The Quran has to be re-revealed today.
Al-Risala, November 2011, pp. 21–25
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دوسرے فکری دھارے کو امت میں قبولیت حاصل نہ ہوسکی۔ یہ لوگ صرف ایک قسم کا مبتدعانہ گروہ بن کر رہ گئے ۔ اس کا سبب میرے نزدیک یہ ہے کہ جن افراد نے اس دوسرے دھارے کی نمائندگی کی، وہ اپنے مشن کے لیے پوری طرح اہل (competent) نہ تھے۔ اُن کا مدعا اصلاً غلط نہ تھا، لیکن وہ طاقت ور انداز میں اس کی درست نمائندگی نہ کر سکے ۔ اس بنا پر وہ اپنے اصل مقصد، دورِ جدید کے اعتبار سے امت کو رہنمائی دینے میں نا کام رہے۔
راقم الحروف نے اللہ کی توفیق سے، اسلام کی دعوت کو اپنا موضوع بنایا۔ اس سلسلے میں میں نے وسیع مطالعے کے ذریعے اسلام اور جدید تحدّیات (modern challenges) کو سمجھنے کی کوشش کی۔ نے پایا کہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں میں عام تاثر یہ ہے کہ اسلام جدید دور میں غیر متعلق (irrelevant) ہو گیا ہے۔ اسلام کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ جدید ذہن کو ایڈریس کر سکے۔ موجودہ زمانے میں مسلم مصنفین نے جو کتابیں
لکھی ہیں، وہ تقریباً سب کی سب قدیم روایتی اسلوب میں ہیں۔ اس قسم کی کتابیں جدید تحدیات کا جواب نہیں بن سکتیں ۔ یہ کتابیں آج کے ذہن کو اسلام کی صداقت پر مطمئن کرنے کے لیے یقینی طور پر نا کافی ہیں۔ اس معاملے کا موضوعی مطالعہ (objective study) کرنے کے بعد میں نے یہ پایا کہ جدید دور کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ روایتی ذہنی فریم ورک اب ٹوٹ گیا ہے۔ آج کے انسان کا ذہنی فریم ورک اُس سے بالکل مختلف ہے جو قدیم زمانے کے انسان کا ہوا کرتا تھا۔ ماڈرن افکار کو سمجھنے کے لیے میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں۔ ان میں سے کچھ کتابوں کے نام یہ ہیں: 1. Thomas Paine, The Age of Reason (1994)
2. J.F. West, The Great Intellectual Revolution (1965) 3. Julian Huxley, Religion without Revelation (1927) 4. A.A.A. Faizi, A Modern Approach to Islam (1963)
5. Philip Hodgkiss, The Making of the Modern Mind (2001) 6. John Herman Randall, The Making of the Modern Mind (1926) 7. Brinton Corone, The Shaping of the Modern Mind (1953) 8. W. T. Stace, Religion and the Modern Mind (1952)
کامیاب دعوت وہ ہے جو مخاطب کے مائنڈ کو ایڈریس کرے ۔ موجودہ زمانے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ قدیم روایتی لٹریچر جدید ذہن کو ایڈریس کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہا ہے۔ گویا کہ آج داعی اور مدعو کے درمیان ایک فکری بُعد (intellectual gap) پیدا ہو گیا ہے۔ اس لیے اسلامی دعوت کے سلسلے میں پہلا ضروری کام یہ ہے کہ اس فکری بُعد کو ختم کیا جائے تاکہ اسلام آج کے انسان کے لیے قابل فہم (understandable) اور قابل قبول (acceptable) بن سکے۔ اس معاملے میں، میں نے اپنے مطالعے کے ذریعے جانا کہ اس اعتبار سے جو مسئلہ پیدا ہوا ہے، وہ بنیادی طور پر یہ ہے کہ لمبے فکری عمل کے بعد آج کے انسان کا ذہنی شاکلہ (framework) بدل گیا ہے۔ یہ تبدیلی بنیادی طور پر دو چیزوں میں ہوئی ہے : 1- روایتی معیار کی جگہ سائنسی معیار کا ظہور میں آنا۔ 2- حاکمانہ معیار کے بجائے جمہوری معیار کا رواج۔
میں نے اپنے مطالعے کے دوران پایا کہ موجودہ زمانے میں مسلم مصنفین کا پیدا کردہ لٹریچر ہے، وہ جدید سائنٹفک معیار پر پورا نہیں اترتا۔ موجودہ دست یاب لٹریچر روایتی زبان میں لکھا گیا ہے۔ وہ اُس سائنٹفک زبان میں نہیں لکھا گیا ہے جو موجودہ زمانے میں قبولیت کا درجہ حاصل کئے ہوئے اس طرح، کتاب اور قاری کے درمیان جو ذہنی بُعد (intellectual gap) پیدا ہوگیا ہے، اس کا نتیجہ ہے کہ یہ لٹریچر جدید ذہن کو ایڈریس نہیں کرتا۔
یہی معاملہ دوسرے پہلو کا ہے۔ مسلمانوں کا موجودہ ذہن، قدیم بادشاہی نظام کے تحت بنا ہے، اس لیے وہ اسلام کو جمہوری انداز میں پیش کرنے سے عاجز رہ گئے۔ چناں چہ ان مسلمانوں کی باتیں اِس جدید ذہن کو اپیل نہیں کرتیں جو چیزوں کو صرف اُس وقت سمجھ پاتا ہے، جب کہ وہ جمہوری انداز میں پیش کی گئی ہوں۔ مثلاً خلافت کا روایتی تصور قدیم شاہی ذہن کے لیے تو قابلِ تصور تھا، لیکن جدید جمہوری ذہن کے لیے وہ قابلِ فہم نہیں۔ اسی طرح توہینِ اسلام کے نام پر قتل کی سزا دینا جدید ذہن کے لیے نا قابل فہم ہے، کیوں کہ جدید ذہن اِس طرح کی ”گستاخی‘‘ کے تصور سے نا آشنا ہے۔ وہ صرف یہ جانتا ہے کہ اظہارِ خیال کی آزادی (freedom of expression) انسان کا ایک ایسا حق ہے جس کو کسی بھی عذر کی بنا پر منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔
یہی معاملہ مسلح جہاد (armed struggle) کا ہے۔ موجودہ زمانے میں صرف پرامن جدوجہد (peaceful struggle) کو قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔ حق کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد پوری طرح درست ہے، لیکن مسلح جدوجہد کسی بھی حال میں درست نہیں۔ ان اسباب کی بنا پر آج کے انسان کو وہ لٹریچر اپیل نہیں کرتا جو جمہوریت کی شرطوں پر پورا نہ اترتا ہو۔ لٹریچر کے اعتبار سے اسلامی تاریخ کے تین بڑے دور ہیں۔ پہلا دور، رسالت اور صحابہ کا دور یہ دور ساتویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس دور میں اسلام کا مستند (authentic) یا کلاسکل لٹریچر (classical literature) وجود میں آیا۔ یہ لٹریچر عربی زبان میں ہے، اور قرآن اور حدیث اور سیرتِ رسول اور سیرتِ صحابہ پر مشتمل ہے۔
