ہے (كشفت الشمس لموت إبراهيم) لوگوں کا ایسا کہنا قدیم زمانے کے رواج کی بنا پر تھا۔ کہ اُس زمانے میں لوگ اسی قسم کے واقعات کو گرہن کا سبب سمجھتے تھے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے مدینہ کے لوگوں کو وہاں کی مسجد میں اکٹھا کیا
اور انھیں خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: إنّ الشمس والقمر لا يخسفان لموت أحدٍ ولا لحياته، ولكنهما آيتان من آيات الله، فاذا رأيتموهما فصلّوا وادعوا الله حتّى يُكشف ما بكم (صحيح البخاري، کتاب الکسوف) یعنی کسی کے مرنے اور کسی کے جینے سے چاند اور سورج میں گرہن واقع نہیں ہوتا، بلکہ وہ خدائی نشانیوں میں سے دونشانی ہیں۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو تم نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو، یہاں تک کہ گرہن کھل جائے۔ اس حدیث رسول میں سورج گرہن اور چاند گرہن (solar eclipse & lunar eclipse) کونشانی (signs) کہا گیا ہے۔ قدیم زمانے کے مخاطبین اپنے روایتی فریم ورک کے اعتبار سے اتناہی سمجھ سکتے تھے۔ لیکن موجودہ زمانے میں لوگوں کا فریم ورک سائنٹفک فریم ورک بن چکا ہے۔ کا انسان اس قابل ہوگیا ہے کہ وہ خالص علمی معنوں میں اس حقیقت کو سمجھ سکے۔ اور اس طرح زیادہ گہرائی کے ساتھ وہ معرفت کا رزق حاصل کرے ۔
موجودہ زمانے میں جدید فلکیات کے تحت مطالعے کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ زمین اور سورج اور چاند تین انتہائی مختلف سائز کے متحرک اجرام ہیں۔ مگر وسیع خلا میں اُن کو ایک نا قابلِ قیاس حساب کے ذریعے ایک خاص پوزیشن کے تحت ایک سیدھ میں لایا جاتا ہے، اسی خاص پوزیشننگ کے نتیجے میں سورج گرہن اور چاند گرہن واقع ہوتا ہے:
Eclipse is a result of unimaginably well-calculated aligning of three different moving bodies in the vast sapce. دعوت کا نیا دور سیرت کے موضوع پر راقم الحروف کی کتاب ’پیغمبرِ انقلاب‘ پہلی بار 1982 میں چھپی۔ اُس میں میں نے ایک حدیث نقل کرتے ہوئے لکھا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر کے موقع پر اپنے اصحاب کو ’العصابة‘ سے تعبیر کیا تھا۔ میں نے لکھا تھا کہ یہ العصابة کوئی سادہ گروہ نہ تھا، بلکہ یہ وہ گروہ تھا، جس پر ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی۔ اس طرح اُس کے افراد اس قابل ہوئے کہ تاریخ میں وہ ایک عظیم انقلابی دور کا آغاز کریں۔
اصحاب رسول نے نبوت محمدی کے اظہار اول کے لیے کام کیا تھا۔ اب نبوت محمدی کے اظہار ثانی کا زمانہ ہے۔ اس دوسرے رول کے لیے آج پھر ایک العصا بہ درکار ہے۔ اسی دوسرے العصابہ کو حدیث میں اخوان رسول کہا گیا ہے۔ یہ دوسرا العصابہ ہوگا، جس پر پچھلی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہو جیسا کہ میں نے اپنے دوسرے مضامین میں واضح کیا ہے، پہلے دور تاریخ کا آغاز ہاجرہ ام اسماعیل نے چار ہزار سال پہلے کیا تھا۔ اس تاریخی عمل کی تکمیل میں ڈھائی ہزار سال لگے۔ اس کے بعد اس تاریخی نسل میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب پیدا ہوئے۔ اسی تاریخی نسل سے اصحاب رسول نکلے، جنھوں نے پیغمبر کا ساتھ دے کر پہلے دور کا کارنامہ انجام دیا۔
اصحاب رسول نے جس دور تاریخ کا آغاز کیا تھا، تقریباً ڈیڑھ ہزار سال میں وہ اپنے نقطہ کمال پر پہنچ اب دوبارہ اس نئی نسل سے ایک فرد اٹھے گا، جس کو حدیث میں ’المہدی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس فرد کا ساتھ دینے کے لیے بہت سے اللہ کے بندے اٹھیں گے، غالباً انھیں افراد کو حدیث میں 'اخوان رسول' کہا گیا یہ گروہ نئے حالات میں اپنی غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے نبوت محمدی کا دوبارہ اظہار کرے گا۔ نبوت محمدی کا یہ اظہار ثانی، تاریخ انسانی کے خاتمے کا اعلان ہوگا۔ اس کے بعد موجودہ عارضی دنیا کو بدل کر نئی دنیا بنائی جائے گی، تاکہ اہل حق کو خدا کا ابدی انعام دیا جائے، اور اہل باطل کو ابدی طور پر رسوائی کے عذاب میں ڈال دیا جائے۔