Al-Risala · November 2011

عصری تقاضے - چند قابلِ غور پہلو

Al-Risala, November 2011, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنّ اللہ يبعث لهذه الأمّة علی رأس کلّ مائة سنة، من يجدّد لها دينها (سنن أبي داود، كتاب الملاحم، باب ما يُذكر في قرن المائة) یعنی اللہ اس امت کے لیے ہر سو سال کے سرے پر ایک شخص کو اٹھائے گا جو اس کے لیے اُس کے دین کی تجدید کرے گا۔

یہ کوئی پر اسرار بات نہیں۔ یہ فطری قانون کے تحت پیش آنے والا ایک معاملہ ہے۔ ایک ایسی مخلوق ہے جس کی عمر بہت محدود ہے۔ وہ سو سال سے پہلے ہی مر جاتا ہے۔ اس طرح ہمیشہ ایک کے بعد دوسری نسل آتی رہتی ہے۔ ایک تیار شدہ نسل ختم ہو جاتی ہے، اس کے بعد ایک غیر تیار شدہ نسل پیدا ہو کر اس کی جگہ لے لیتی ہے اور ضرورت ہوتی ہے کہ جس طرح پہلی نسل کو تیار کیا گیا تھا، اُسی طرح دوبارہ اگلی نسلوں کو تیار کیا جائے۔ زوال کا مذکورہ عمل ایک مسلسل عمل ہے، اور اِسی کو انحطاط (degeneration) کہا جاتا ہے۔ تجدید اِسی صورت حال کی اصلاح کا نام ہے۔

مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فطری پر اس کی معاملے میں امت محمدی کا کوئی استثنا چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت پر جب زوال کا دور آیا، تو بار بار مجددینِ اسلام پیدا ہوتے رہے۔ مثلاً عمر بن عبدالعزیز اُموی (وفات: 720ء)، ابن تیمیہ الحرانی (وفات: 1328ء)، شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات: 1762ء)، وغیرہ۔ یہ لوگ مسلمہ طور پر مجدد تھے، اور انھوں نے اپنے زمانے کے لحاظ سے تجدید کا کام کیا۔

Printed page