لسانِ قوم میں دعوت
Al-Risala, November 2011, pp. 9–10
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ ابراہیم میں پیغمبروں کے بارے میں بتایا گیا ہے: وما أرسلنا من رسول إلا بلسانه قومه (14: 4) یعنی خدا کی طرف سے جو پیغمبر بھی آیا، وہ اپنی مخاطب قوم کی زبان میں کلام
قرآن کی اس آیت میں ’لسان‘ سے مراد صرف زبان (language) نہیں ہے، بلکہ اُس میں کلام کا اسلوب (idiom) بھی شامل ہے۔ مثلاً پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عربی زبان میں کلام یہ آپ کے لیے قوم کی زبان (لسان قوم) میں بولنا تھا۔ حضرت ابراہیم نے زمین اور آسمان کے ملکوت (76 :6) سے استدلال کرتے ہوئے مدعو کے سامنے اپنے بات پیش کی۔ اور حضرت مسیح نے تمثیل (metaphor) کے انداز میں اپنی بات کہی۔ یہ دونوں اسلوب کی مثالیں ہیں، جو اپنے زمانے کے لحاظ سے استعمال کی گئیں۔
موجودہ زمانے میں دعوتی کلام وہ ہے جو وقت کی زبان میں ہو۔ وقت کی زبان کا ایک مطلب داعی کے اپنے علاقے کی زبان ہے۔ پھر یہ کہ موجودہ زمانہ گلوبلائزیشن کا زمانہ ہے۔ اس لحاظ سے ضروری ہے کہ داعی آج کی انٹرنیشنل زبان میں کلام کرے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، آج کی انٹرنیشنل زبان صرف ایک ہے، اور وہ انگریزی زبان ہے۔
’’لسان‘‘ کے مسئلے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ معاصر مخاطبین کے اسلوب میں ہو۔ اسٹینڈرڈ اسلوب وہ ہے جس کو سائنٹفک اسلوب کہا جاتا ہے۔ اگر آج کے انسان کو مخاطب کرنا ہے تو ضروری ہے کہ داعی کا کلام وقت کے اسلوب میں ہو، ورنہ یہ حال ہوگا کہ داعی بظابر بولے گا، لیکن مدعو کا مائنڈ اس سے ایڈریس نہیں ہوگا۔ ایسے کلام کو دعوتی کلام نہیں کہا جاسکتا۔ سائنٹفک اسلوب کیا ہے اور قدیم روایتی اسلوب کیا تھا۔ قدیم روایتی اسلوب وہ تھا جس میں شعر، ادب، خطابت، رومانیت، تمثیل اور مبالغہ آرائی کی زبان میں کسی بات کے کہنے کو بھی کہنا سمجھا جاتا جذباتی طور پر پرکشش الفاظ بولنے والے لوگ بھی داد کے مستحق قرار پاتے تھے۔ میں اس قسم کا اسلوب پوری طرح متروک ہو چکا ہے۔
موجودہ زمانے کا اسٹینڈرڈ اسلوب سائنٹفک اسلوب ہے۔ سائنٹفک اسلوب وہ ہے جو مبنی ہر حقیقت اسلوب ہو۔ جس کے الفاظ اور معنی میں کامل مطابقت پائی جائے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ سائنٹفک اسلوب وہ ہے جو پورے معنوں میں علمی اور منطقی (rational) اسلوب ہو۔ موجودہ زمانے میں وہی لٹریچر دعوتی لٹریچر ہے جو اس سائنٹفک اسلوب میں لکھا گیا ہو۔ اسلوب قرآن کا اسلوب ہے۔