دوسرا دور وہ ہے جو عباسی سلطنت کے زمانے میں شروع ہوا اور عثمانی سلطنت اور مغل سلطنت کے زمانے تک جاری رہا۔ یہ دور آٹھویں صدی عیسوی سے لے کر اٹھارھویں صدی عیسوی تک پھیلا ہوا یہی وہ دور ہے جس میں اسلام کے مختلف پہلوؤں پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئیں، جو آج اسلامی کتب خانے کا تاریخی حصہ ہیں۔ یہ تمام کتابیں قبل از سائنس دور (pre-scientific era) میں لکھی چناں چہ یہ کتابیں قدیم روایتی اسلوب میں ہیں، نہ کہ جدید سائنسی اسلوب میں۔ تیسرا دور وہ ہے جو مغرب کے نو آبادیاتی نظام کے زمانے میں ظہور میں آیا۔ انیسویں صدی عیسوی اور بیسویں صدی عیسوی کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس تیسرے دور میں پرنٹنگ پریس وجود میں آچکا تھا اور کاغذ سازی کی جدید صنعت قائم ہو چکی تھی۔ چناں چہ اس زمانے میں ہزاروں کی تعداد میں اسلامی تعلیمات کے بارے میں کتابیں لکھی اور چھاپی گئیں۔ یہ کتابیں عربی کے علاوہ دوسری مختلف زبانوں میں تھیں۔
مگر تیسرے دور کی کتابیں بھی عملاً دوسرے دور کی کتابوں کا امتداد (extention) بن گئیں، یعنی تحریر اور استدلال کا جو روایتی اسلوب دوسرے دور میں قائم ہوا، وہی بڑی حد تک، تیسرے دور میں بھی جاری رہا۔ تیسرا دور تحریر اور استدلال کے اسلوب کے اعتبار سے وہ دور تھا جس کو سائنسی دور کہا جاتا ہے، مگر تیسرے دور کی کتابیں بھی عملاً دوسرے دور کی کتابوں میں اضافے کے ہم معنی بن گئیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ دوسرے دور میں تیار کی ہوئی کتابیں قلمی کتابیں ہوا کرتی تھیں، جب کہ تیسرے دور کی کتابیں مطبوعہ کتابوں کی صورت میں سامنے آئیں۔
شاہ ولی اللہ دہلوی اٹھارھویں صدی عیسوی کے مشہور عالم ہیں۔ ان کی وفات 1762 میں اسلامی عقلیات کے موضوع پر ان کی کتاب ’حجۃ اللہ البالغہ ایک اہم کتاب سمجھی جاتی یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حجۃ اللہ البالغہ تیسرے دور کے آغاز میں لکھی گئی ، مگر وہ پوری طرح روایتی فریم ورک کے مطابق لکھی گئی ۔ اس اعتبار سے وہ دوسرے دور ہی کی ایک تکرار تھی۔ موجودہ زمانے میں اس موضوع پر جو کتابیں لکھی گئیں، اُن میں سے ایک کتاب الجزائری عالم
شیخ محمد حسین الجسر (وفات: 1909) کی کتاب: الرّسالة الحميدية في حقيقة الدّيانة اس کتاب کو مزید اضافے کے ساتھ ان کے صاحب زادے شیخ ندیم حسین الجسر (وفات: 1980) نے شائع کیا ہے۔ اس دوسری کتاب کا نام یہ ہے: قصة الإيمان بين الفلسفة والعلم والقرآن (1961)۔ یہ کتاب پوری کی پوری فلسفیانہ پیٹرن پر لکھی گئی ہے، نہ کہ سائنٹفک پیٹرن پر۔ اس لیے وہ عصرِ حاضر میں اسلام کی ضرورت کو پورا نہیں کرتی۔ اس موضوع پر ایک اور کتاب ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938) کی ہے۔ یہ کتاب مصنف کے مختلف خطبات پر مشتمل ہے۔ وہ پہلی بار 1930 میں چھپی تھی۔ اس کتاب کا نام یہ ہے: The Reconstruction of Religious thought in Islam. ڈاکٹر اقبال کی یہ کتاب بھی فلسفیانہ پیٹرن پر لکھی گئی ہے، اس لیے اس کا معاملہ بھی سابقہ کتاب وہ عصرِ حاضر میں اسلام کی دعوتی ضرورت کو پورا نہیں کرتی۔ میرے علم کے مطابق ، غالباً صرف ایک کتاب ہے جو براہِ راست طور پر اس موضوع سے تعلق یہ کتاب اصلاً فرانسیسی زبان میں لکھی گئی تھی۔ اس کتاب کے مصنف فرانس کے ڈاکٹر موریس بکائی (Maurice Bucaille) ہیں۔ یہ کتاب پہلی بار 1975 میں شائع ہوئی۔ کتاب کا نام یہ ہے: