اسلام اور عصرِ حاضر
Al-Risala, November 2011, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
خالق کی طرف سے انسان کو جو نعمتیں دی گئی ہیں، ان میں سے ایک عظیم نعمت قرآن ہے۔ کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے کہ اس میں تمام باتوں کا بیان ہے (89 : 16)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ہمارے لیے معاملاتِ زندگی کو سمجھنے کے لیے ایک مستند کتاب حوالہ (book of reference) کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن کے ذریعے ہم خالق کے تخلیقی پلان (creation plan) کو سمجھ سکتے ہیں، اور زندگی کی منصوبہ بندی کے لیے صحیح نقطۂ آغاز (starting point) کو پاسکتے ہیں۔ اسی طرح دعوت الی اللہ کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے بھی قرآن ایک مستند کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔
قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوتِ حق کے دو دور ہیں۔ ایک ہے پیغمبروں کا زمانہ، اور دوسرا ہے بعد کو آنے والا زمانہ۔ پیغمبروں کے زمانے میں خدا نے آیاتِ وحی کے ذریعے حق کا اظہار فرمایا، اور اس کی مزید تائید کے لیے پیغمبروں کو معجزے دے، یعنی ایسی نشانیاں (signs) جن کا انکار کرنا کسی انسان کے لیے ممکن نہ ہو۔
بعد کے زمانے میں پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا، لیکن دعوت کا عمل بدستور جاری رہا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے میں، آفاق اور انفس میں ایسی آیات ظاہر ہوں گی جو حق کی تبیین کرنے والی ہوں (53 : 41)۔ اس قرآنی وضاحت کے مطابق، تبیینِ حق کے دو دور ہیں۔ ہے تبیین بذریعہ آیاتِ وحی، اور دوسری ہے تبیین بذریعہ آیاتِ فطرت۔
دعوت کے پہلے دور میں تبیین حق کا کام پیغمبروں کے ذریعے انجام پایا۔ دعوت کے دوسرے دور میں، قرآن کے مطابق، تبیین حق کا کام آیاتِ فطرت کے ذریعے انجام پائے گا۔ دوسرے دور میں تبیین حق کی پیشگی خبر قرآن کی سورہ حم السجدہ کی مذکورہ آیت نمبر 53 میں دی گئی ہے۔ دورِ اول میں تبیین حق کا کام خدا کے پیغمبروں کے ذریعے انجام پایا، اور دورِ ثانی میں تبیین حق کا کام علماءِ اسلام کے ذریعے انجام جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: العلماء ورثۃ الانبیاء (سنن أبي داؤد، كتاب العلم،
باب الحث علی طلب العلم) یعنی امت محمدی کے علماء نبیوں کے وارث ہیں۔
دعوت کے پہلے دور میں تبیین حق کا کام جن پیغمبروں نے انجام دیا، انھوں نے اپنے کام کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں (إني رسول الله إليكم) ۔ اس اعلان کا حق انھیں اس لیے تھا کہ فرشتہ جبریل کے ذریعے اُنھیں براہِ راست طور پر یہ علم دیا گیا تھا۔ لیکن بعد کے دور میں جو عالم، یا علماء کا جوگروہ تبیین حق کے کام کو انجام دے، اس کو مذکورہ قسم کے پیغمبرانہ اعلان یا دعویٰ (claim) کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کرنے کا حق نہیں۔
بعد کے زمانے میں تبیین حق کا کام کرنے والے علماء کی شناخت ان کے ذاتی اعلان کے ذریعے نہ ہوگی، بلکہ ان کے کام کے ذریعے ہوگی، یعنی جو علماء بعد کے دور میں ظاہر ہونے والی آیات فطرت (signs of nature) کا گہر ا علم حاصل کریں اور ان کو دعوت حق کی حمایت میں درست طور پر اور موثر طور پر استعمال کریں، وہ اس آیت میں کی گئی پیشین گوئی کا مصداق ٹھہریں گے۔ ایسے علماء کو صرف ان کے کام کو دیکھ کر پہچانا جاسکتا ہے، نہ کہ ان کے اعلان کے ذریعے۔