شکایت کے بجائے اصلاح
Al-Risala, November 2011, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مسلمان تاجر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے بچھڑے پن کی میں نے پوچھا کہ اس کا سبب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا سبب امتیاز انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ ہر شعبہ میں امتیاز برتا جاتا ہے، اسی لیے وہ ابھی تک ترقی نہ کر سکے۔ میں نے پوچھا کہ آپ ایک تاجر ہیں، لیکن آپ کے یہاں جتنے کارکن ہیں، وہ سب ہندو ہیں، مسلمان نہیں۔ میں نے پوچھا کہ پھر آپ خود مسلمانوں کے ساتھ کیوں امتیاز برتتے انھوں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ ہندوؤں میں پروفیشنل ازم (professionalism) ہے، جب کہ مسلمانوں کے اندر پروفیشنل ازم نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کی جس کمی کی بنا پر، آپ مسلمانوں کے ساتھ ’’امتیاز‘‘ برتتے ہیں، اُسی کمی کی بنا پر اگر دوسرے لوگ مسلمانوں کے ساتھ امتیاز برتیں تو آپ کو شکایت کا کیا حق۔
میں نے کہا کہ آپ دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے یہ کیجئے کہ مسلمانوں کی خود اپنی کمی کو دور کیجئے، اس کے بعد یہ مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس کی صورت کیا ہے۔ نے کہا کہ یہ سوچ کو درست کرنے کا معاملہ ہے۔ آپ صرف یہ کیجئے کہ تعمیر فکر کے موضوع پر ہماری پانچ کتابیں بڑی تعداد میں خرید کر مسلمانوں میں پھیلا دیجئے۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ ان شاء اللہ مسلمانوں کی حالت بدل گئی ہے۔ وہ پانچ کتابیں یہ ہیں — راز حیات، رہنمائے حیات، تعمیر حیات، حکمتِ اسلام، کتاب زندگی۔
مقابلے کی اس دنیا میں کامیابی اور ناکامی دونوں کا تعلق آدمی کی اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ لیاقت(competance) کا ثبوت دینے والا آدمی اس دنیا میں کامیاب ہوتا ہے۔ مگر جو شخص لیاقت کا ثبوت نہ دے سکے، اس کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ اس دنیا میں ناکام ہو کر رہ جائے۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہیے کہ وہ شکایت غیر میں وقت ضائع نہ کرے، بلکہ وہ ہمہ تن تعمیر خویش میں لگ جائے۔