سوال و جواب
Al-Risala, November 2011, pp. 36–40
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوتی کام کے دوران بعض لوگوں کی طرف سے مختلف قسم کے سوالات آتے ہیں۔ طرح کے چند سوالات درج کئے جاتے ہیں۔ براہِ کرم، ان کا جواب دے کر ممنون فرمائیں (حافظ ابو الحکم محمد دانیال، بی ایس سی، پٹنہ، بہار)
سوال : دعوت الی اللہ کے کام کی مؤثر انجام دہی کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں۔ اور عملی شہادت، یعنی دعوت کے نکات کا نظری بیان (theoratical statement) اور دعوت کے نکات کا عملی مظاہرہ (practical demonstration)۔ کسی دعوتی مہم میں جب تک ایسا نہ کیا جائے کہ قولی شہادت کے ساتھ عملی شہادت کو جمع کر دیا جائے، اُس وقت تک وہ دعوت مکمل دعوت نہ ہوگی اور اُس سے اتمام حجت کا فائدہ حاصل نہ ہو سکے گا۔
جواب: قرآن کے مطابق، دعوت الی اللہ کا کام اصلاً انذار و تبشیر (165 : 4) کا کام ہے۔ انذار و تبشیر کا یہ کام ہمیشہ قول کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ تمام انمیا، بشمول خاتم الانبیا نے قول کی سطح پر دعوت کا کام انجام دیا اور اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔
دعوت الی اللہ کے نکات کیا ہیں۔ وہ نکات ہیں۔ توحید، وحی، ملائکہ، محاسبہ آخرت، جنت، یہی دعوت کے اصل نکات ہیں، اور یہ سب کے سب امورِ غیب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان نکات کو مشہود بنانا یا اُن کا عملی مظاہرہ (practical demonstration) کرنا سرے سے ممکن ہی ایسی حالت میں عملی شہادت کو دعوت کا جز بنانا تکلیف مالا یطاق کے ہم معنی ہے، یعنی داعی پر ایک ایسے کام کی ذمہ داری ڈالنا جو عملاً اس کے لیے ممکن ہی نہیں۔
سوال: حدیث میں آتا ہے کہ: الأئمة من قريش (مصنف ابن أبي شيبة، رقم: 31710) یعنی امام قریش میں سے ہوں گے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قیادت کا کام قریش کا کام ہے۔ میں دعوت الی اللہ کے کام کا استثنا نہیں۔ اس حدیث کے مطابق، ہمارا پہلا کام یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کے کام کو انجام دینے کے لیے ہم ایک قریشی گائیڈ مقرر کریں اور اس کی ماتحتی میں دعوت الی اللہ کا کام کریں۔
جواب: مذکورہ حدیث کا یہ مطلب لینا درست نہیں۔ یہ حدیث ایک وقتی مصلحت کو بتاتی ہے، وہ کسی عمومی اسلامی حکم کا بیان نہیں۔ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: لا فضل لعربي على عجمي، ولا لعجمي على عربي، ولا لأحمر على أسود، ولا لأسود على أحمر، إلا بالتقوى (مسند أحمد، رقم الحديث: 22872) یعنی نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، اور نہ ہی کسی گورے کو کالے پر اور نہ ہی کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت ہے، سوا تقویٰ کے۔ الأئمة من قريش کا اگر وہ مطلب لیا جائے جو سائل نے لیا ہے تو دونوں حدیثوں میں تضاد واقع ہو جائے گا۔ اس لیے حدیث کا مذکورہ مفہوم لینا درست نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ حدیث صرف ایک وقتی مصلحت کو بتاتی ہے، نہ کہ شریعت کے کسی دائمی اصول کو۔ وہ مصلحت یہ ہے کہ سیاسی عہدے کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ایسے شخص کو عہدے دار بنایا جائے جس کے ساتھ قیادت کی روایات قدیم زمانے میں مخصوص اسباب کی بنا پر قبیلہ قریش کو عرب میں قیادت کا درجہ مل گیا تھا۔ اُس زمانے کے اہل عرب صرف قریش کی قیادت کو قبول کر سکتے تھے، کسی اور کی قیادت کو نہیں۔ الأئمة من قريش کی اس تاویل کی تائید ایک اور روایت سے ہوتی ہے۔ روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الناس تبع لقريش (صحیح مسلم، رقم الحديث: 1818) یعنی اہل عرب، قریش کے تابع ہیں۔ قریش کی قیادت کو وہ بہ آسانی قبول کر لیں گے، کسی اور کی قیادت کو قبول کرنا عربوں کے لیے عملاً ممکن نہیں۔ سوال: امت کے مختلف حلقے الگ الگ جو کام کر رہے ہیں، اُن سب کو یکساں طور پر درست مانتے ہوئے ان کا اعتراف کرنا چاہئے۔ ہر حلقہ کو صرف اپنا کام کرنا چاہئے۔ اُس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ دوسروں کے کام یا اُن کی فکر پر تنقید کرے۔
جواب: ہر فرقے کو درست ماننا اور اُس پر تنقید نہ کرنا، یہ کوئی صحیح مسلک نہیں۔ اس قسم کا مطالبہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ امت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حکم کو عملاً مستقل طور پر منسوخ کر دیا جائے۔ صحیح مسلک یہ ہے کہ تنقید کو صرف دلائل پر مبنی ہونا چاہئے، نہ کہ عیب جوئی اور الزام تراشی پر۔
جو چیز ممنوع ہے، وہ تشدد ہے۔ تنقیص (عیب جوئی) انفعالی تشدد (passive violence) ہے، اور جارحیت (agression) عملی تشدد (active violence)، اور یہ دونوں قسم کا تشدد اسلام میں حرام اگر تنقید (علمی تحلیل و تجزیہ) کو غلط قرار دیا جائے تو عمر بن عبدالعزیز سے لے کر آج تک کے تمام علماء کو غلط قرار دینا پڑے گا، کیوں کہ یہ ایک واقعہ ہے کہ علماء امت کا ہمیشہ یہ طریقہ رہا ہے کہ جس چیز کو انھوں نے قرآن اور سنت کی روشنی میں غلط سمجھا، اس کو انھوں نے کھل کر غلط قرار دیا۔ سوال: دعوت الی اللہ کا کام امت کو ساتھ لے کر ہی ہو سکتا ہے۔ داعی اگر امت کے درمیان خوش نام نہ رہے تو امت اس کا ساتھ نہیں دے گی، اور داعی کو اگر امت کی حمایت حاصل نہ رہے تو دعوت کا کام موثر طور پر انجام دینا ممکن نہیں، اس لیے داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ امت کے مزاج کی رعایت کرتے ہوئے کام کرے۔ اگر کوئی داعی، امت کے درمیان نیک نام نہ رہے تو جو لوگ ایسے داعی کا ساتھ دیں گے، وہ بھی موثر دعوت کا کام کرنے میں ناکام رہیں گے۔
جواب: اس سوال کے جواب میں، میں دو باتیں کہوں گا— ایک، یہ کہ دعوت کا کام اللہ کا کام وہ صرف اللہ کی نصرت سے انجام پاتا ہے۔ نصرت الہی کے سوا کوئی اور چیز دعوت الی اللہ کے کام کو کامیابی تک پہنچانے والی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی حمایت پر بھروسہ کرنا اپنی نوعیت کے اعتبار سے شرک کا درجہ رکھتا ہے۔ قرآن میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ دعوت کا کام خدا کی توفیق پر چلتا ہے، نہ کہ کسی غیر خدا کی توفیق پر۔ اس دنیا میں اللہ کے سوا کسی کو سرے سے یہ طاقت ہی حاصل نہیں کہ وہ کسی کام کو کامیاب یا نا کام کر سکے۔
قرآن کے مطابق، داعی کے اندر جو صفات مطلوب ہیں، وہ صرف دو ہیں— ہیں—نُصح اور امانت (إني لكم نُصح کا مطلب یہ ہے کہ داعی کسی بھی قسم کے ذاتی یا قومی مفاد کے بجائے صرف مدعو کی خیر خواہی کے لیے کام کرے۔ امانت کا مطلب یہ ہے کہ داعی اپنی کوئی بات دعوت میں شامل نہ کرے، وہ صرف اُس چیز کا مبلغ بنے جو اللہ نے اپنی کتاب میں بتائی ہے۔ داعی کے لیے کسی اور مصلحت کا اعتبار کرنا، رکون (11:113) ہے، اور رکون داعی کے لیے صرف ایک غیر مطلوب صفت ہے، وہ کوئی مطلوب صفت نہیں۔
اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ آج ہم امت کے مابعد زمانے میں ہیں۔ امت کے مابعد زمانے کے بارے میں کثرت سے حدیثیں آئی ہیں، جن میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ بعد کے زمانے میں امت عمومی طور پر دینی انحراف کا شکار ہو جائے گی۔ چناں چہ احادیث میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب امت پر ایسا وقت آ جائے تو اُس وقت ضرورت ہوگی کہ امت کے اندر اصلاح اور تجدید کا کام کیا جائے۔ اس حقیقت کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ بعد کے زمانے میں امت کی حیثیت بھی دوسرے مدعو گروہوں کی طرح ایک مدعو گروہ کی ہو جائے گی۔ اور یہ واضح ہے کہ جب امت خود ایک مدعو گروہ کی حیثیت اختیار کر لے تو اُس وقت اصل کام امت کی حمایت کرنا نہیں رہتا، بلکہ اصل کام یہ ہوتا ہے کہ امت کو دوبارہ اصل دین خداوندی پر لایا جائے۔ انحراف کے اس مرحلے میں، امت کے مزاج کی رعایت کرنا، امت کی اصلاح کے کام کو معطل کرنے کے ہم معنی ہے جو یقینی طور پر درست نہیں۔ سوال: دعوت الی اللہ یہ ہے کہ علماءِ متقدمین کی قدیم اسلامی کتابوں کو لوگوں تک پہنچایا قدیم کتابوں کے ترجمے دوسری زبانوں میں کئے جائیں۔ قدیم کتابیں پہلے بھی دین کی تبیین کے لیے کافی تھیں اور آج بھی وہ دین کی تبیین کے لیے کافی ہیں۔ دعوت الی اللہ کے کام کے لیے ہمیں کسی نئے دعوتی لٹریچر کی ضرورت نہیں۔
جواب: دین کی خدمت کے لیے دو قسم کا لٹریچر مطلوب ہے۔ ایک، وہ کتاب جس میں دینی احکام کا بیان ہو۔ دوسری کتابیں وہ ہیں جن کو داعی اپنے معاصر ذہن کو خطاب کرنے کے لیے استعمال جہاں تک پہلی ضرورت کا تعلق ہے، اُس کے لیے قدیم کتب مفید ہیں۔ دین کی اساسی تعلیمات کو جاننے کے لیے علماءِ متقدمین کی کتابیں بلاشبہ پہلے ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ میں دوسرا کوئی بھی لٹریچر ان کتابوں کا بدل نہیں بن سکتا۔
مگر دعوت الی اللہ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ دعوت کے عمل میں صرف یہ مطلوب نہیں ہوتا کہ احکام دین کو اپنی ابتدائی شکل میں بیان کر دیا جائے، بلکہ اس مقصد کے لیے لازمی طور پر یہ ضروری ہوتا ہے کہ مدعو کے ذہن کو سمجھا جائے اور مدعو کے قابلِ فہم اسلوب میں اس کو بیان کیا جائے۔
دعوتی ضرورت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وقل لھم فی أنفسھم قولاً بلیغاً (63 : 4) یعنی تم اُن سے ایسی بات کہو جو اُن کے دلوں میں اتر جائے۔
مثال کے طور پر مدعو اگر عقلی اور منطقی اسلوب میں بات کو سمجھنا چاہتا ہو تو اس کے لیے تمثیلی اسلوب غیر مؤثر ہوگا۔ اِس طرح کے کیس میں داعی کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ تمثیلی اسلوب کے بجائے عقلی اور منطقی اسلوب میں اپنی بات کہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ مکمل طور پر بدلا ہوا زمانہ ہے۔ قدیم دور اگر روایتی اسلوب کا دور تھا تو جدید دور سائنٹفک اسلوب کا دور ہے۔ ایسی حالت میں، آج کے انسان کے سامنے مؤثر طور پر دین کا پیغام پہنچانے کے لیے یقینی طور پر ضروری ہے کہ جدید ذہن کی رعایت سے مثبت لٹریچر تیار کیا جائے۔ اور اگر کسی نے اِس طرح کا لٹریچر تیار کیا ہے تو اُس کو کسی تعصب کے بغیر استعمال کیا جائے ۔ اس معاملے میں ان دو کے سوا کوئی تیسری صورت ممکن نہیں۔
کشمیر میں رسالہ اور مطبوعاتِ حاصل کرنے کے لیے حسب ذیل پتے پر رابطہ کریں : ں مِس امنانِ روردگار زِمانہ مِں سَب سے جَدِید دَریافْت ہے ۔
بجنور (یوپی) میں رسالہ اور مطبوعاتِ الرسالہ حاصل کرنے کے لیے اس پتے پر رابطہ کریں: میں ایک رسالہ منگوانا چاہتا ہوں (پتہ نیچے ہے)