Al-Risala · November 2011

The Bible, the Quran, and Science

Al-Risala, November 2011, pp. 25–32

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر یہ کتاب بھی اصل ضرورت کو پورا نہیں کرتی۔ اس کتاب میں قرآن کے صرف ایک پہلو پر کچھ شواہد پیش کئے گئے ہیں ۔ وہ دینِ اسلام کا سائنسی تعارف نہیں ۔ اس اعتبار سے اس کتاب کو زیادہ سے زیادہ اسلام کی ایک جُزوی خدمت کہا جا سکتا ہے۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، راقم الحروف نے عصری اسلوب میں اسلام کے تعارف کو اپنا خصوصی میری تمام کتابیں، براہِ راست یا بالواسطہ طور پر، اسی موضوع سے متعلق ہیں۔ بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنی پوری زندگی اسی کام پر وقف کردی۔ میرے نزدیک اس

موضوع کے بنیادی طور پر دو پہلو ہیں — سائنسی اسلوب میں اسلامی تعلیمات کی تبیین، جدید علمی دریافتوں کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کو مدلّل انداز میں پیش کرنا۔

مثال کے طور پر، ’تذکیر القرآن‘ اور ’مطالعہ سیرت‘ پہلی قسم کی کتب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ’مذہب اور جدید چیلنج‘ اور ’عقلیاتِ اسلام‘ کو دوسری نوعیت کی کتابوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ تقریباً تمام کتابیں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر انھیں دونوں پہلوؤں کی مثالیں ہیں۔ سائنٹفک اسلوب کیا ہے، اس کو ایک لفظ میں، مبنی بر حقیقت اسلوب کہا جاسکتا ہے، یعنی حقیقت نگاری کا اسلوب۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے میں تصنیف و تالیف کا رواج بہت زیادہ بڑھا اور کثیر تعداد میں کتابیں شائع ہوئیں، لیکن یہ تمام کتابیں قدیم روایتی اسلوب میں تھیں۔ اسلوب میں مسجّع اور مقفّیٰ (rhymed) عبارتیں، تمثیلی استدلال، خطیبہ نہ نثر، انشائیہ اسلوب، شاعرانہ اندازِ تحریر اور ادبی طرزِ نگارش کا رواج تھا۔ یہی اسلوب موجودہ زمانے میں بھی کم وبیش جاری رہا۔ جدید دور میں سائنس کے زیرِ اثر مذکورہ اسالیب متروک ہوگئے۔ جدید سائنس، حقائق کے مطالعے کا نام تھی، اس لیے یہی اسلوب دیگر تصنیفی شعبوں میں بھی رائج ہوگیا۔ اس اسلوب کو ترتیبِ حقائق (arrangement of facts) کہا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں برٹرینڈ رسل کی کتابیں اسی سائنٹفک اسلوب کا ایک نمونہ ہیں۔ راقم الحروف نے اِسی اسلوب کو اسلام کے تعارف کے لیے اپنایا۔ جہاں تک سائنٹفک اسلوب کے دوسرے پہلو کی بات ہے، یعنی اسلام کی توضیح و تفہیم میں سائنسی دلائل کو استعمال کرنا، اس کو دوسرے لفظوں میں، اسلام کا جدید علم کلام (modern theology) بھی کہا جاسکتا ہے۔ قدیم علمِ کلام، روایتی استدلال اور یونانی منطق پر قائم تھا۔ جدید علمِ کلام وہ ہے جو سائنسی استدلال پر قائم ہو۔ سائنسی استدلال سے مراد ہے — جدید دریافت شدہ حقائق کی روشنی میں اسلام کے عقائد کو مدلّل کرنا۔

راقم الحروف نے اس اعتبار سے متعدد کتابیں تیار کیں۔ ان میں سے ایک کتاب وہ ہے جس کا اردو ٹائٹل ’مذہب اور جدید چیلنج‘ ہے۔ وہ مختلف ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں شائع ہوچکی ہے۔ عربی زبان میں اس کا

