Al-Risala · November 2011

تعلقات انسانی کا اصول

Al-Risala, November 2011, pp. 10–15

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانوں کے درمیان تعلقات قائم کرنے کے لیے ہمیشہ ایک جامع اصول درکار ہوتا ہے۔ ایک ایسا اصول جو اپنے اور غیر کے درمیان مساوات (equation) کے قیام کی بنیاد بن سکے۔ ایسی ضرورت ہے جس کے بغیر انسانی سماج کو منظم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

اسلام کی تاریخ میں ابتدائی اور معیاری زمانہ وہ ہے جس کو عہد رسالت کہا جاتا ہے۔ زمانے میں انسانی تعلقات کی بنیاد جس اصول پر قائم کی گئی تھی، وہ شاہد اور مشہود (3: 85) کی بنیاد یہ دونوں لفظ شہادت (گواہی) سے اخذ کئے گئے ہیں۔ شاہد کا مطلب ہے گواہ (witness)، اور مشہود کا مطلب ہے وہ جس پر گواہی دی جائے (witnessed)۔ شہادت سے مراد دعوت ہے اور شاہد اور مشہود سے مراد وہی چیز ہے جس کے لیے داعی اور مدعو کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان شاہد اور مشہود کی یہ مساوات (equation) عہد رسالت اور عہد صحابہ میں قائم رہی۔ اس کے بعد عباسی سلطنت کا زمانہ آیا، جب کہ دنیا کے بڑے حصے میں ایک مسلم ایمپائر قائم ہو گیا۔ اب شاہد اور مشہود کی یہ سابق مساوات ٹوٹ گئی اور نئی مساوات، حاکم اور محکوم کی بنیاد پر قائم ہوئی۔ یہی وہ زمانہ ہے، جب کہ مسلم فقہاء نے دارالکفر اور دارالاسلام کی اصطلاحیں وضع کیں۔ اس مساوات کے تحت، دنیا کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ مسلم اکثریت کے علاقے دارالاسلام بن گئے۔ اور اس کے مقابلے میں غیر مسلم علاقے دارالکفر قرار پائے۔ انیسویں صدی عیسوی میں یورپ کی نو آبادیاتی طاقتوں (colonial powers) کے ظہور کے بعد یہ مساوات (equation) دوبارہ ٹوٹ گئی۔ اب مغربی تہذیب کے غلبہ کے تحت، دنیا میں جمہوریت (democracy) کا زمانہ آیا۔ سیاست کے جمہوری تصور کے تحت، حاکم اور محکوم کی مساوات بے معنی اُس نے اپنے حق میں فکری اساس کھودی۔

مسلمانوں اور مغربی قوموں کے درمیان بارھویں اور تیرھویں صدی عیسوی میں صلیبی جنگیں (crusades) پیش آئیں۔ ان جنگوں میں مغربی قوموں کو شکست ہوئی، لیکن اس شکست نے مغربی قوموں کے اندر ایک مثبت نتیجہ پیدا کیا۔ یہ لوگ علم کے میدان میں سرگرم ہو گئے، یہاں تک کہ مغربی یورپ میں پندرھویں اور سولھویں صدی میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو یورپ کی نشأۃ ثانیہ (Renaissance) کہا جاتا ہے۔

اس کے بعد مغربی دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا۔ مغربی قوموں نے تجارت اور صنعت کے

نئے طریقے دریافت کیے، یہاں تک کہ عمومی پیمانے پر ایک نئی مساوات (equation) قائم ہوگئی۔ تاجر اور خریدار (trader and costomer) کی مساوات تھی۔ اس مساوات کا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے ایک نیا کلچر وجود میں آیا جو خریدار دوست کلچر (customer-friendly culture) کے اصول پر مبنی تھا۔ یہی کلچر آج کی دنیا میں ابھی تک باقی ہے۔

اس نازک وقت میں مسلمانوں کے ساتھ ایک المیہ (tragedy) پیش آیا۔ اور محکوم کی سابقہ سوچ سے باہر نہ آسکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان جدید اقتصادیات کی مین اسٹریم میں شامل نہ ہو سکے۔ اس کھڑے پن کی قیمت مسلمانوں کو یہ دینی پڑی کہ وہ موجودہ زمانے میں دہرا نقصان کا شکار ہو گئے۔

