Working for Time was always on my wish list.
Al-Risala, December 2011, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر آدمی کسی چیز کو سب سے بڑی چیز سمجھتا ہے، وہ اس کی تمنا میں جیتا ہے، وہ اس کا خواب دیکھتا ہے، وہ اس انتظار میں رہتا ہے کہ کب وہ دن آئے جب کہ وہ اپنی اس محبوب چیز کو پالے۔ یہ چیز اس کی فہرست آرزو میں سب سے زیادہ اہمیت کے ساتھ درج ہوتی ہے۔ موجودہ دنیا میں کوئی بھی ایسا آدمی نہیں جس کے لیے کوئی نہ کوئی چیز اس طرح مرکز تمنا بنی ہوئی نہ ہو۔
مومن وہ ہے جس نے جنت کو اپنی فہرست آرزو (wish list) میں لکھ رکھا ہو، یعنی ابدی اور معیاری نعمتوں کی وہ دنیا جہاں وہ اپنے رب کو دیکھے گا، جہاں سچے انسانوں سے اس کی ملاقات ہوگی، جہاں وہ خدا کی رحمتوں کے سائے میں زندگی گزارے گا، وہ دنیا جو لغو اور تاثیم (25 :56) سے پاک ہوگی، جہاں صخب (شور) اور نصب (تکان) کو ختم کر دیا جائے گا، جس کا ماحول چاروں طرف حمد اور سلامتی سے بھرا ہوا ہوگا (26 :56)، جہاں خوف اور حزن (34 :35) کو حذف کیا جا چکا ہوگا، جہاں ایسی آزادی ہوگی جس پر کوئی قید نہیں (20 :76)، جہاں ایسی لذتیں ہوں گی جن کے ساتھ محدودیت (limitations) شامل نہیں۔