ٹائٹل ’الاسلام یتحدی‘ ہے۔ اور انگریزی زبان میں اس کا ٹائٹل گا ڈار ائز ز (God Arises) ہے۔ سائنس کی جدید دریافتوں کی بنیاد پر کلامیاتی استدلال کی ایک مثال وہ ہے جس کو ضابطۂ نا کارگی (Law of entropy) کہا جاتا ہے۔ اس دریافت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادی کائنات ازلی نہیں ہوسکتی۔ قدیم یونانی فلاسفہ مادہ (matter) کو قدیم مانتے تھے۔ اس کے زیر اثر مسلم فلسفی ابنِ رشد (وفات: 1198ء) نے مادہ کو قدیم مان لیا۔ مگر مادہ کی قدامت کا نظریہ اسلامی عقیدے سے ٹکراتا ہے۔ کیوں کہ اس کے مطابق، خدا اور مادہ دونوں قدیم ہو جاتے ہیں، جب کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق، خدا قدیم اور ازلی ہے، اور مادہ بعد کی تخلیق۔ یہ جدید دریافت اسلامی عقیدے کے حق میں سائنسی تصدیق (scientific affirmation) کی حیثیت رکھتی ہے۔ ضابطۂ نا کارگی کے قانون کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ’مذہب اور جدید چیلنج‘ کے باب ’’کائنات میں خدا کی گواہی‘‘ کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔

اوپر کی بات نظریاتی اعتبار سے ذہنی فریم ورک سے تعلق رکھتی ہے۔ اب اس معاملے کے دوسرے پہلو کو لیجیے، یعنی وہ مسئلہ جس کو عملی فریم ورک کہا جا سکتا ہے۔ اس دوسرے معاملے میں مسلمان موجودہ زمانے میں اتنے اجنبی ہو گئے ہیں کہ موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ لوگوں کو وہ آج کی دنیا کے لیے ناموزوں (misfit) نظر آتے ہیں۔

اس کا سبب کیا ہے۔ میرے مطالعے کے مطابق، اس کا سبب دوبارہ یہ ہے کہ اس معاملے میں بھی دوسرے دور کا فریم ورک تیسرے دور میں بھی بدستور جاری رہا۔ حالاں کہ تیسرے دور میں ضرورت تھی کہ اس پہلو سے قدیم ڈھانچے پر نظر ثانی کی جائے اور اس کو جدید مسلم ڈھانچے کے مطابق بنایا جائے۔ نظر ثانی کا تعلق عقائد میں نظر ثانی سے نہیں ہے، بلکہ منہاج (method) میں نظر ثانی سے ہے۔ عقائد ہمیشہ ابدی ہوتے ہیں، ان میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ مگر منہاج (method) کا تعلق حالات سے ہے۔ فقہ کا مسلمہ اصول اسی منہاج کے پہلو سے ہے۔ وہ فقہی اصول یہ ہے کہ: تتغیر الأحكام بتغيّر الزمان والمكان (زمان اور مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں)۔

مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بار بار مخالف گروپ کی طرف سے قتال کا چیلنج پیش آیا، مگر آپ نے اس کے جواب میں مختلف رویہ اختیار کیا۔

مثال کے طور پر کی حالات میں آپ نے ہجرت کا طریقہ اختیار فرمایا، یعنی ٹکراؤ کے مقام کو غزوہ احزاب کے موقع پر آپ نے خندق (trench) کا طریقہ اپنایا، یعنی اپنے اور مخالف کے درمیان یک حاجز (buffer) قائم کر دینا۔ اسی طرح حدیبیہ کے موقع پر آپ نے ٹکراؤ سے اعراض کرنے کے لیے فریق مخالف کی ایک طرفہ شرطوں کو قبول کرتے ہوئے اُن سے صلح کرلی، وغیرہ۔ جمہوریت (democracy) کا تعلق عملی معاملات سے ہے۔ اور اجتماعی نوعیت کے مشترک معاملات میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں جو صورت حال پیش آتی ہے، وہ نہ خیر مطلق ہوتی ہے اور نہ شر مطلق، بلکہ اُن میں دونوں قسم کے پہلو شامل رہتے ہیں۔ اس لیے اس طرح کے کسی معاملے کو آئیڈیل کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ عملی افادیت کے نقطہ نظر سے دیکھنا چاہیے۔ اس طرح کے کسی معاملے میں بہترین اصول یہ ہے کہ مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو: Ignore the problems, avail the opportunities. موجودہ زمانے میں مسلم رہنماؤں نے قربانی کی حد تک غیر معمولی سرگرمیاں دکھائیں، لیکن ان سرگرمیوں کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ رہنما اپنی سرگرمیوں میں مذکورہ حکمت کو ملحوظ نہ رکھ سکے۔ وہ ہر جگہ مسائل سے ٹکراتے رہے، اور مبنی بر مواقع منصوبہ بندی (opportunity-based planning) کا طریقہ اختیار کرنے میں ناکام رہے۔

پچھلے دو سو سال کے درمیان مسلم دنیا میں جو سرگرمیاں جاری رہی ہیں، ان کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ اس پوری مدت میں مسلم رہنما ٹکراؤ کے اصول پر عمل کرتے رہے۔ ہر مقام پر انھوں نے ایک مسئلہ (problem) دریافت کیا اور اس پرابلم سے ٹکرانے میں اپنی ساری طاقت صرف کردی۔ اُن کی سوچ یہ تھی کہ جب تک یہ پرابلم ختم نہ ہو، اُس وقت تک کوئی مثبت کام نہیں کیا جاسکتا۔ یہودی پرابلم، کہیں برٹش پرابلم، کہیں امریکن پرابلم، کہیں نو آبادیاتی پرابلم، کہیں ہندو پرابلم، کہیں ظالم

حکومت کا پرابلم، کہیں کوئی اور پرابلم، یہی ہر جگہ مسلم رہنماؤں کا نشانہ عمل بنار ہا۔ اس طریق کار کی بنیادی غلطی یہ تھی کہ وہ خدا کے تخلیقی نقشے کے خلاف تھا۔ خدا نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، موجودہ دنیا میں انسان کو مکمل آزادی عطا فرمائی ہے۔ انسان کو اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرنے کا بھی اختیار ہے، اور اس کو یہ بھی اختیار ہے کہ وہ اپنی خداداد آزادی کو غلط طور پر استعمال انسان کی اس آزادی کو صرف قیامت منسوخ کرے گی۔ اس سے پہلے کوئی شخص اس کو منسوخ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ موجودہ دنیا کے تمام مسائل اسی انسانی آزادی کے غلط استعمال سے پیدا چوں کہ ہم انسان کی آزادی کو منسوخ نہیں کر سکتے، اس لیے ہم یہ بھی نہیں کر سکتے کہ اُن چیزوں کو دنیا سے ختم کر دیں جن کو ہم اپنے لیے قومی یا سیاسی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ خدا کے قائم کردہ اس تخلیقی نقشے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں ہمارے لیے جو انتخاب (choice) ہے، وہ صحیح (right) اور غلط (wrong) کے درمیان نہیں ہے، بلکہ یہ انتخاب چھوٹے شر (lesser evil) اور بڑے شر (greater evil) کے درمیان ہے۔ کسی صورت حال میں ہمارے عمل کی منصوبہ بندی اس تصور کے تحت نہیں ہو سکتی کہ ہم یہ دیکھیں کہ اصولی اعتبار سے درست کیا ہے اور نا درست کیا ، اور پھر جو چیز ہمیں اصولی طور پر درست نظر آئے، اس کو حاصل کرنے کے لیے ہم پر شور جد و جہد شروع کر دیں ۔ کے بجائے یہ ہونا چاہیے کہ ہم یہ دیکھیں کہ عملی اعتبار سے جو دو انتخاب ہمارے لیے ممکن ہیں ، اُن میں سے کون سا انتخاب اہون (easier) ہے اور کون ساغیر اہون (non-easier)۔ اسی اصول کو فقہ میں اهون البليتين کہا جاتا ہے، یعنی دو مصیبتوں میں سے آسان (easier) مصیبت۔

یہ فطرت کا اصول ہے۔ اس اصول کو اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہر صورت حال میں آدمی کو بلا تاخیر اپنے عمل کے لیے ایک نتیجہ خیز نقطه آغاز (starting point) مل جاتا ہے، اور کسی صورت حال میں حقیقی نقطہ آغاز کا ملنا کامیابی کی یقینی ضمانت ہے۔ اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کسی مزید نقصان میں مبتلا ہوئے بغیر نتیجہ خیز عمل شروع کر دیتا ہے اور آخر کار وہ اپنے مطلوب تک پہنچ جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ منہاج کے

معاملے میں نئے ماڈل کو اختیار کیا جائے۔ یہ ماڈل اصولی طور پر نتیجہ (result) کی بنیاد پر ہوگا، یعنی جو ماڈل اسلام کے لیے بہ اعتبار نتیجہ مفید ہو، اس کو اختیار کرنا اور اُس ماڈل کو چھوڑ دینا جو نتیجے کے اعتبار سے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہونے والا ہو۔

اس اعتبار سے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ جدید جمہوری ماڈل کو اختیار نہ کر سکے۔ وہ جدید جمہوری نظام میں بھی قدیم حاکمانہ ماڈل پر قائم رہنا چاہتے ہیں، حالاں کہ جدید حالات میں عملاً یہ ممکن ہی نہیں۔ اس قسم کے اصرار کا نتیجہ صرف دو صورتوں میں برآمد ہوگا۔ مسلمان ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کریں جو بلاشبہ خود کشی کے ہم معنی ہے، یا پھر وہ منافق بن جائیں، یعنی اپنی ذہنی سوچ کے اعتبار سے وہ حاکمانہ ماڈل کو اپنائے ہوئے ہوں اور عملی اعتبار سے مصلحت کا انداز اختیار کر کے وہ اپنے مادی مفاد کو بچانے کی کوشش کریں۔

اس معاملے میں تفصیلی مطالعے کے بعد میں نے کئی کتابیں لکھیں۔ میں نے اپنی کتابوں میں بتایا کہ جمہوری ماڈل اگرچہ بہ ظاہر ایک نیا ماڈل ہے، لیکن اُس میں اور اسلام کی حقیقی تعلیمات میں کوئی ہم اپنی اسلامی حیثیت کو پوری طرح باقی رکھتے ہوئے جمہوری نظام میں اپنے آپ کو شامل کر سکتے ہیں۔ یہاں میں چند مثالوں کی روشنی میں اس کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔ موجودہ زمانے میں جن چیزوں کی بنا پر اسلام کے بارے میں یہ عالمی تاثر قائم ہو گیا ہے کہ اسلام جدید حالات کا ساتھ نہیں دیتا، اسلام جدید دور کے لیے ایک غیر متعلق مذہب ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی قومی روش کی بنا پر قائم ہوا ہے، نہ کہ اسلام کی اصل تعلیمات کی بنا پر۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے رسول کی شان میں ’’گستاخی‘‘ کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اپنے مذہبی عقیدے کی بنا پر ان کے اوپر فرض ہے کہ وہ ایسے انسان کو قتل کر ڈالیں۔ مسلمانوں کا یہ نظریہ دورِ جدید کے تصورات سے ٹکراتا ہے۔ کیوں کہ موجودہ زمانے کا یہ مسلمہ ہے کہ ہر شخص کو پر امن اظہارِ رائے کی آزادی ہے۔ اس آزادی کو کسی بھی حال میں ساقط نہیں کیا جاسکتا۔ مگر یہ ٹکراؤ جدید دور اور مسلم تصورات کے درمیان ہے، نہ کہ جدید دور اور اصل

اسلامی تعلیمات کے درمیان۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں بھی اظہار خیال کی آزادی اسی کامل درجے میں دی گئی ہے جس کو جدید دور کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ اس معاملے کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ’شتم رسول کا مسئلہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔

یہی معاملہ سیکولرازم کا ہے۔ موجودہ زمانے میں سیکولرازم کو اسٹیٹ پالیسی کا معیاری ماڈل سمجھا جاتا ہے۔ مگر موجودہ زمانے کے اسلام پسند مسلم رہنماؤں نے یہ اعلان کیا کہ سیکولرازم، اسلام کے سراسر خلاف ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم سیکولر نظام کے خلاف لڑ کر اس کا خاتمہ کریں۔ لیکن یہ ٹکراؤ بھی جدید دور اور مسلمانوں کے درمیان ہے، نہ کہ جدید دور اور اسلام کے درمیان۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام خود بھی مشترک سماج کے لیے اسی طرح سیکولر پالیسی کا حامی ہے، جس طرح جدید دور میں سمجھا اس مسئلے کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ’دین کامل میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اسی طرح کا ایک معاملہ وہ ہے جو جمہوریت (democracy) سے تعلق رکھتا ہے۔ زمانے کے اسلام پسند مسلم لیڈروں نے اعلان کیا کہ جمہوریت ایک غیر اسلامی نظریہ ہے، اس لیے وہ مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ دوسری طرف، جدید تعلیم یافتہ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ جمہوریت کا ماڈل سب سے بہتر سیاسی ماڈل ہے۔ مگر یہ ٹکراؤ بھی جدید ذہن اور موجودہ مسلمانوں کے درمیان ہے، نہ کہ جدید ذہن اور اصل اسلام کے درمیان۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام خود بھی سیاسی تنظیم کے لیے جمہوری طریقے کا حامی ہے۔ اسلام میں تھیا کریٹک اسٹیٹ (theocratic state) کا تصور نہیں۔ طور پر جمہوری نظام کا قائل ہے، یعنی عوام کی رائے کے مطابق، سیاسی نظام کی تشکیل۔ اس موضوع کی وضاحت میں نے اپنی مختلف کتابوں میں کی ہے۔ مثلاً فکر اسلامی اور ’مسائل اجتہاد وغیرہ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تک عقیدہ اور عبادت کا تعلق ہے، اس معاملے میں اسلام کی تعلیمات مطلق حکم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن جہاں تک اجتماعی نظام کا معاملہ ہے، اس کا کوئی مطلق معیار نہیں۔ اجتماعی نظام کا معاملہ عوام کی اجتماعی صورتِ حال پر منحصر ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: كما تكونون كذلك يؤمر عليكم (البيهقي، رقم الحديث : 6896) یعنی

جیسے تم ہوگے، ویسے ہی تمھارا حکومتی نظام ہوگا۔

اجتماعی نظام کے معاملے میں اسلام کا اصول اس پر مبنی ہے کہ عوام یا معاشرہ کی استعدادِ قبولیت کس درجے کی ہے۔ عوام کے اندر جن اجتماعی احکام کی قبولیت کی استعداد ہوگی، اُن کو آغاز میں نافذ کیا جائے گا، لیکن جن احکام کی قبولیت کی استعداد عوام کے اندر موجود نہ ہوگی، اُن احکام کی تنفیذ کا آغاز خود قانون کے نفاذ سے نہ ہوگا، بلکہ ذہن سازی کے عمل سے ہوگا۔ اسلام کے اس اصول کو تدریج کا اصول کہہ سکتے ہیں، یعنی عوام کی استعداد کے مطابق، احکام کا تدریجی نفاذ، نہ کہ ان کا بہ یک وقت نفاذ۔ موجودہ دنیا چوں کہ امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے، اس لیے یہاں انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ یہ آزادی خود خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق ہے، اس لیے کوئی بھی طاقت اس کو منسوخ نہیں کر سکتی۔ تجربہ ہے کہ انسان زیادہ تر اس آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اسی بنا پر ایسا ہوا کہ تاریخ میں کبھی معیاری نظام نہ بن سکا، اور نہ آئندہ اس کا کوئی امکان ہے۔ مومن اور غیر مومن دونوں مجبور ہیں کہ اس غیر معیاری دنیا میں وہ اپنی زندگی کا نقشہ بنائیں۔ اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ — اس دنیا میں معیار کبھی حاصل نہیں ہو سکتا:

Printed page