جدید حالات سے ہم آہنگ نہ ہونے کی بنا پر ایک طرف یہ ہوا کہ وہ اقتصادیات میں دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے۔ دوسرا اس سے بھی بڑا نقصان یہ تھا کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ڈبل اسٹینڈرڈ (double standard) کا کیس بن گئے۔ ذہنی طور پر وہ دوسری قوموں کے بارے میں منفی خیالات رکھتے تھے، لیکن ان کا یہ منفی فکر قابل عمل نہیں ہوسکتا تھا۔ اپنی مادی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اُن کو اُنھیں قوموں سے مل کر کام کرنا تھا۔ داخلی طور پر وہ ان قوموں کے بارے میں منفی ذہن رکھتے ہوئے، خارجی زندگی میں اُنھیں ان قوموں کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑا۔

اس طرح مسلم تاریخ میں پہلی بار ایک سنگین بُرائی پیدا ہوئی، یعنی داخلی طور پر منفی رائے رکھتے ہوئے، خارجی معاملات میں دوسروں کے ساتھ سمجھوتہ کر کے اپنی مادی زندگی کی تعمیر کرنا۔ یہ دو عملی یا ڈبل اسٹینڈرڈ کی عمومی حالت تھی۔ اس قسّم کی عمومی دو عملی مسلمانوں کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی پیش نہیں آئی۔ اس بُرائی سے بچنے کا واحد طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے دورِ اوّل کی طرف فکری واپسی، یعنی دورِ اول کی طرح دوبارہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کی مساوات (equation) قائم داعی اور مدعو کی مساوات ہی اسلام کے مطابق صحیح مساوات ہے۔ اس مساوات کو دوبارہ قائم کر کے مسلمان موجودہ دو عملی کی بُرائی سے بچ سکتے ہیں اور اسی کے ساتھ امت مسلمہ ہونے کی حیثیت سے

وہ اپنی عمومی ذمے داری کو ادا کر سکتے ہیں، یعنی دعوت الی اللہ کی ذمے داری۔ آئیڈیالوجی آف دعوہ حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت عملاً زندہ نہ رہے اور پھر کوئی شخص اس کو اپنی کوششوں سے زندہ کرے، تو اس عمل پر اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے: من أحيا سنة من سنتي قد أميتت بعدي فإن له من الأجر مثل من عمل بها۔

(الترمذي، رقم الحديث : 2677)

اس حدیث کو سامنے رکھا جائے اور غور کیا جائے کہ موجودہ زمانے میں وہ کون سی سنت رسول ہے جو آج زندہ نہیں ہے تو بلا شبہ وہ صرف ایک سنت ہوگی، اور وہ دعوت الی اللہ کی سنت ہے۔ زمانے کے مسلمانوں کو دیکھئے تو ان کے درمیان نماز اور روزہ اور حج اور زکاۃ جیسے دینی اعمال بہت بڑے پیمانے پر انجام دیے جارہے ہیں، لیکن صرف ایک ہی بڑی سنت ہے جو آج عملاً زندہ نہیں، اور وہ دعوت الی اللہ کی سنت ہے۔ اس معاملے میں مسلمانوں کی بے شعوری کا یہ حال ہے کہ وہ ملی خدمت یا اصلاحِ المسلمین کا کام کریں گے اور وہ اس کو دعوت الی اللہ کا نام دے دیں گے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کے رشتے کو زندہ کرنا، اس معاملے میں سنت رسول کو زندہ کرنا ہے۔ لیکن یہ کوئی سادہ کام نہیں۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم ترین کام ہے۔ دعوت کی اسی اہمیت کی بنا پر قرآن میں اُس کو جہادِ کبیر (52: 25) کہا گیا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان دعوت الی اللہ کی سنت کو حقیقی معنوں میں زندہ کرنے کے لیے ایک مکمل دعوہ آئیڈیالوجی (ideology of dawah) درکار ہے، ایک ایسی آئیڈیالوجی جو دعوت کی اہمیت کو جدید علمی اصول پر مدلّل کرے، جو اُن سوالات کا تشفی بخش جواب دے جو دعوت کے راستے میں ذہنی رکاوٹ (intellectual obstacle) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

دعوت کا کام ایک ایسے ماحول کا طالب ہے، جہاں داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور تشدد کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہو۔ واضح رہے کہ یہ خاتمہ فریق ثانی کی طرف سے کبھی نہیں کیا جائے گا۔

جب بھی ہوگا ، وہ داعی گروہ کی طرف سے یک طرفہ طور پر کیا جائے گا ، اسی لیے قرآن میں دعوت کا حکم دیتے ہوئے پیغمبر اسلام سے فرمایا گیا: ولربک فاصبر (74:3) یعنی مدعو کی طرف سے تمام زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کرو اور پوری طرح مثبت انداز میں دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھو۔ موجودہ زمانے میں بہت سے ایسے نظریات سامنے آئے ہیں جو بظاہر اسلام کے روایتی موقف سے ٹکراتے ہیں۔ اس ظاہری ٹکراؤ نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو ان جدید نظریات کے بارے میں منفی ذہن میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ ان نظریات کی ایسی توضیح کی جائے جو اس معاملے میں مسلمانوں کے منفی ذہن کا خاتمہ کر سکے۔ بصورت دیگر ، داعی اور مدعو کے درمیان وہ نارمل تعلقات قائم نہیں ہوں گے جو دعوت کے مثبت عمل کے لیے ضروری ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانے میں شتم رسول کا مسئلہ مسلمانوں کے لیے ایک حساس مسئلہ بن گیا ہے۔ مسلمان جب بھی کوئی ایسی تحریر پڑھتے ہیں یا تقریر سنتے ہیں ، جو اُن کے نزدیک شتم رسول کے ہم معنی ہو، تو وہ فوراً مشتعل ہو جاتے ہیں اور تشدد کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال نہایت سنگین طور پر دعوتی عمل کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ جدید تہذیب کے زیر اثر آج تمام غیر مسلم قوموں میں یہ مان لیا گیا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی مطلق معنوں میں انسان کا ایک حق ہے ، کسی بھی عذر کی بنا پر اس کو ساقط نہیں کیا ایسے ماحول میں مسلمان جب بطور خود شتم کے واقعے کو لے کر ہنگامہ شروع کرتے ہیں اور وہ میڈیا کے ذریعے فوراً لوگوں کے علم میں آ جاتا ہے ، تو لوگ یہ تصور قائم کر لیتے ہیں کہ اسلام آزادی رائے کے خلاف ہے۔ اس بنا پر اسلام اس قابل نہیں کہ وہ جدید انسان کا مذہب بن سکے۔ میں ذاتی طور پر شتم رسول کو ایک ایسا معاملہ سمجھتا ہوں جس پر مسلمان صرف دو قسم کے رویّے کا حق رکھتے ہیں۔ یا تو وہ اس سے اعراض کرتے ہوئے خاموش رہیں ، یا دلیل کی زبان میں پُرامن طور پر وہ اس کا جواب دیں۔ اس موضوع پر میں نے ”شتم رسول“ کا مسئلہ کے نام سے ایک مستقل کتاب

لکھی ہے جو 191 صفحات پر مشتمل ہے اور 1997 میں نئی دہلی سے شائع ہو چکی ہے۔ تاہم بالفرض اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ شتم رسول ایک قابل گردن زدنی معاملہ ہے، اور شتم کا کیس يُقتل حدّا کا کیس ہے، تب بھی اس کو اس معاملے میں اجتہاد کرنا چاہیے۔ دعوت الی اللہ کی مصلحت کا تقاضا ہے کہ ایسا شخص اس معاملے کو الضرورات تبیح المحظورات کے خانے میں ڈالے، اور قانونِ ضرورت (law of necessity) کے تحت، اس کو موجودہ زمانے میں ساقط قرار ایسا نہ کرنے کی صورت میں مسلمانوں کا منفی ذہن بدستور باقی رہے گا اور وہ دعوت جیسے مثبت عمل کے لیے نااہل (incompetent) قرار پائیں گے۔

اوپر جن مسائل کا بیان ہوا، وہ براہِ راست طور پر دعوت الی اللہ کی تجدید سے تعلق رکھتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں جو نئے حالات پیدا ہوئے ہیں، ان کے ریفرنس میں دعوت کی اہمیت کو دوبارہ دریافت کرنا ہے۔ نئے حالات میں جو نئے موانع (obstacles) پیدا ہوئے ہیں، ان کا اس طرح جواب دینا ہے جو دعوت کے راستے کو دوبارہ کھولنے والا ہو۔ موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کی بات کرنا دراصل انھیں سوالات کو ایڈریس کرنے کا نام ہے۔ اس سے کم تر درجے کا کوئی عمل موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کے راستے کو ہموار کرنے والا نہیں۔

ان مسائل سے صرف نظر کر کے اگر کوئی کام کیا جائے اور بطور خود اس کو دعوت الی اللہ کا نام دیا جائے، تو یہ قرآن کے الفاظ میں يحبون أن يُحمدوا بما لم يفعلوا (188: 3) کا مصداق ہوگا، یعنی ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا جس کو آدمی نے سرے سے انجام ہی نہیں دیا۔ بھوپال میں الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ حاصل کرنے کے لیے حسب ذیل پتے پر رابطہ کریں: Zuberi Book House Near Brahimpura Masjid Mob. 09425689224, 09893575890, 09752654872

Printed page