On the Threshold of A New Era
Al-Risala, November 2011, pp. 17–21
By Maulana Wahiduddin Khan
اس تقریر کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں اسلام کی دعوت کو عصری اسلوب میں بیان کرنے کی کوشش کی
یہ میری زندگی میں ایک انقلابی واقعہ تھا۔ اس واقعے نے میری آئندہ زندگی کا رخ متعین کر دیا۔ اب میں نے شعوری طور پر یہ طے کر لیا کہ مجھے عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کرنا ہے۔ اس کے بعد میں نے مذکورہ موضوع کا زیادہ گہرائی کے ساتھ مطالعہ شروع کر دیا۔ اس درمیان میں مقالہ یا پمفلٹ کی صورت میں بعض تحریریں شائع ہوئیں۔ مثلاً حقیقت کی تلاش“۔ یہ مقالہ 6 ستمبر 1958 کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے یونین ہال میں پڑھا گیا، اور اس کے بعد وہ پمفلٹ کی صورت میں شائع ہوا۔ اس موضوع پر میرے مطالعے کا ایک نتیجہ وہ تھا جو باقاعدہ کتاب کی صورت میں ظاہر ہوا۔ کتاب جو پہلی بار 1966 میں مجلس تحقیقات ونشریاتِ اسلام (ندوة العلما ء، لکھنؤ) سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کا اردو ٹائٹل ”مذہب اور جدید چیلنج“ تھا۔ بعد کو اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں یہ عربی ترجمہ پہلی بار 1969 میں کویت اور بیروت اور قاہرہ سے ”الاسلام یتحدیٰ“ کے نام سے چھپا۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر فریدہ خانم نے کیا، جو پہلی بار 1985 میں گاڈ ارائزز (God Arises) کے نام سے شائع ہوا۔
مذہب اور جدید چیلنج 1964 میں لکھ کر تیار ہوئی۔ میں نے اس کا مسودہ (manuscript) مجلس تحقیقات و نشریات اسلام (لکھنؤ) کے ذمے داروں کو برائے اشاعت دیا۔ چوں کہ اس کتاب میں بہت زیادہ سائنسی حوالے تھے، مجلس کے ذمے داروں نے چاہا کہ اشاعت سے پہلے وہ کسی ایکسپرٹ (expert) سے اس کی تصدیق حاصل کر لیں۔ اس مقصد کے لیے کتاب کے مسودے کو لکھنؤ کے ایک مسلم آئی اے ایس افسر کو دیا گیا۔ انھوں نے کتاب کے مسودے کو پڑھنے کے بعد مجلس کے نام ایک تحریر بھیجی۔ اس تحریر میں کتاب کے بارے میں منفی رائے دیتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ ایسی ایک کتاب لکھنے کے لیے مصنف کا کریڈنشیل (credential) کیا ہے۔
مذکورہ مسلم افسر کی یہ تحریر مجھے دی گئی۔ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے تحریری صورت میں اس کا جواب میں نے اپنے جواب میں یہ لکھا کہ اس کتاب کے مصنف کا کریڈنشیل یہ ہے کہ اس موضوع پر پوری مسلم دنیا میں اب تک کوئی ایک کتاب بھی لکھی یا چھاپی نہیں گئی ہے۔ جدید تاریخ میں میں پہلا شخص ہوں
جس نے اسلام اور جدید علمی چیلنج کے موضوع پر باقاعدہ مطالعہ کیا اور اس پر ایک مکمل کتاب تیار کی۔ کے خیال کے مطابق، اس موضوع پر کوئی دوسری کتاب پائی جاتی ہے، تو آپ مجھے اُس کا نام بتائیں۔ میرے اِس جواب کے بعد لوگ خاموش ہوگئے اور میری کتاب کو 1966 میں مجلس تحقیقات و نشریات اسلام سے شائع کر دیا گیا، جو اس کتاب کا پہلا ایڈیشن تھا۔ اس کے بعد میری زندگی مختلف مراحل سے گزرتی رہی۔ یہاں تک کہ میں نے 1970 میں دہلی میں اسلامی مرکز کے نام سے ایک دعوتی ادارہ قائم کیا، اور 1976 میں 'الرسالہ' کے نام سے ایک دعوتی ماہ نامہ جاری کیا، جواب تک پابندی کے ساتھ نکل رہا ہے۔ اس ادارہ (اسلامی مرکز) کے تحت، میں نے باقاعدہ طور پر کتابیں شائع کرنا شروع کیا۔ کتابوں کا موضوع براہ راست یا بالواسطہ طور پر صرف ایک ہوتا تھا، اور وہ ہے — جدید علمی چیلنج کے مقابلے میں اسلام کا مدلّل تعارف پیش کرنا۔ ماہ نامہ الرسالہ میں ان کتابوں کا اشتہار جس عنوان کے تحت چھپتا تھا، وہ عنوان یہ تھا — عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جدید تہذیب کے ظہور اور پرنٹنگ پریس کے زمانے میں پوری مسلم دنیا میں مختلف زبانوں میں کثرت سے کتابیں چھاپی گئیں، لیکن میرے علم کے مطابق، ان کتابوں کے تعارف کے لیے کسی نے بھی "عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر" کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ جہاں تک میں جانتا ہوں، اب بھی کوئی مسلم ادارہ ایسا نہیں ہے جو اپنی مطبوعات کے تعارف کے لیے عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کا لفظ استعمال کرتا ہو۔ گویا کہ یہ ٹائٹل غیر متنازعہ طور پر صرف ہمارے مشن کے تحت شائع شدہ کتابوں پر منطبق ہوتا کوئی دوسرا شخص یا ادارہ اس معاملے میں، دعوے دار کے درجے میں بھی اس میں شریک نہیں۔ جدید تہذیب کی طرف سے جو فکری چیلنج پیدا ہوا، اس کا تعلق تمام مذاہب سے تھا۔ اس صورت حال کے پیدا ہونے کے بعد دورِ جدید میں کچھ نمایاں افراد پیدا ہوئے جنھوں نے اپنے عقیدہ یا اپنے مذہب کو ماڈرن معیار پر پیش کرنے کا کام کیا۔
