دو دور
Al-Risala, November 2011, pp. 7–8
By Maulana Wahiduddin Khan
امتِ مسلمہ کے ثابت شدہ طور پر دو دور ہیں ۔ روایتی دور (traditional period)، اور سائنسی دور (scientific period)۔ تاریخی ترتیب کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پچھلی صدیوں میں جو مجددینِ اسلام پیدا ہوئے، وہ سب روایتی دور میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے روایتی ڈھانچے میں دین کو
از سرِ نو مشق کرکے پیش کیا۔ اب اُمّتِ مسلمہ سائنسی دور میں پہنچ چکی ہے۔ اس دور کے حالات مکمل طور پر پچھلے دور سے مختلف ہیں۔ اس فرق کو سامنے رکھتے ہوئے ایک مسلم اسکالر نے کہا تھا کہ: Quran has to be re-revealed today. مگر اصل یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ ضرورت ہے کہ آج قرآن کی دوبارہ توضیح کی جائے: Quran has to be re-defined today. تجدید دین دراصل اِسی توضیحِ ثانی (re-defination) کا نام ہے۔ مجدد وہ ہے جو بدلے ہوئے حالات کو سمجھے اور نئے حالات میں دین کو دوبارہ واضح کرے۔ یہ کام اپنی حقیقت کے اعتبار سے تجدید (revival) کا کام ہے۔ یہ اصل دین کا دوبارہ احیا ہے۔ اس کا کوئی تعلق اْس عمل سے نہیں جس کو موجودہ زمانے میں اصلاح(reformation) یا نظر ثانی(revision) کہا جاتا ہے۔ موجودہ سائنسی دور میں تجدید کا یہ کام پوری شدّت کے ساتھ مطلوب ہو چکا ہے۔ اب جب کہ سائنسی تحقیقات کے مطابق، سائنس داں یہ اعلان کر رہے ہیں کہ انسانی تاریخ اپنے خاتمہ (end) پر پہنچنے والی ہے۔ جس زِلزالِ شدید (99:1) کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے، اس کے آثار عملاً شروع ہو چکے یہاں تک کہ اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ قیامت اب زیادہ دور نہیں: Doomsday is not far. ایسی حالت میں اب آخری وقت آگیا ہے کہ اس کو متعین کیا جائے کہ جدید دور سائنس کی نسبت سے تجدید و احیا کا جو کام مطلوب ہے، وہ کیا ہے۔ اور وہ کام کیا ہے جس کو جدید حالات کی نسبت سے تجدید و احیا کا کام کہا جائے گا۔ قرآن اور حدیث کے حوالے سے اِس کام کی نوعیت کو پوری طرح معلوم کیا جا سکتا ہے۔