Al-Risala · November 2011

آفاق اور انفس میں ظاہر ہونے والی نشانیاں

Al-Risala, November 2011, pp. 8–9

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں واضح طور پر یہ پیشین گوئی موجود ہے کہ بعد کے دور میں فطرت کی چھپی ہوئی نشانیاں (signs) ظاہر ہوں گی، اور یہ ضرورت ہوگی کہ ان نشانیوں کی روشنی میں دینِ خداوندی کو از سرِ نو

مدلل کیا جائے ۔ یہ ضرورت قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: عن قریب مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھلائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر یہ پوری طرح کھل جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے (53 :41)۔ آفاق اور انفس میں جن نشانیوں کے ظہور کی پیشین گوئی کی گئی تھی، وہ واضح طور پر موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آ چکی ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں بتایا گیا تھا کہ حضرت موسیٰ کے معاصر فرعون کا جسم خدا نے محفوظ کر دیا ہے، اور وہ بعد کے زمانے میں ظاہر ہوگا (10: اس آیت کے نزول کے بعد تقریبا ایک ہزار سال تک یہ واقعہ لوگوں کے لیے غیر معلوم رہا۔ انیسویں صدی کے آخر میں پہلی بار سائنسی ذرائع سے یہ ممکن ہوا کہ فرعون کے اس جسم کو دریافت کیا جاسکے اور اس کی معاصر تاریخ کا تعین کیا جاسکے۔ اس طرح کے بہت سے نئے حقائق ہیں، جو قرآن کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ دورِ جدید کے تجدیدی کام کا ایک حصہ ہے، یعنی ان نئی دریافتوں کو قرآن کی صداقت کی حیثیت سے پیش کرنا۔

Printed page