مثال کے طور پر ڈاکٹر رادھا کرشنن (وفات: 1975) ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص تھے۔ مطالعہ بہت وسیع تھا۔ وہ ہندوازم (Hinduism) پر گہرا عقیدہ رکھتے تھے۔ انھوں نے ہندوازم کو جدید
معیار پر پیش کرنے کہ کوشش کی۔ اس سلسلے میں ان کی دو کتابوں کے نام یہ ہیں: A Source Book in Indian Philosophy, 1957 Recovery of Faith, 1956 ڈاکٹر رادھا کرشنن موجودہ زمانے کے نہایت اعلی تعلیم یافتہ شخص تھے، تاہم یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ اپنے مقصد میں زیادہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے جس مقدمے کی پیروی کی، وہ مقدمہ اپنے آپ میں کم زور تھا۔ اور جو مقدمہ اپنے آپ میں کمزور ہو، کوئی بڑے سے بڑا وکیل بھی اس کو مضبوط نہیں بنا سکتا۔
1938 سے 1947 تک دس سال کا زمانہ میری زندگی میں بہت اہم زمانہ تھا۔ اس زمانے میں میرا دماغ افکار و نظریات کے اعتبار سے گویا کہ ایک میلٹنگ پاٹ (melting pot) بنا ہوا تھا۔ زمانے میں پورے عالمِ اسلام میں مسلمانوں کے حال اور مستقبل کے بارے میں بحث چھڑی ہوئی تھی۔ ہر تحریر اور ہر تقریر میں اسی کا چرچا ہوتا تھا۔ فطری طور پر میرا ذہن مختلف خیالات کی آماج گاہ بنا ہوا تھا۔ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اوّل میں پوری مسلم دنیا میں بڑے پیمانے پر فکری سرگرمیاں جاری تھیں ۔ بہ ظاہر ان سرگرمیوں کے مختلف دھارے تھے، لیکن ایک چیز سب میں مشترک تھی، وہ یہ کہ یہ مختلف قسم کی سرگرمیاں اصلا ردِ عمل کے تحت پیدا ہوئیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، اس زمانے میں مغربی قوموں نے جدید ذرائع کے بل پر پوری مسلم دنیا میں سیاسی اور تہذیبی غلبہ حاصل کر لیا تھا۔ یہ صورتِ حال مسلم رہنماؤں کے لیے نا قابلِ قبول تھی۔ چناں چہ ہر ایک احیاء (revival) کے نام پر اٹھ کھڑا ہوا۔ ان سب کا مشترک نشانہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے قدیم دورِ عروج کو دوبارہ جدید تاریخ میں واپس لایا جائے۔
مسلمانوں کے اندر اگر یہ سرگرمیاں مثبت ذہن کے تحت پیدا ہوئی ہوتیں ، تو ان کا ماڈل زمانہ اس ابتدائی ماڈل کی پیروی میں وہ دعوت الی اللہ کو اپنا نشانہ بناتے۔ لیکن ان سرگرمیوں کا سرچشمہ چوں کی منفی ردِ عمل تھا، اس لیے عملاً بعد کو قائم ہونے والا دورِ تاریخ لوگوں کا ماڈل بن گیا۔
عباسی سلطنت، اور عثمانی سلطنت، اور مغل سلطنت کے زمانے کو دوبارہ واپس لانے کے نشانے کے تحت، سرگرمِ عمل ہو گئے۔ ان سرگرمیوں کے دو بڑے دھارے تھے— تھے—احیاء خلافت، اور احیاء جہاد۔ ان دونوں دھاروں کے تحت بیسویں صدی عیسوی میں غیر معمولی کوششیں کی گئیں، لیکن اپنے مطلوب نشانے کے اعتبار سے یہ کوششیں مکمل طور پر نا کام رہیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ یہ لوگ صرف دورِ قدیم کی مسلم تاریخ کو جانتے تھے، اور اسی قدیم ماڈل کو دوبارہ واپس لانے کے لیے وہ سرگرمِ عمل ہو گئے۔ وہ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ کامیابی کے لیے دوسری ضروری مطلوب چیز ہے، وہ رعایت زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں کام کے طریقے پوری طرح بدل چکے تھے۔ یہ لوگ اپنی بے خبری کی بنا پر اس تبدیلی کی رعایت نہ کر سکے، اس لیے وہ اپنے مطلوب نشانے کو حاصل کرنے میں مکمل طور پر نا کام رہے۔ دوسرا فکری دھارا وہ تھا جس کا کہنا یہ تھا کہ اسلام کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے، ورنہ اسلام کو اس کی مطلوب اہمیت حاصل نہ ہو سکے گی۔ اس نقطہ نظر کے حامل ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے لکھا تھا کہ — آج ضرورت ہے کہ قرآن دوبارہ نازل ہو: